Jump to content
  • entries
    159
  • comments
    345
  • views
    75,659

About this blog

Welcome All

Entries in this blog

Akailay pan ki udasian

ﺗﻢ ﺑﻦ ﺟﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﮐﯿﺴﮯ ﯾﮧ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﭘﻦ ﮐﯽ ﺍﺩﺍﺳﯿﺎﮞ ﯾﮧ ﻓﺮﺍﻕ ﻟﻤﺤﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ ﮐﺒﮭﯽ ﺩﺷﺖِ ﺩﻝ ﭘﮧ ﺁ ﺭﮐﯿﮟ ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺤﺎﺏ ﺳﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﺗﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ﻋﺰﯾﺰﺗﺮ ﻣﯿﮟ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ ﻟﻮﮞ ﺍﺟﻨﺒﯽ ﺗﯿﺮﯼ ﺑﺎﺕ ﻟﮕﺘﯽ ﮨﮯ ﻭﮨﻢ ﺳﯽ ﺗﯿﺮﮮ ﻟﻔﻆ ﻟﮕﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺟﻮ ﻣﯿﺮﺍ ﺭﻧﮓ ﻭ ﺭﻭﭖ ﮨﮯ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﺑﮯ ﺳﺒﺐ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺩﻭﺳﺘﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﺳﮯ ﮨﯿﮟ ﺳﻠﺴﻠﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﺴﺒﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮔﻼﺏ ﺳﮯ ﺍﺳﮯ ﺟﯿﺘﻨﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮨﻤﻨﺸﯿﮟ ﯾﻮﻧﮩﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺳﮯ ﻧﮧ ﮐﺎﻡ ﻟﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﭼﺎﻧﺪ ﻻﮐﮯ ﺟﺒﯿﮟ ﭘﮧ ﺭﮐﮫ ﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﮔﮩﺮ ﺗﮩﮧِ ﺁﺏ ﺳﮯ ﻭﮨﯽ ﻣﻌﺘﺒﺮ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﮮ ﻟﯿﮯ ﻭﮦ ﺟﻮ ﺣﺎﺻﻞِ ﺩﻝ ﻭ ﺟﺎﻥ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺟﻮ

Hareem Naz

Hareem Naz

Betiaya

ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺯﺧﻢ _________ ﺳﮩﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﯿﮟ . ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺩﺭﺩ __________ ﮐﮩﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﯿﮟ . ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺍٓﻧﮑﮫ ___________ ﮐﺎ ﺳﺘﺎﺭﺍ ﮨﯿﮟ . ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺩﺭﺩ _________ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﮬﯿﮟ . ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ♡ ﮐﻮ __________ ﮨﺮﺍﺱ ﻣﺖ ﮐﺮﻧﺎ . ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ♡ ﮐﻮ ﮨﺮ ﮔﺰ ______ ﺍﺩﺍﺱ ﻣﺖ ﮐﺮﻧﺎ . ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﻧﻮﺭ ___________ ﮨﯿﮟ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ . ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺑﺎﺏ __________ ﮨﯿﮟ ﭘﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ . ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺩﻝ ﮐﯽ ______ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ . ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﮔﻮﯾﺎ ﮐﮭﻠﺘﺎ _____ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ . ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﻋﮑﺲ _________ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﻭٔﮞ ﮐﺎ . ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﮨﯿﮟ ___________ ﺛﻤﺮ

Hareem Naz

Hareem Naz

Qismat ka khel

♻️ قسمت کا کھیل احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہندوستانی زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔ جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ با

Hareem Naz

Hareem Naz

Qismat ka khel

♻️ قسمت کا کھیل احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہندوستانی زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔ جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ با

Hareem Naz

Hareem Naz

Qismat ka khel

♻️ قسمت کا کھیل احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہندوستانی زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔ جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ با

Hareem Naz

Hareem Naz

Qismat ka khel

♻️ قسمت کا کھیل احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہندوستانی زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔ جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ با

Hareem Naz

Hareem Naz

muskurahat

میں تیرے لب پہ چھا جاؤں گا مسکراہٹ کی طرح تو اپنے ہونٹوں سے میرا نام پکار کر تو دیکھ

Hareem Naz

Hareem Naz

Teri raah mn

?میں تیری راه میں جگنو سجائے بیٹها ہوں  ﺫرا سی فرصتیں میرے بهی نام کر جاناں...!!?

