Ehsas
وہ محبت، محبت نہیں ہوتی ۔
جس میں ماں باپ کی عزت کا خیال نہیں ہوتا بزرگوں کی روایات کا مان نہیں رکھا جاتا وہ محبت، محبت نہیں ہوتی جو خود غرض بنا ڈالے محبت کو رسوا کرنے والوں نے اک عجب رسم نکالی ہے ہر بندش سے آزاد ہونا صرف اپنی خواہش کی سننا نہ پاس کسی روایت کا نہ احساس کسی کی عزت کا
اک جھوٹی وقتی بغاوت کا گر سمجھنا چاہو تو سمجھو ہے نفس کا یہ جال فقط کیوں کہتے ہو اسے محبت
محبت بیگانہ نہیں کرتی محبت افسانہ نہیں بنتی نہ کچلو وفا کے مان کو تم
محبت سمجھو تو یہ بند لبوں کی
ان کہی دعا بھی ہے محبت سمجھو تو
اس رحمان رب کی رضا بھی ہے
محبت مانو تو عزت اور روایت کے
لبادے میں ملبوس اک حیا بھی ہے
محبت کی عزت سے تم مت کھیلو
محبت خود غرض نہیں ہوتی اور جو خود غرض ہو وہ وقتی کیفیت
اک جنوں ..یا ہوس تو ہوتی ہے
ہاں پر...وہ محبت قطعا نہیں ہوتی!


3 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.