Jump to content

Recommended Posts

Posted

Tujh per b afsoon daher ka- Chal jaye ga akhir

تجھ پر بھی فسوں دہر کا ــ چل جائے گا آخر
دُنیا کی طرح تو بھی ــ بدل جائے گا آخر

پھیلی ہے ہر اِک سمت ـ ـ ـ حوادث کی کڑی دُھوپ
پتھر ہی سہی ــ وہ بھی پگھل جائے گا آخر

اَے میرے بدن ـ ـ ـ رُوح کی دولت پہ نہ اِترا
یہ تیر بھی ــ ترکش سے نکل جائے گا آخر

وہ صُبح کا تارہ ہے ـ ـ ـ تو پھر ماند بھی ہو گا
چڑھتا ہُوا سُورج ہے ــ تو ڈھل جائے گا آخر

دِل تُجھ سے بچھڑ کر بھی ـ ـ ـ کہاں جائے گا اَے دوست ؟
یادوں کے کھلونوں سے ــ بہل جائے گا آخر

آوارہ و بدنام ہے محسن ـ ـ ـ تو ہمیں کیا؟؟
خُود ٹھوکریں کھا کھا کے ــ سنبھل جائے گا آخر

شاعر: محسن نقوی

cemetery-grave-monument-statue-gothic-da

 

Posted

کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ لہو کی ساری تمازتیں
تمہیں دھوپ دھوپ سمیٹ لیں
تمہں رنگ رنگ نکھار دیں
تمہیں حرف حرف میں سوچ لیں
تمہیں دیکھنے کا جو شوق ہو
تو دیارِ ہجر کی تیرگی کو
مِژہ کی نوک سے نوچ لیں
کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کہ دل و نظر میں اُتر سکو
کبھی حد سے حبسِ جنوں بڑھے 
تو حواس بن کے بکھر سکو
کبھی کھِل سکو شبِ وصل میں
کبھی خونِ جگر میں سنور سکو
سرِ رہگزر جو ملو کبھی
نہ ٹھہر سکو، نہ گزر سکو
مرا درد پھر سے غزل بنے
کبھی گنگناؤ تو اس طرح
مرے زخم پھر سے گلاب ہوں
کبھی مسکراؤ تو اس طرح
مری دھڑکنیں بھی لرز اٹھیں
کبھی چوٹ کھاؤ تو اس طرح
جو نہیں تو پھر بڑے شوق سے
سبھی رابطے، سبھی ضابطے
کسی دھوپ چھاؤں میں توڑ دو
نہ شکستِ دل کا سِتم سہو
نہ سنو کسی کا عذابِ جاں
نہ کسی سے اپنی خلش کہو
نہ اُجڑ سکیں ،نہ سنور سکیں
کبھی دل دُکھاؤ تو اس طرح
نہ سمٹ سکیں ، نہ بکھر سکیں
کبھی بھول جاؤ تو اس طرح
کسی طُورِ جاں سے گزر سکیں
کبھی یاد آؤ تو اس طرح
کبھی یاد آؤ تو اس طرح
 محسن نقوی

Posted

حجاب و عظمت سے ازن لے کر میں شان بنت رسول لکھوں

قلم کے اوپر نقاب دے کر ادب سے لفظ بتول لکھوں

  • 4 weeks later...
Posted

لہو سے دل کبھی چہرے اجالنے کے لئے
میں جی رہا ہوں اندھیروں کو ٹالنے کےلئے

اتر پڑے ہیں پرندوں کے غول ساحل پر
سفر کا بوجھ سمندر میں ڈالنے کےلئے

سخن لباس پہ ٹھہرا تو جوگیوں نے کہا
کہ آستیں ہے فقط سانپ پالنے کےلئے

میں سوچتا ہوں کبھی میں بھی کوہکن ہوتا
ترے وجود کو پتھر میں ڈھالنے کے لئے

کسے خبر کہ شبوں کا وجود لازم ہے
فضا میں چاند ستارے اچھالنے کےلئے

بہا رہی تھی وہ سیلاب میں جہیز اپنا
بدن کی ڈوبتی کشتی سنبھالنے کےلئے

وہ ماہتاب صفت' آئینہ جبیں محسن
گلے ملا بھی تو مطلب نکالنے کےلئے

 

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.