Hareem Naz

Hareem Naz

Ajeeb Taqazay

ﺠﺐ ﺗﻘﺎﺿﮯ ﮨﯿﮟ ........... ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ .... ﺑﮍﯼ ﮐﭩﮭﻦ ﯾﮧ ................ ﻣﺴﺎﻓﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ .... ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ .... ﺑِﭽﮫ ﮔﺊ ﮨﻮﮞ .... ﺍُﺳﯽ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ........... ﺷﮑﺎﯾﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ... ﺷﮑﺎﯾﺘﯿﮟ ﺳﺐ ................... ﺑﺠﺎ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ............ ﯾﻘﯿﮟ ﺩﻻﺅﮞ ... ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ........... ﻋﺰﯾﺰ ﺗﺮ ﮨﮯ ... ﺍُﺳﮯ ﺑﮭﻼﺅﮞ ﺗﻮ .................. ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺅﮞ ...... ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﯽ ............... ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻣﯿﮟ .... ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ................... ﮔﺰﺭ ﮔﺊ ﮨﻮﮞ .... ﺍُﺳ

Hareem Naz

Hareem Naz

Mohabbat kr nh skta

ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺭﻭﺯ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ، ﻣﮕﺮ ﮐﭽﮫ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺸﮧ ﻭﺭ ﻓﺮﯾﺒﯽ ﮨﻮﮞ ، ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟﺳﮑﺘﺎ۰۰۰ ﺑُﺮﮮ ﮨﻮ ﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﻮ ، ﻣﺠﮭﮯ ﺍِﺱ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻄﻠﺏ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻄﻠﺐ ﺳﮯ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ، ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻟﮍ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰ ﯾﮩﺎﮞ ﮨﺮ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﺧُﺪﺍ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ہے ﺧُﺪﺍ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ ﺟﮭﻮﻟﯽ ﺑﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰. ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺍُﻟﻔﺖ ﻓﻘﻂ ﻟﻔﻈﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﭘﮧ ﻣﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﮫﮐﻮ۰۰۰ ﺍﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺯﺧﻢ ﺑﮭﺮﻧﮯ ﮨﯿﮟ،

Hareem Naz

Hareem Naz

Akhri Bar Milo

آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دلراکھ ہوجائیں، کوئی اور تقاضا نہ کریںچاک وعدہ نہ سِلے، زخمِ تمنّا نہ کِھلےسانس ہموار رہے شمع کی لَو تک نہ ہِلےباتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آکر گِن جائیںآنکھ اٹھائے کوئی اُمید تو آنکھیں چھن جائیںاس ملاقات کا اس بار کوئی وہم نہیںجس سے اِک اور ملاقات کی صورت نکلےاب نہ ہیجان و جنوں کا، نہ حکایات کا وقتاب نہ تجدید وفا کا، نہ شکایات کا وقتلُٹ گئی شہرِ حوادث میں متاعِ الفاظاب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نوح کہیےآج تک تم سے رگِ جاں کے کئی رشتے تھےکل سے جو ہو گا اُسے کون سا رشت

Hareem Naz

Hareem Naz

Meri mohabbat

اسے میں کیوں بتاؤں !! میں نے اس کو کتنا چاہا ہے؟ بتایا جھوٹ جاتا ہے !!! کہ سچی بات کی خوشبو!! تو خود محسوس ہوتی ہے!!! میری باتیں، میری سوچیں اسےخود جان جانے دو!!! ابھی کچھ دن مجھے میری محبّت آزمانےدو!!!! اگر وہ عشق کےاحساس کو پہچان نہ پاۓ!! مجھے بھی جان نہ پاۓ !!!! تو پھر ایسا کرو اے دل......!! خود گمنام ہو جاؤ !!!! مگر اس بے خبر کو مسکرانے دو...! ابھی کچھ دن .....!! مجھے میری محبّت آزمانے دو..

Hareem Naz

Hareem Naz

Arzoo

دل کے پنجرے سے پرندوں کو اُڑا دو صاحب آرزؤں„„ کو „„ مسلسل „„ پالا „„ نہیں „„کرتے

Hareem Naz

Hareem Naz

Janoon sajda

جنُونِ سجدہ کی معراج ہے یہی شاید  کہ تیرے دَرکے سِوا کوئی آستاں نہ رہا

Hareem Naz

Hareem Naz

Teri yaad

پھر تیری یاد _ جلا رکھی ہے   سرد موسم میں حرارت کیلئے!

