Suna hai ....
سُنا ہے اس جہاں میں
زندگی کی قحطِ سالی ہے
یہاں دو چار دن جینے کا
اکثر زکر ہوتا ہے
یہاں ہر چیز فانی ہے
سبھ کو موت آنی ہے
مگر کچھ یوں بھی سُنتا ہوں
کہ ایسا اک جہاں ہو گا
جہاں پر موت آنے کا
کوئی دھڑکا نہیں ہو گا
حیاتِ جاودانی کے وہاں
سبھی اسباب رکھے ہیں
یہ میرا تم سے وعدہ ہے
اگر ہم وہاں مل گئے تُو
وہیں اظہار کر لیں گے
وہیں اقرار کر لیں گے
وہیں پھر پیار کر لیں گے

3 Comments
Recommended Comments
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now