Jump to content
  • entries
    159
  • comments
    345
  • views
    75,652

کچھ بھی نہیں


آسماں ہے، نہ زمیں ہے، نہ خلا، کچھ بھی نہیں

عالمِ ہست نہونے کے سوا کچھ بھی نہیں

میں یہ سمجھا مرے ہونے سے بہت کچھ ھوگا

میں یہ جانا مرے ہونے سے ہوأ کچھ بھی نہیں

میں تو پہلے ہی بدن اپنا اُتار آیا تھا

عشق کی آگ میں کُودا تو جلا کچھ بھی نہیں

غلغلہ تھا مرے پُرکھوں کی وراثت کا بہت

ہاں خزانہ تھا! مگر اس میں بچا کچھ بھی نہیں

سادے کاغذ پہ بہت رنگ انڈیلے لیکن

اپنی تصویر بنانے سے بنا کچھ بھی نہیں

ہے کسی عکس کی غفلت سے تماشہ ورنہ

دہر کے آئنہ خانے میں دھرا کچھ بھی نہیں

کوئی دھوکہ ہے مری بے سروسامانی بھی

یا تو سب کچھ ہی مرے پاس ہے یا کچھ بھی نہیں

اُس کے دیکھے سے نشہ، بات جو کرلے تو شفا

اپنے پلّے میں تو دارو نہ دوا کچھ بھی نہیں

اُس علاقے میں کوئی رات گزار آیا ہے

جس علاقے میں بجز ذاتِ خدا کچھ بھی نہیں

یہ الگ بات کہ دریا کو ملی موجِ دوام

ورنہ مشکیزے کو دریا سے ملا کچھ بھی نہیں

میں نے تقریر سے شمشیر کا منہ توڑ دیا

تم تو کہتے تھے مرے بس میں رہا کچھ بھی نہیں

10583974_233432917008242_5663242083279235730_n.jpg

1 Comment


Recommended Comments

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Add a comment...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.

×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.