Jump to content
  • entries
    38
  • comments
    230
  • views
    6,424

Entries in this blog

Talaash

رات پھیلی ہے تیرے، سرمئی آنچل کی طرح  چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے، پاگل کی طرح  خشک پتوں کی طرح ، لوگ اُڑے جاتے ہیں  شہر بھی اب تو نظر آتا ہے، جنگل کی طرح پھر خیالوں میں ترے قرب کی خوشبو جاگی پھر برسنے لگی آنکھیں مری، بادل کی طرح  بے وفاؤں سے وفا کرکے ، گذاری ہے حیات  میں برستا رہا ویرانوں میں، بادل کی طرح

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Ashaq.e.rawan

اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو لائی ہے اب اُڑا کے گئے موسموں کی باس برکھا کی رُت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو دل کو ہجومِ نکہتِ مہ سے لہو کیے راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو پھرتے ہیں مثل موج ہوا شہر شہر میں آوارگی کی لہر ہے ہم ہیں دوستو آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو    

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Dard

ﻏﻢ ﮐﯽ ﻣﻌﯿﺎﺩ ﺑﮍﮬﺎ ﺟﺎﺅ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺕ ﮐﭩﮯ ﮨﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﮦ ﻭ ﺑﮑﺎ ﺭﺳﻢِ ﮐﮩﻦ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﺝ ﯾﮧ ﺭﺳﻢ ﮨﯽ ﺩﮨﺮﺍﺅ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺕ ﮐﭩﮯ ﯾﻮﮞ ﺗﻮﺗﻢ ﺭﻭﺷﻨﺊ ﻗﻠﺐ ﻭ ﻧﻈﺮ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﺁﺝ ﻭﮦ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺩﮐﮭﻼﺅ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺕ ﮐٹے  ﺩﻝ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﺍُﺳﯽ ﺑﮯ ﺩﺭﺩ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺁﺅ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺕ ﮐﭩﮯ ﺩﻡ ﮔﮭﭩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮨﮯ ﺍﻓﺴﺮﺩﮦ ﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﯾﺎﺭﻭ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻓﻮﺍﮦ ﮨﯽ ﭘﮭﯿﻼﺅ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺕ ﮐﭩﮯ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﮑﺎﺭ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﺑﮩﺖ ﺩﻭﺳﺘﻮ ﺁﺝ ﻧﮧ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﺅ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺕ ﮐﭩﮯ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﮯ ﮨﻮ ﺳﺮﺷﺎﻡ ﺍُﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﺎﺻﺮ ﺍُﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﻼ ﻻﺅ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺕ ﮐ

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Mohhabat jeet huti hai .....

محبت جیت ہوتی ہے مگر یہ ہار جاتی ہے کبھی دل سوز لمحو ں سے کبھی بیکار رسمو ں سے کبھی تقدیر والو ں سے کبھی مجبور قسموں سے محبت جیت ہوتی ہے مگر یہ ہار جاتی ہے کبھی یہ چاند جیسی ہے کبھی یہ دھوپ جیسی ہے کسی کا چین بنتی ہے کسی کو رول دیتی ہے کبھی یہ لہے پر جاتی ہے کبھی یہ مار جاتی ہے محبت جیت ہوتی ہے مگر یہ ہار جاتی ہے  

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Yad

میں تجھ کو بھولنا چاھوں تو کیسے بھول سکتا ہوں یہی اک روگ حرضِ جان ہوا ہے آجکل جاناں تمہیں سو مرتبہ انکھوں سے اوجھل کر کے دیکھا ہے وفور غم سے اپنا آپ بوجھل کر کے دیکھا ہے حریف جان ہے لیکن تو اب دل میں رہتا ہے میری رگ رگ میں بہتا ہے عمل کرتا ہوں میں اُس پر جو تو اندر سے کہتا ہے تو مجھ کو توڑ سکتا ہے تو مجھ کو چھوڑ سکتا ہے اگر پھر جوڑنا چایے تو مجھ کو جوڑ سکتا ہے مگر میرے لیے تو جان من یہ کام مشکل ہے تمہارے ہجر کا یہ جیتے جی الزام مشکل ہے کوئ ایسا طریقہ ہو کہیں ایسا

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Zid na karo ....

