Yad
میں تجھ کو بھولنا چاھوں
تو کیسے بھول سکتا ہوں
یہی اک روگ حرضِ جان ہوا ہے
آجکل جاناں
تمہیں سو مرتبہ انکھوں سے اوجھل کر کے دیکھا ہے وفور غم سے اپنا آپ بوجھل کر کے دیکھا ہے حریف جان ہے
لیکن تو اب دل میں رہتا ہے
میری رگ رگ میں بہتا ہے
عمل کرتا ہوں میں اُس پر
جو تو اندر سے کہتا ہے
تو مجھ کو توڑ سکتا ہے
تو مجھ کو چھوڑ سکتا ہے
اگر پھر جوڑنا چایے
تو مجھ کو جوڑ سکتا ہے
مگر میرے لیے تو جان من یہ کام مشکل ہے تمہارے ہجر کا
یہ جیتے جی الزام مشکل ہے
کوئ ایسا طریقہ ہو
کہیں ایسا سلیقہ ہو
میں تجھ کو بھول جانے پر
بہت مجبور ہو جاؤں
نظر سے دور ہو جاؤں
کہیں کافور ہو جاؤں
کسی قصے کہانی کی طرح
مشہور ہو جاؤں
مگر میں جانتا ہوں
جیتے جی ایسا ہو نہیں سکتا
چلو پھر ایسا کرتا ہوں
کہ اس خواہش کی خاطر
زندگی سے ھاتھ دھوتا ہوں
کہیں برزخ میں سوتا ہوں
مگر اس بات کی جانم بتاؤں کیا ضمانت ہے
کہ مر کر بھی یہ آنکھیں یہ چہرا بھول سکتا ہوں
گھنی زلفوں کا بادل
وصل کی شب
ریشمی انچل
یہ سب کچھ بھولنا چاہوں
تو کیسے بھول سکتا ہوں
میں تجھ کو بھولنا چاہوں تو کیسے بھول سکتا ہوں

2 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.