Hareem Naz

Hareem Naz

DIL KA DHARAKNA

دل یوں دھڑکا  کہ پریشاں ھوا ھو جیسے کوئی بے دھیانی میں نقصان ھوا ھو جیسے   رخ بدلتا ھوں تو شہ رگ میں چبھن ھے عشق بھی جنگ کا میدان، ھوا ھو جیسے ... جسم یوں لمس رفاقت کے اثر سے نکلا دوسرے دور کا ساماں ۔۔۔۔ھوا ھو جیسے   دل نے یوں پھر میرے سینے میں فقیری رکھ دی ٹُوٹ کرخود ہی پشیماں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھوا ھو جیسے   تھام کر ہاتھ میرا ایسا وہ رویا ۔۔۔۔ محسن کوئی کافر سے مسلماں ھوا ھو جیسے

Hareem Naz

Hareem Naz

Anjan mosam

بڑے انجان موسم میں بہت بے رنگ لمحوں میں بنا آہٹ ، بنا دستک بہت معصوم سا سپنا اُتر آیا ہے آنکھوں میں ...بنا سوچے ، بنا سمجھے کہا ہے دل نے چُپکے سے ہاں اس ننھے سے سپنے کو آنکھوں‌ میں جگہ دے دو بنا روکے ، بنا ٹوکے رگوں کا خون بننے دو سانسوں میں مہکنے دو ہمیشہ کی طرح‌ اب بھی بنا اُلجھے ، بنا بولے جُھکا دیا ہے سر ہم نے مگر تعبیر کیا ہو گی؟ یہ ہم جانیں نہ دل جانے بس معلوم ہے اتنا کہ دل کے فیصلے اکثر ہمیں کم

Hareem Naz

Hareem Naz

JAZBAY

تمہاری خاطر روائے دل پر دعائیں تحریر کر رھا ھوں  منافقت کی اداس شب میں  نہ تم اندھیروں سے ہار جانا  میں اپنے حصے کی ساری محبتیں  تمہارے چہرے پہ لکھ چکا ہوں  میں جانتا ہوں تمہارے رستے بہت کٹھن ہیں  مگر جب کبھی سفر پر جانا تو  میری وفاوں کو ساتھ رکھنا  یہ جان لینا کہ_____________  میرے جذبے چراغ بن کر  تمہارے رستے اجال دیں گئے

Hareem Naz

Hareem Naz

TAMAM SHUD

آنکھوں سے خواب، دل سے تمنا تمام شد تم کیا گئے، کہ شوقِ نظارا تمام شد کل تیرے تشنگاں سے یہ کیا معجزہ ہوا دریا پہ ہونٹ رکھے، تو دریا تمام شد دنیا تو ایک برف کی سل سے سوا نہ تھی پہنچی ذرا جو آنچ، تو دنیا تمام شد عشاق پر یہ اب کے عجب وقت آپڑا مجنوں کے دل سے حسرت لیلٰی تمام شد شہرِ دل تباہ میں پہنچوں تو کچھ کھلے کیا بچ گیا ہے راکھ میں، اور کیا تمام شد ہم شہرِ جاں میں آخری نغمہ سنا چکے سمجھو کہ اب ہمارا تماشا تمام شد اک یاد یار ہی

Hareem Naz

Hareem Naz

Chaman mn Bahaar

کبھی آہ لب پر مجل گئی کبھی اشک آنکھوں سے ڈھل گئے یہ تمہارے غم کے چراغ ہیں کبھی بُجھ گئے کبھی جل گئے میں خیال و خواب کی محفلیں نہ بقدرِ شوق سجا سکا تیری اِک نگاہ کے ساتھ ہی میرے سب ارادے بدل گئے نہ تو دُور ہیں نہ قریب ہیں ، تیرے درد مند عجیب ہیں تیری یاد ہی سے تڑپ اُٹھے ، تیری یاد ہی سے بہل گئے یہ کمالِ ہجر و وصال ہے کہ طلسمِ وہم و خیال ہے کبھی صدیاں لمحوں میں اُڑ گئیں ، کبھی لمحے صدیوں میں ڈھل گئے تھا اُنھیں بھی میری طرح جُنوں ، تو پھر اُن میں مُجھ میں یہ