آج جانے کی ضد نہ کرو یونہی پہلو میں بیٹھی رہو ہائے ! مر جائیں گے، ہم تو لُٹ جائیں گے ایسی باتیں کیا نہ کرو تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکیں تمہیں جان جاتی ہے جب اُٹھ کے جاتے ہو تم تم کو اپنی قسم جانِ جاں بات اتنی میری مان لو وقت کی قید میں زندگی ہے مگر چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں ان کو کھو کر ابھی جانِ جاں عمر بھر نہ ترستے رہو کتنا معصوم و رنگیں ہے یہ سماں حسن اور عشق کی آج معراج ہے کل کی کس کو خبر جانِ جاں روک لو آج کی رات کو گیسوؤں کی شکن ہے ابھی شبنمی اور پلکو

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Larkian aduhri hain

ﭼﻮﮌﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻨﮕﻦ ﺗﮏ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﺩﮬﻮﺭﯼ ﮨﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﮔﮧ ﺳﮯ ﭼﻠﻤﻦ ﺗﮏ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﺩﮬﻮﺭﯼ ﮨﯿﮟ ﭘﮭﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺷﮕﻮﻓﻮﮞ ﭘﺮ ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ ﺗﻮ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﯿﮟ ﺧﻮﺍﺏ ﮔﺮ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺗﻮ ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﺩﮬﻮﺭﯼ ﮨﯿﮟ  

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Ik Pehchan ban gaye akhir

ایک پہچان بن گئے آخر  محل ویران بن گئے آخر آپکی جستجو میں نکلے تھے اپنی پہچان بن گئے آخر ہم ستارہ ہوئے نہ کوئی پھول سخت چٹان بن گئے آخر مرحلے تیرے ہجر کے جاناں کتنے آسان بن گئے آخر کوئی اک میزبان بھی ٹہرے سب ہی مہمان بن گئے آخر اک نگاہِ کرم اٹھی ایسی درد درمان بن گئے آخر اتنا سوچا ہے ترے ہجراں کو دل میں زندان بن گئے آخر    

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Khuaab tha....

خواب تھا دیدہ بیدار تلک آیا تھا دشت بھٹکتا ہوا دیوار تلک آیا تھا اب میں خاموش اگر رہتا تو عزت جاتی میرا دشمن میرے کردار تلک آیا تھا اتنا گریہ ہوا مقتل میں کہ توبہ توبہ زخم خود چل کے عزادار تلک آیا تھا عشق کچھ سوچ کے خاموش رہا تھا ورنہ  حسن بکتا ہوا بازار تلک آیا تھا محسن اس وقت مقدر نے بغاوت کر دی جب میں اس شخص کے معیار تلک آیا تھا    

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Mohabbat

محسوس ہوتا ہے کہ مجھ سے یقیناً ایک جسارت ہو گئی ہے تمہیں کوئی شکایت تو نہ ہو گی مجھے تم سے "محبت" ہوگئی ہے  

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Suna hai ....

سُنا ہے اس جہاں میں  زندگی کی قحطِ سالی ہے  یہاں دو چار دن جینے کا  اکثر زکر ہوتا ہے  یہاں ہر چیز فانی ہے  سبھ کو موت آنی ہے  مگر کچھ یوں بھی سُنتا ہوں  کہ ایسا اک جہاں ہو گا  جہاں پر موت آنے کا  کوئی دھڑکا نہیں ہو گا  حیاتِ جاودانی کے وہاں  سبھی اسباب رکھے ہیں  یہ میرا تم سے وعدہ ہے  اگر ہم وہاں مل گئے تُو  وہیں اظہار کر لیں گے  وہیں اقرار کر لیں گے  وہیں پھر پی

