Mohabbat
محبت ذات کے اندر کوئی گُم ذات ہوتی ہے
محبت کے تعاقب میں ہمیشہ گھات ہوتی ہے
محبت میں خوشی سے موت کو ہم اوڑھ لیتے ہیں
ذرا سوچو کہ اس میں کوئی ایسی بات ہوتی ہے
محبت شہد میں لپٹا ہوا اک زہر ہے لیکن
محبت جیت ہوتی ہے، محبت مات ہوتی ہے
محبت خود زمانہ ہو کے بھی ہے موسموں جیسی
کبھی یہ صبح ہوتی ہے کبھی یہ رات ہوتی ہے
محبت ایسی خوشبو ہے، کبھی اک جا نہیں رہتی
کسی سے دور ہوتی ہے کسی کے ساتھ ہوتی ہے
محبت ہے سرابوں سے، کہ جیسے ریت مُٹھی ہیں
کسی سے بات کرتی ہے کسی کے بات ہوتی ہے
محبت جس کو حاصل ہو، مقدر کا سکندر وہ
محبت رب کی جانب سے حسیں سوغات ہوتی ہے

0

8 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.