وہ لوگ، وہ رشتے، وہ زمانہ کہاں گیا؟
رشتوں، محبتوں اور بدلتے معاشرے کی ایک سچی تصویر
کبھی زندگی ایک سادہ مگر پُرسکون سفر ہوا کرتی تھی۔ لوگ کم وسائل میں بھی خوش رہتے تھے، رشتوں میں خلوص تھا، دلوں میں محبت تھی اور چہروں پر اطمینان نظر آتا تھا۔ شام ہوتے ہی محلے آباد ہو جاتے، بچے گلیوں میں کھیلتے، بزرگ چوپالوں میں بیٹھ کر گفتگو کرتے اور خاندان ایک دوسرے کے دکھ سکھ میں شریک ہوتے تھے۔ لیکن آج کا دور بہت مختلف ہے۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ زندگی ایک ایسے موڑ پر پہنچ چکی ہے جہاں انسان نہ اپنے ماضی کو بھلا پا رہا ہے اور نہ مستقبل کے بارے میں مطمئن ہو پا رہا ہے۔
آج ہر شخص کسی نہ کسی فکر میں مبتلا ہے۔ کسی کو روزگار کی پریشانی ہے، کسی کو کاروبار میں نقصان کا سامنا ہے، کوئی قرضوں کے بوجھ تلے دبا ہوا ہے اور کوئی مہنگائی کے طوفان میں اپنی زندگی کی کشتی کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے۔ صبح سے شام تک محنت کے باوجود اکثر لوگوں کے لیے گھر کے اخراجات پورے کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ تنخواہیں بڑھنے کے بجائے ضروریات بڑھتی جا رہی ہیں، اور ضروریات کے ساتھ پریشانیاں بھی۔
ایسا لگتا ہے کہ زندگی اب صرف گزارنے کا نام رہ گئی ہے۔ جو کچھ کمایا، وہ خرچ ہو گیا۔ اگر کچھ کم پڑ گیا تو ادھار لے کر ضرورت پوری کر لی۔ پھر اگلے مہینے اسی قرض کو چکانے کی فکر شروع ہو جاتی ہے۔ متوسط طبقہ سب سے زیادہ اس صورتحال کا شکار ہے، جو نہ اتنا غریب ہے کہ امداد حاصل کر سکے اور نہ اتنا امیر کہ مشکلات سے بے نیاز ہو جائے۔
رشتوں کی دنیا بھی اب پہلے جیسی نہیں رہی۔ دوستی، یاری، محبت اور اپنائیت جیسے الفاظ تو آج بھی موجود ہیں، لیکن ان کے معنی بدلتے جا رہے ہیں۔ بہت سے تعلقات صرف ضرورت اور مفاد تک محدود ہو چکے ہیں۔ لوگ اس وقت تک قریب رہتے ہیں جب تک ان کا کوئی فائدہ وابستہ ہو۔ جیسے ہی مفاد ختم ہوتا ہے، تعلق بھی کمزور پڑ جاتا ہے۔
بھائی بھائی سے دور ہوتا جا رہا ہے۔ بہن بھائی جو کبھی ایک دوسرے کے بغیر ایک دن نہیں گزار سکتے تھے، آج مہینوں اور سالوں تک ایک دوسرے کی خبر نہیں لیتے۔ ہر شخص اپنی زندگی، اپنے بچوں اور اپنی ذمہ داریوں میں مصروف ہے۔ مصروفیت ایک حقیقت ضرور ہے، لیکن بعض اوقات یہی مصروفیت رشتوں سے دوری کا بہانہ بھی بن جاتی ہے۔
والدین کے ساتھ تعلقات میں بھی تبدیلی آ رہی ہے۔ کبھی ماں باپ کی خدمت اولاد کی سب سے بڑی ذمہ داری سمجھی جاتی تھی، لیکن آج بعض گھروں میں والدین صرف اس وقت تک اہم ہوتے ہیں جب تک وہ مالی یا دنیاوی فائدہ پہنچا سکیں۔ اگر اولاد میں سے کوئی زیادہ مالدار ہو تو اس کی بات کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، جبکہ باقی بچوں کی محبت، قربانی اور خلوص اکثر نظر انداز ہو جاتا ہے۔