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Khird, Janoon aur Khawab

خِرد، جُنوں اور خواب، حقیقت، عِلم، عَمل، اِلہام محنت، رغبت، چاہت، فُرصت، پِیا تمہارے نام پِیا تمہارے نام کیا ہے عِشق، سفر، انجام عِشق ہماری ذات مُناسب، پِیا تمہارے نام پُورب، پچھّم، صُبح، دُپہری، فردا، دوش، مُقام گھنگھرو، پایَل، ٹِیکہ، گھونگٹ، پِیا تمہارے نام کاجل، مانگ، حِنا، انگوٹھی، سُرمہ، نینن، گیسُو طبلہ، تال، بَنسُریا، ڈھولک، پِیا تمہارے نام رات تمہارے نام ہماری، تَیل دِیا اور باتی دِید، نظر، گفتار، عِبادت، پِیا

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Ishq

  مَن عِشق کی اگنی جلتی ہے، تم بَنہیّاں تھامو جان پِیا میں رُوپ سہاگن دھارَن کو، راہ دیکھوں نینَن تان پِیا بس ایک جھلک پہ جَگ سارا، تَج تیرے پیچھے چل نِکلی تو عِشق میرا، تو دِین میرا، تو عِلم میرا اِیمان پِیا میں ننگے پَیروں نَقش تیرے قدموں کے چُنتی آئی ہوں اب جان سے ہاری راہوں میں، یہ رستہ تو انجان پِیا سِر مانگے تو میں حاظِر ہوں، زَر مانگو تو میں بے زَر ہوں تم عِشق کی دولت دان کرو، میں ہو جاؤں دَھنوان پِیا

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Wehshat

مرے ہرکاب ہیں وحشتیں، میری و حشتوں کو قرار دے مجھے مہر وماہ سے غرض کیا، مجھے بھیک میں میرا یار دے.. کئی دن سے دل یہ دکھا نہیں، کوئی شعر میں نے کہا نہیں مرے حال پہ بھی نگاہ کر، کسی کیفیت سے گزار دے.. میں ہزار بجھتا دیا رہوں، سر دشت میں بھی جلا رہوں مری شاخ غم کو نہال کر، نئی کونپلوں کو بہار دے.. کئی دن سے کوچہ ذات میں کسی دشت غم کا پڑاؤ نہیں کوئی شام مجھ میں قیام کر مرے رنگ روپ کو نکھار دے.. میں شکست ذات کی حد میں ہوں، کسی سرد رات کی ذد میں ہوں مجھے ام

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Mohabbat

محبت ذات کے اندر کوئی گُم ذات ہوتی ہے محبت کے تعاقب میں ہمیشہ گھات ہوتی ہے محبت میں خوشی سے موت کو ہم اوڑھ لیتے ہیں ذرا سوچو کہ اس میں کوئی ایسی بات ہوتی ہے محبت شہد میں لپٹا ہوا اک زہر ہے لیکن محبت جیت ہوتی ہے، محبت مات ہوتی ہے محبت خود زمانہ ہو کے بھی ہے موسموں جیسی کبھی یہ صبح ہوتی ہے کبھی یہ رات ہوتی ہے محبت ایسی خوشبو ہے، کبھی اک جا نہیں رہتی کسی سے دور ہوتی ہے کسی کے ساتھ ہوتی ہے محبت ہے سرابوں سے، کہ جیسے ریت مُٹھی ہیں کسی سے بات کرتی ہے کسی کے بات ہوتی ہے

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Gulaab k phool

روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گلاب کے پھول حسیں گلاب کے پھول، ارغواں گلاب کے پھول جہانِ گریہ شبنم سے، کس غرور کے ساتھ گزر رہے ہیں، تبسم کناں، گلاب کے پھول یہ میرا دامنِ صد چاک، یہ ردائے بہار یہاں شراب کے چھینٹے، وہاں گلاب کے پھول خیالِ یار، ترے سلسلے نشوں کی رُتیں جمالِ یار، تری جھلکیاں، گلاب کے پھول یہ کیا طلسم ہے، یہ کس کی یاسمیں بانہیں چھڑک گئی ہیں جہاں در جہاں گلاب کے پھول    

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

akhiri Raat bas azaab huti hai....

