Zid na karo ....
آج جانے کی ضد نہ کرو
یونہی پہلو میں بیٹھی رہو
ہائے ! مر جائیں گے، ہم تو لُٹ جائیں گے
ایسی باتیں کیا نہ کرو
تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکیں تمہیں
جان جاتی ہے جب اُٹھ کے جاتے ہو تم
تم کو اپنی قسم جانِ جاں
بات اتنی میری مان لو
وقت کی قید میں زندگی ہے مگر
چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں
ان کو کھو کر ابھی جانِ جاں
عمر بھر نہ ترستے رہو
کتنا معصوم و رنگیں ہے یہ سماں
حسن اور عشق کی آج معراج ہے
کل کی کس کو خبر جانِ جاں
روک لو آج کی رات کو
گیسوؤں کی شکن ہے ابھی شبنمی
اور پلکوں کے سائے بھی مد ہوش ہیں
حسنِ معصوم کو جانِ جاں
بے خودی میں نہ رسوا کرو......

4 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.