رات پھیلی ہے تیرے، سرمئی آنچل کی طرح
چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے، پاگل کی طرح
خشک پتوں کی طرح ، لوگ اُڑے جاتے ہیں
شہر بھی اب تو نظر آتا ہے، جنگل کی طرح
پھر خیالوں میں ترے قرب کی خوشبو جاگی
پھر برسنے لگی آنکھیں مری، بادل کی طرح
بے وفاؤں سے وفا کرکے ، گذاری ہے حیات
میں برستا رہا ویرانوں میں، بادل کی طرح
اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو لائی ہے اب اُڑا کے گئے موسموں کی باس برکھا کی رُت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو دل کو ہجومِ نکہتِ مہ سے لہو کیے راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو پھرتے ہیں مثل موج ہوا شہر شہر میں آوارگی کی لہر ہے ہم ہیں دوستو آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو
محبت جیت ہوتی ہے
مگر یہ ہار جاتی ہے
کبھی دل سوز لمحو ں سے
کبھی بیکار رسمو ں سے
کبھی تقدیر والو ں سے
کبھی مجبور قسموں سے
محبت جیت ہوتی ہے
مگر یہ ہار جاتی ہے
کبھی یہ چاند جیسی ہے
کبھی یہ دھوپ جیسی ہے
کسی کا چین بنتی ہے
کسی کو رول دیتی ہے
کبھی یہ لہے پر جاتی ہے
کبھی یہ مار جاتی ہے
محبت جیت ہوتی ہے
مگر یہ ہار جاتی ہے
میں تجھ کو بھولنا چاھوں
تو کیسے بھول سکتا ہوں
یہی اک روگ حرضِ جان ہوا ہے
آجکل جاناں
تمہیں سو مرتبہ انکھوں سے اوجھل کر کے دیکھا ہے وفور غم سے اپنا آپ بوجھل کر کے دیکھا ہے حریف جان ہے
لیکن تو اب دل میں رہتا ہے
میری رگ رگ میں بہتا ہے
عمل کرتا ہوں میں اُس پر
جو تو اندر سے کہتا ہے
تو مجھ کو توڑ سکتا ہے
تو مجھ کو چھوڑ سکتا ہے
اگر پھر جوڑنا چایے
تو مجھ کو جوڑ سکتا ہے
مگر میرے لیے تو جان من یہ کام مشکل ہے تمہارے ہجر کا
یہ جیتے جی الزام مشکل ہے
کوئ ایسا طریقہ ہو
کہیں ایسا
آج جانے کی ضد نہ کرو
یونہی پہلو میں بیٹھی رہو
ہائے ! مر جائیں گے، ہم تو لُٹ جائیں گے
ایسی باتیں کیا نہ کرو
تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکیں تمہیں
جان جاتی ہے جب اُٹھ کے جاتے ہو تم
تم کو اپنی قسم جانِ جاں
بات اتنی میری مان لو
وقت کی قید میں زندگی ہے مگر
چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں
ان کو کھو کر ابھی جانِ جاں
عمر بھر نہ ترستے رہو
کتنا معصوم و رنگیں ہے یہ سماں
حسن اور عشق کی آج معراج ہے
کل کی کس کو خبر جانِ جاں
روک لو آج کی رات کو
گیسوؤں کی شکن ہے ابھی شبنمی
اور پلکو
ایک پہچان بن گئے آخر
محل ویران بن گئے آخر
آپکی جستجو میں نکلے تھے
اپنی پہچان بن گئے آخر
ہم ستارہ ہوئے نہ کوئی پھول
سخت چٹان بن گئے آخر
مرحلے تیرے ہجر کے جاناں
کتنے آسان بن گئے آخر
کوئی اک میزبان بھی ٹہرے
سب ہی مہمان بن گئے آخر
اک نگاہِ کرم اٹھی ایسی
درد درمان بن گئے آخر
اتنا سوچا ہے ترے ہجراں کو
دل میں زندان بن گئے آخر
خواب تھا دیدہ بیدار تلک آیا تھا
دشت بھٹکتا ہوا دیوار تلک آیا تھا
اب میں خاموش اگر رہتا تو عزت جاتی
میرا دشمن میرے کردار تلک آیا تھا
اتنا گریہ ہوا مقتل میں کہ توبہ توبہ
زخم خود چل کے عزادار تلک آیا تھا