آخری رات بس عذاب ہوتی ہے ہزار ہا برس سے طویل اک رات کہیں حسین سے رشتے کا دائمی بندھن اک رات کہیں پر موت کی دھیرے دھیرے آہٹ اک رات رات کی بات کا انداز نرالہ ہی رہا آج پھر میں ہوں  شبِ انتظار فراقِ یار اور آخری رات     

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Wo Admi aam sa

وہ آدمی عام سا اک قصہ ناتمام سا نہ لہجہ بےمثال ہے نہ بات میں کمال ہے ہے دیکھنے میں عام سا اداسیوں کی شام سا نہ مہ جبینوں سے ربط ہے نہ شہرتوں کا خبط ہے رانجھا ہے نا قیس ہے نہ انشاء ہے نا فیض ہے وہ پیکر اخلاص ہے وفا، دعا اور آس ہے وہ شخص خود شناس ہے تم ہی کرو یہ فیصلہ وہ آدمی ہے عام سا یا پھر بہت ہی خاص ہے    

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Chalo loat ao bacpan main chaltey hain....

چلو پھر لوٹ کے بچپن میں چلتے ہیں ۔۔۔۔۔۔ کبھی میں چور بن جا و ں سپا ہی بن کے تم ڈھو نڈ و۔۔۔۔۔۔ کبھی پٹھو گر م تو ڑیں ۔۔۔۔۔۔ ا و ر ہنس کے بھا گ جا یں ہم۔۔۔۔۔۔ یا و ہ ہی کھیل۔۔۔۔۔۔ جس میں آ نکھ بند کر کے کو ئ بیٹھے چُھپیں با قی۔۔۔۔۔۔ بنو تم د ا د ی ا ما ں ا و ر بلا و ا پنے بچوں کو۔۔۔۔۔۔۔ کبھی لڈ و کا لالچ د و ۔۔۔۔۔ کبھی سو نے کے نیکلس کا ۔۔۔۔۔۔ خزا نہ ڈ ھو نڈ نے کی چا ہ میں تم کو پکڑ لو ں میں۔۔۔۔۔۔ مر ی آ نکھو ں میں حیر ت سے۔۔۔۔۔۔ بھر ی آ نکھو

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Wo ishq jo mera maan hua krta tha

Zinda thai jiski AAS pe Wo bhi rula gaya, Bandhan WAFA ke toor ke Sare chala gaya, Khud hi to ki thi usne MUHABBAT ki IBTADA, Hathon main HATH de k khud hi chura gaya,,, Kardi jiske liye humne TABAH zindagi, Ulta wo BEWAFA ki TUHMAT laga gaya,,,

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Tujhey chahna Meri bhool thi

Mujhe Maaf Kar Mere Humsafar, Tujhe Chahna Meri Bhol Thi, Kisi Raah Par Jab Uthi Nazar, Tujhe Dekhna Meri BHol Thi, Koi Nazam Ho Ya Koi Gazal, Kahin Raat Ho Ya Kahin Seher, Wo Gali Gali Wo Sheher Sheher, Tujhe Dhondna Meri Bhol Thi, Mere Ghum Ki Koi Dawa Nahi, Mujhe Tujhse Koi Gila Nahi, Tera Koi Mere Siwa Nahi, Yahi Sochna Meri Bhol Thi. . . . . . . .    

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

Aadat hi bana li hai ....

عادت ہی بنا لی ہے اس شہر کے لوگوں نے  انداز بدل لینا آواز بدل لینا  دنیا کی محبت میں  اطوار بدل لینا  موسم جو نیا آئے  رفتار بدل لینا  اغیار وہی رکھنا  احباب بدل لینا  عادت ہی بنا لی ہے،،،،،،ا رستے میں اگر ملنا  نظروں کو جھکا لینا  آواز اگر دے دو  کترا کے نکل جانا  ہر اک سے جُدا رہنا ہر اک سے خفا رہنا  ہر اک سے گِلہ کرنا  جاتے ہوئے راہی کو  منزل کا پتہ دے کر  رستے میں رُلا دینا  عادت ہی بنا لی ہے اس شہر کے لوگوں نے  اک کھیل سمجھ ل

Ayesha Mirza

Ayesha Mirza

×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.