Aadat hi bana li hai ....
عادت ہی بنا لی ہے
اس شہر کے لوگوں نے
انداز بدل لینا
آواز بدل لینا
دنیا کی محبت میں
اطوار بدل لینا
موسم جو نیا آئے
رفتار بدل لینا
اغیار وہی رکھنا
احباب بدل لینا
عادت ہی بنا لی ہے،،،،،،ا
رستے میں اگر ملنا
نظروں کو جھکا لینا
آواز اگر دے دو
کترا کے نکل جانا
ہر اک سے جُدا رہنا
ہر اک سے خفا رہنا
ہر اک سے گِلہ کرنا
جاتے ہوئے راہی کو
منزل کا پتہ دے کر
رستے میں رُلا دینا
عادت ہی بنا لی ہے اس شہر کے لوگوں نے
اک کھیل سمجھ لینا
شدت کی محبت کو
جب چاہا چلے آنا
جب چاہا چلے جانا
عادت ہی بنا لی ہے،،،، ا

4 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.