عشق کچھ سوچ کے خاموش رہا تھا ورنہ
حسن بکتا ہوا بازار تلک آیا تھا
محسن اس وقت مقدر نے بغاوت کر دی
جب میں اس شخص کے معیار تلک آیا تھا
سُنا ہے اس جہاں میں
زندگی کی قحطِ سالی ہے
یہاں دو چار دن جینے کا
اکثر زکر ہوتا ہے
یہاں ہر چیز فانی ہے
سبھ کو موت آنی ہے
مگر کچھ یوں بھی سُنتا ہوں
کہ ایسا اک جہاں ہو گا
جہاں پر موت آنے کا
کوئی دھڑکا نہیں ہو گا
حیاتِ جاودانی کے وہاں
سبھی اسباب رکھے ہیں
یہ میرا تم سے وعدہ ہے
اگر ہم وہاں مل گئے تُو
وہیں اظہار کر لیں گے
وہیں اقرار کر لیں گے
وہیں پھر پی
مَن عِشق کی اگنی جلتی ہے، تم بَنہیّاں تھامو جان پِیا
میں رُوپ سہاگن دھارَن کو، راہ دیکھوں نینَن تان پِیا
بس ایک جھلک پہ جَگ سارا، تَج تیرے پیچھے چل نِکلی
تو عِشق میرا، تو دِین میرا، تو عِلم میرا اِیمان پِیا
میں ننگے پَیروں نَقش تیرے قدموں کے چُنتی آئی ہوں
اب جان سے ہاری راہوں میں، یہ رستہ تو انجان پِیا
سِر مانگے تو میں حاظِر ہوں، زَر مانگو تو میں بے زَر ہوں
تم عِشق کی دولت دان کرو، میں ہو جاؤں دَھنوان پِیا
مرے ہرکاب ہیں وحشتیں، میری و حشتوں کو قرار دے
مجھے مہر وماہ سے غرض کیا، مجھے بھیک میں میرا یار دے..
کئی دن سے دل یہ دکھا نہیں، کوئی شعر میں نے کہا نہیں
مرے حال پہ بھی نگاہ کر، کسی کیفیت سے گزار دے..
میں ہزار بجھتا دیا رہوں، سر دشت میں بھی جلا رہوں
مری شاخ غم کو نہال کر، نئی کونپلوں کو بہار دے..
کئی دن سے کوچہ ذات میں کسی دشت غم کا پڑاؤ نہیں
کوئی شام مجھ میں قیام کر مرے رنگ روپ کو نکھار دے..
میں شکست ذات کی حد میں ہوں، کسی سرد رات کی ذد میں ہوں
مجھے ام
محبت ذات کے اندر کوئی گُم ذات ہوتی ہے
محبت کے تعاقب میں ہمیشہ گھات ہوتی ہے
محبت میں خوشی سے موت کو ہم اوڑھ لیتے ہیں
ذرا سوچو کہ اس میں کوئی ایسی بات ہوتی ہے
محبت شہد میں لپٹا ہوا اک زہر ہے لیکن
محبت جیت ہوتی ہے، محبت مات ہوتی ہے
محبت خود زمانہ ہو کے بھی ہے موسموں جیسی
کبھی یہ صبح ہوتی ہے کبھی یہ رات ہوتی ہے
محبت ایسی خوشبو ہے، کبھی اک جا نہیں رہتی
کسی سے دور ہوتی ہے کسی کے ساتھ ہوتی ہے
محبت ہے سرابوں سے، کہ جیسے ریت مُٹھی ہیں
کسی سے بات کرتی ہے کسی کے بات ہوتی ہے
روش روش پہ ہیں نکہت فشاں گلاب کے پھول
حسیں گلاب کے پھول، ارغواں گلاب کے پھول
جہانِ گریہ شبنم سے، کس غرور کے ساتھ
گزر رہے ہیں، تبسم کناں، گلاب کے پھول
یہ میرا دامنِ صد چاک، یہ ردائے بہار
یہاں شراب کے چھینٹے، وہاں گلاب کے پھول
خیالِ یار، ترے سلسلے نشوں کی رُتیں
جمالِ یار، تری جھلکیاں، گلاب کے پھول
یہ کیا طلسم ہے، یہ کس کی یاسمیں بانہیں
چھڑک گئی ہیں جہاں در جہاں گلاب کے پھول
آخری رات
بس عذاب ہوتی ہے
ہزار ہا برس سے طویل
اک رات
کہیں حسین سے رشتے
کا دائمی بندھن
اک رات
کہیں پر موت کی
دھیرے دھیرے آہٹ
اک رات
رات کی بات
کا انداز نرالہ ہی رہا
آج پھر میں ہوں
شبِ انتظار
فراقِ یار
اور آخری رات
وہ آدمی عام سا
اک قصہ ناتمام سا
نہ لہجہ بےمثال ہے
نہ بات میں کمال ہے
ہے دیکھنے میں عام سا
اداسیوں کی شام سا
نہ مہ جبینوں سے ربط ہے