Hareem Naz

Hareem Naz

BHEEGI YADDAIN

اسے کہنا کہ "بھیگی جنوری" پھر لوٹ آئی ھے وہی گلیاں، وہی کوچے وہی سردی کا موسم ہے اسی انداز سے اپنا نظام زیست برہم ہے یہ حسن ـ اتفاق ہے ایسا کہ نکھری چاندنی بھی ھے وہی ہر سمت ویرانی اداسی تشنگی سی ھے وہی ھے بھیڑ سوچوں کی وہی تنہائیاں پھر سے مسافر، اجنبی اور دشت کی پہنائیاں پھر سے مجھے سب یاد ہے کچھ سال پہلے کا یہ قصہ ہے وہی لمحہ تو ویرانے کا اک آباد حصہ ہے میری آنکھوں میں وہ ایک لمحہء موجود اب بھی ہے وہ زندہ رات میرے ساتھ لاکھوں بار جاگی ھے ک

Hareem Naz

Hareem Naz

kiss morr pr

?'Main jeet ke Haara to kis Morr pe Aa ke,   Toota tera Sahara to kis Morr pe Aa ke,   Nishaan Tak na Raha Mari Chahton ka ... MUJHA Taqdeer Ne Maara To kis Maara to kis Morr pe Aa ke   Jab Na Rahi Dil Mein koi Pyaar ki Hasrat    Mujhy tum ne Pukara To Kis Morr Pe Aa ke   Umar Bhar Doobty Rahy Hum Gham k Samandar Main    Ab k Mila Kinara to kis Morr pe AA KE   Guzri hai Umar Sari yun hi kash -ma-kash Main  

Hareem Naz

Hareem Naz

khail

کارِ حیات ریشمی دھاگوں کا کھیل تھا اُلجھے تو پھر ُسلجھ نہ سکے تار زیست کے

Hareem Naz

Hareem Naz

Ajnabi

نہ سماعتوں میں تپش گُھلے نہ نظر کو وقفِ عذاب کر جو سنائی دے اُسے چپ سِکھا جو دکھائی دے اُسے خواب کر ابھی منتشر نہ ہو اجنبی، نہ وصال رُت کے کرم جَتا! جو تری تلاش میں گُم ہوئے کبھی اُن دنوں کا حساب کر مرے صبر پر کوئی اجر کیا مری دو پہر پہ یہ ابر کیوں؟ مجھے اوڑھنے دے اذیتیں مری عادتیں نہ خراب کر کہیں آبلوں کے بھنور بجیں کہیں دھوپ روپ بدن سجیں کبھی دل کو تِھل کا مزاج دے کبھی چشمِ تِر کو چناب کر یہ ہُجومِ شہرِ ستمگراں نہ سُنے گا تیری صدا کبھی، مری حسرتوں ک

Hareem Naz

Hareem Naz

yaad ka mosam

ﮐﻮﺋﯽ ﻣﻮﺳﻢ ﮬﻮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﮬﮯ ﺗﻤﮭﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ , ﮐﮧ ﺑﺪﻻ ﮬﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺎﮞ ﺗﻤﮭﺎﺭﮮ ﺑﻌﺪ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ , ﻧﮩﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﺯﻣﺎ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﻮ ﮐﯿﺴﮯ ﺑﺪﻟﺘﺎ ﮬﮯ , ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﻣﺴﮑﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﺩﻝ ﻧﺎ ﺷﺎﺩ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ, ﺻﺪﺍ ﺗﯿﺸﮯ ﺳﮯ ﺟﻮ ﻧﮑﻠﯽ ﺩﻝ ﺷﯿﺮﯾﮟ ﺳﮯ ﺍﭨﮭﯽ ﺗﮭﯽ , ﭼﻤﻦ ﺧﺴﺮﻭ ﮐﺎ ﺗﮭﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺭﮬﺎ ﻓﺮﮬﺎﺩ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ , ﭘﺮﻧﺪﻭﮞ ﻧﮯ ﺯﺑﺎﮞ ﺑﺪﻟﯽ ﮐﮩﯿﮟ ﺳﮯ ﺳﯿﮑﮫ ﻟﮯ ﺗﻮ ﺑﮭﯽ , ﻧﺌﯽ ﻃﺮﺯ ﻓﻐﺎﮞ ! ﺍﮮ ﺩﻝ ﮐﮧ ﮬﮯ ﺍﯾﺠﺎﺩ ﮐﺎ ﻣﻮﺳﻢ , ﺭﺗﻮﮞ ﮐﺎ ﻗﺎﻋﺪﮦ ﮬﮯ ﻭﻗﺖ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺁﺗﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮬﯿﮟ , ﮬﻤﺎﺭﮮ ﺷﮩﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﻮﮞ ﺭﮎ ﮔﯿﺎ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﮐﺎ ﻣﻮﺳ

Hareem Naz

Hareem Naz

×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.