Jump to content
  • entries
    180,833
  • comments
    28
  • views
    409,265

چنگچی کی فریاد رنگ لے آئی


... سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ پاکستان کی سپریم کورٹ پاکستانیوں کے لیئے ہے اور انکے مفاد میں سوچتی ہے ،،، اسکا کسی حد تک ثبوت چنگچی والے غریبوں کو انکا روزگار لوٹانے کے فیصلے سے مل گیا جو کہ تین ماہ میں انکی رجسٹریشن کرانے سے مشروط ہے اور محکمہ ٹرانسپورٹ کو اس پہ عملدرآمد کیلیئے پابند کردیا گیا ہے ،،،، کئی ماہ سے اندرون سندھ بالعموم اور کراچی میں بالخصوص ہزاروں چنگچی چلانے والے غریب ڈرائیور ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے تھےاور انکے گھروں کے چولہے ٹھنڈے پڑے تھے ،،، اور اسکے بعد جرائم کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آرہا تھا اور ساتھ ہی ٹریفک پولیس والوں کو کئی بار جانی نقصانات اٹھانے پڑگئے تھے اور اس امکان کو رد نہیں کیا جاسکتا کہ ان ہلاکتوں کا اس پابندی سے کوئی نہ کوئی تعلق ہو،،، ہزاروں لوگوں کی اس بیروزگاری کی وجہ یہ بنی تھی کہ ٹریفک پولیس کے ایک بہت با اختیار افسر نے آتے ہی نت نئے شاہی فرامین کی '' آندھی '' چلا دی تھی ،،، اس افرس کو نہ تو دھواں چھوڑتی گاڑیوں سے عوام کی صحت کو کوئی خطرہ لاحق محسوس ہورہا تھا اور نہ ہی فٹنیس سے بے نیاز ٹرانسپورٹ سے انکو کوئی مسئلہ تھا اور نہ ہی جابجا دوڑتی پھرتی اشرافیہ کی گاڑیوں کے کالے شیشوں سے ٹریفک قوانین کی بکھرتی دھجیاں دکھائی دیتی تھیں ،،، اسے جو بھی خدشات تھے انکا تمامتر مرکز چنگچی موٹرسائیکل رکشے تھے یا سی این جی کے 6 اور 9 سیٹر رکشے ،،، اس پابندی کا عملی نتیجہ یہ نکلا کہ تگڑے چالانوں کی آڑ میں لوٹ مار کا بازار گرم ہوگیا اورٹریفک پولیس والوں کے رشوت کے ریٹ بہت زیادہ بڑھ گئے اور ساتھ ہی عام پولیس والے بھی اس بہتی گنگا میں ہاتھ دھونے کیلیئے سڑکوں پہ ناکے لگا کر بیٹھ گئے ۔۔۔ اس سے قبل اس ہی پولیس افسر نے یہ کمال ھی دکھایا تھا کہ اس نے یہ نادر شاہی حکمنامہ بھی جاری کردیا تھا کہ موٹر سائیکل پر بیٹھنے والی تمام سواریاں خوہ مرد ہو یا عورت ، لازمی ہیلمیٹ پہننے کی پابند ہونگی ،،، اس پہ تو عوام اس قدر شدید مشتعل ہوگئے تھے کہ اگر دوچارروز ہی میں یہ حکم واپس نہ لےلیا جاتا تو ہر سڑک پہ ٹریفک پولیس والے اور عوام روز ہی دست و گریباں ہوتے نظر آتے،،، ادھر کچھ بقراط ان چنگچی والوں کو مجرم ٹہرا رہے تھے اور خوشی کے شادیانے بجارہے تھے کیونکہ انکا عوامی مسائل سے کبھی کوئی لینا دینا نہیں تھا ،بس جشن کا سبب یہ تھا کہ انکی کاروں کے رستے میں مزاحم ہونے والے بدتمیزوں کا ماکو جو ٹھپ گیا تھا ،،، لیکن اسکے نقد نتیجے میں کراچی بھر میں ہر بس اسٹاپ پہ ٹرانسپورٹ کے منتظر عوام کے ٹھٹھ لگنا معمول بن گیا تھا اور خواتین ، بچوں و بوڑھوں کی بری طرح سے درگت ہی بن گئی تھی ۔۔۔ چند دانشور البتہ ٹرانسپورٹ کی اس قلت کے مسئلے کا حل لمبی گرین بسوں کو بتا رہے تھے اور جلد ہی انکے بڑی تعداد میں چلنے کی نوید دے رہے تھے ۔۔۔ تاہم میں نے جواباً یہ عرض کیا تھا کہ اول تو اتنی گرین بسیں چلائی ہی نہیں جائینگی کہ طلب و رسد کے فرق کو مٹا سکیں ، دوسرے وہ صرف شہر کی مرکزی سڑکوں ہی تک محدود ہونگی ،،، جبکہ اب کراچی کی آبادی کا 70 سے 80 فیصد حصہ تو اندرونی و ذیلی سڑکوں سے منسلک ہے اور ان سڑکوں پہ یہ بڑی بڑی گرین بسیں چلانے میں کسی کو دلچسپی نہیں ،،، کیونکہ یہ پوری بس اگر بھر کے نہ چلے تو منفعت بخش نہیں رہے گی اور ان سڑکوں پہ انکے بھرنے میں کافی وقت لگ سکتا ہے ،،جس سے آگے کے اسٹاپوں کے منتظر مسافر شدید پریشانی اور انتظار کی کوفت میں مبتلا ہونگے ،،، یوں ویسے بھی ان کم چوڑی سڑکوں پہ چلنے سے وہاں ٹریفک جام کا مسئلہ نہایت گھمبیر صورت اختیار کرلے گا ،،،، ان بغلی و ذیلی سڑکوں پہ تو وہ چھوٹی ٹرانسپورٹ ہی مناسب ہے کہ جو کم نشستوں کی ہو اور جلدی بھر کے چل پڑتی ہو اور اس وجہ سے اسکا کرایہ بھی کم ہو ،،، اور یہ ضرورت چنگچی و 6 سیٹر و 9 سیٹر رکشے کسی نا کسی طور پوری کرنے لگے تھے ،،، دیکھنے والوں نے کھلی آنکھوں سے یہ منظر دیکھا کہ گزشتہ دنوں جن گرین بسوں کا بڑا غلغلہ بلند ہوا تھا وہ ماضی کی پرانی روایت کے مطابق بہت کم مقدار میں چلائی گئیں اور اب ان میں سے کئی واپس ڈپوؤں میں کھڑی کردی گئی ہیں - چنگچی یقینناً ٹرانسپورٹ کے مسئلے کا واحد حل نہیں لہٰذا شہر میں آبادی کےبڑھتے ہوئے دباؤ کے پیش نظر ضروری ہے کہ نئی ہائی روفوں اور سیٹوں والی تین طرف سے بند نئی سوزوکیوں کو بھی متبادل ٹرانسپورٹ کے طور پہ چلائے جانے کی اجازت دی جانی چاہیئے اور ساتھ ہی ماس ٹرانزٹ اسکیم کی برسوں پرانی اسکیم مکمل کی جائے،،،سمندر کنارے کی بستیوں کیلیئے ساحلی کنارے کے ساتھ ساتھ فیری سروس بھی شروع کی جاسکتی ہے اسی طرح اب لوکل ریلوے کی بحالی بھی ناگزیر ہے اور یہ بھی شدید مطلوب ہے کہ سڑکوں کےبیچ میں موجود گرین بیلٹس پہ کھمبے لگا کر بالائی سطح پہ مونو ریل چلائی جائے اور ان سب منصوبوں پہ پوری سنجیدگی و سرگرمی سے کام کیا جائے یہ منصوبے مکمل ہوگئے تو سڑکوں پہ ٹرانسپورٹ کا دباؤ خاطر خواہ حد تک کم ہوجائےگا۔۔۔ ان سب باتوں کے ساتھ ساتھ یہ بھی لازم ہے کہ اب کسی بھی قسم کی ٹرانسپورٹ (‌خواہ چھوٹی ہو یا بڑی) کی فٹنیس اور کنڈیشن پہ کوئی سمجھوتہ ہرگز نہ کیا جائے اور سڑک پہ چلنے والی تمام کمرشیل گاڑیوں کی کنڈیشن بہتر کرائی جائے اور انکے چلنے کی اجازت کو فٹنیس کےساتھ مشروط کیا جائے اور اسی طرح ڈرائیور کیلیئے درکار اہلیت کے ضوابط بھی سختی سے نافذ کیئے جائیں ،،، اور اس معاملے میں کوئی نرمی ہرگز نہ برتی جائے ،،، یہاں آخر میں اس حقیقت کا تذکرہ کیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ عوام کو سستی و بروقت ملنے والی ٹرانسپورٹ یعنی چنگچی سے جب محروم کردیا گیا تھا تو میں نے سوشل میڈیا پہ احتجاج کیا تھا اس پہ صرف جماعت اسلامی اور پاسبان ہی نےکان دھرا اور کسی سیاسی و دینی جماعت کو یہ توفیق تک نہ ہوسکی کہ وہ اس ضمن میں صدائے احتجاج بلند کرتا ۔۔۔ لیکن اب بھی موقع ہے کہ اس شہرکی تمام سیاسی و دینی جماعتیں مل کر آواز بلند کریں اور اس شہر کے باشندوں کو درپیش ٹرانسپورٹ کی تنگی کے مسئلے کو حل کروانے میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں -

 

View the full article

 

 

120211-24.jpg.442d20ebc1a42e0a1641a1218e

 

0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Add a comment...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.