نہ شہرتوں کا خبط ہے
رانجھا ہے نا قیس ہے
نہ انشاء ہے نا فیض ہے
وہ پیکر اخلاص ہے
وفا، دعا اور آس ہے
وہ شخص خود شناس ہے
تم ہی کرو یہ فیصلہ
وہ آدمی ہے عام سا
یا پھر بہت ہی خاص ہے
چلو پھر لوٹ کے بچپن میں چلتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
کبھی میں چور بن جا و ں سپا ہی بن کے تم ڈھو نڈ و۔۔۔۔۔۔
کبھی پٹھو گر م تو ڑیں ۔۔۔۔۔۔
ا و ر ہنس کے بھا گ جا یں ہم۔۔۔۔۔۔
یا و ہ ہی کھیل۔۔۔۔۔۔
جس میں آ نکھ بند کر کے کو ئ بیٹھے چُھپیں با قی۔۔۔۔۔۔
بنو تم د ا د ی ا ما ں ا و ر بلا و ا پنے بچوں کو۔۔۔۔۔۔۔
کبھی لڈ و کا لالچ د و ۔۔۔۔۔
کبھی سو نے کے نیکلس کا ۔۔۔۔۔۔
خزا نہ ڈ ھو نڈ نے کی چا ہ میں تم کو پکڑ لو ں میں۔۔۔۔۔۔
مر ی آ نکھو ں میں حیر ت سے۔۔۔۔۔۔
بھر ی آ نکھو
Zinda thai jiski AAS pe Wo bhi rula gaya,
Bandhan WAFA ke toor ke Sare chala gaya,
Khud hi to ki thi usne MUHABBAT ki IBTADA,
Hathon main HATH de k khud hi chura gaya,,,
Kardi jiske liye humne TABAH zindagi,
Ulta wo BEWAFA ki TUHMAT laga gaya,,,
Mujhe Maaf Kar Mere Humsafar,
Tujhe Chahna Meri Bhol Thi,
Kisi Raah Par Jab Uthi Nazar,
Tujhe Dekhna Meri BHol Thi,
Koi Nazam Ho Ya Koi Gazal,
Kahin Raat Ho Ya Kahin Seher,
Wo Gali Gali Wo Sheher Sheher,
Tujhe Dhondna Meri Bhol Thi,
Mere Ghum Ki Koi Dawa Nahi,
Mujhe Tujhse Koi Gila Nahi,
Tera Koi Mere Siwa Nahi,
Yahi Sochna Meri Bhol Thi. . . . . . . .
عادت ہی بنا لی ہے
اس شہر کے لوگوں نے
انداز بدل لینا
آواز بدل لینا
دنیا کی محبت میں
اطوار بدل لینا
موسم جو نیا آئے
رفتار بدل لینا
اغیار وہی رکھنا
احباب بدل لینا
عادت ہی بنا لی ہے،،،،،،ا
رستے میں اگر ملنا
نظروں کو جھکا لینا
آواز اگر دے دو
کترا کے نکل جانا
ہر اک سے جُدا رہنا
ہر اک سے خفا رہنا
ہر اک سے گِلہ کرنا
جاتے ہوئے راہی کو
منزل کا پتہ دے کر
رستے میں رُلا دینا
عادت ہی بنا لی ہے اس شہر کے لوگوں نے
اک کھیل سمجھ ل
Moscow. Psychologists in the Donskoy district or nearby. Psychologist in Moscow. We can help you overcome emotional crises, relieve anxiety and apathy, cope with stress and depression associated with insecurity, and much more. Psychologist, Psychologists' website. Ask your questions or schedule a session with a psychologist.
Just here to explore discussions, exchange ideas, and gain fresh perspectives along the way.
I'm interested in learning from different perspectives and sharing my input when it's helpful. Interested in hearing new ideas and connecting with others.
Happy to dive into discussions, share thoughts, and learn something new throughout the journey.
I'm interested in learning from different perspectives and sharing my input when it's helpful. Interested in hearing different experiences and connecting with others.