بیماری اور مصیبت کے وقت انسان کو اپنے اور پرائے کی پہچان ہوتی ہے۔ پہلے کسی کے بیمار ہونے کی خبر ملتی تو رشتہ دار، دوست اور پڑوسی فوراً پہنچ جاتے تھے۔ تیمارداری کو عبادت سمجھا جاتا تھا۔ آج اکثر لوگ صرف ایک پیغام بھیج کر یا فون پر چند رسمی الفاظ کہہ کر اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتے ہیں۔ "اللہ بہتر کرے گا" کہہ دینا آسان ہے، لیکن کسی کے ساتھ چند گھنٹے گزارنا، اس کی ضرورت پوچھنا اور اس کا سہارا بننا اب کم ہوتا جا رہا ہے۔
1990 کی دہائی اور اس سے پہلے کے وقت کو یاد کیا جائے تو دل میں ایک عجیب سی کسک پیدا ہوتی ہے۔ وہ زمانہ جب کزن صرف رشتہ دار نہیں بلکہ بہترین دوست بھی ہوتے تھے۔ گرمیوں کی چھٹیاں ایک دوسرے کے گھروں میں گزرتی تھیں۔ سب اکٹھے کھیلتے، کھاتے، گھومتے اور یادیں بناتے تھے۔ عیدیں صرف ایک دن کا تہوار نہیں بلکہ پورے خاندان کے اکٹھے ہونے کا بہانہ ہوتی تھیں۔ گھر مہمانوں سے بھرے رہتے تھے، دسترخوان آباد رہتے تھے اور دل محبت سے بھرے رہتے تھے۔
آج وہی لوگ دنیا کے مختلف شہروں اور ملکوں میں بکھر چکے ہیں۔ رابطے کے بے شمار ذرائع ہونے کے باوجود دلوں کی قربت پہلے جیسی نہیں رہی۔ واٹس ایپ کے پیغامات، فیس بک کی پوسٹس اور سوشل میڈیا کے تبصرے شاید رابطہ تو قائم رکھتے ہیں، مگر وہ اپنائیت، وہ ہنسی، وہ بے تکلفی اور وہ خلوص واپس نہیں لا سکتے جو کبھی چند گھنٹے اکٹھے بیٹھنے سے مل جاتا تھا۔
ٹیکنالوجی نے انسان کو دنیا کے قریب اور اپنوں سے دور کر دیا ہے۔ سوشل میڈیا پر سینکڑوں دوست موجود ہیں، لیکن حقیقی زندگی میں دل کی بات سننے والا کوئی نہیں ملتا۔ ایک ہی گھر میں رہنے والے افراد گھنٹوں موبائل فون استعمال کرتے ہیں، مگر ایک دوسرے کے ساتھ چند منٹ بیٹھ کر بات نہیں کرتے۔ رابطے بڑھ گئے ہیں، لیکن تعلقات کمزور ہو گئے ہیں۔
معاشرے میں دولت کی اہمیت پہلے بھی تھی، مگر آج دولت کو انسان کی قدر و قیمت کا پیمانہ بنا دیا گیا ہے۔ جس کے پاس پیسہ ہے، اسے عزت، توجہ اور اہمیت حاصل ہے۔ جس کے پاس دولت نہیں، اس کی بات، رائے اور احساسات اکثر نظر انداز کر دیے جاتے ہیں۔ یہ رویہ نہ صرف معاشرتی تقسیم پیدا کرتا ہے بلکہ دلوں میں محرومی اور احساسِ کمتری بھی جنم دیتا ہے۔
وہ لوگ، وہ رشتے، وہ زمانہ کہاں گیا؟
شاید وہ زمانہ کہیں کھو نہیں گیا، بلکہ ہم خود اس سے دور ہو گئے ہیں۔ ہم نے مصروفیات، مفادات، دولت اور دنیاوی دوڑ میں وہ چیزیں پیچھے چھوڑ دیں جو زندگی کو خوبصورت بناتی تھیں۔ اگر ہم چاہیں تو آج بھی محبت، خلوص، احترام اور اپنائیت کو اپنی زندگیوں میں واپس لا سکتے ہیں۔
کیونکہ زندگی آخرکار دولت سے نہیں، محبت سے چلتی ہے؛ اور رشتے الفاظ سے نہیں، احساس سے زندہ رہتے ہیں۔

Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.