سن لو تو عنایت ہے
اِک تازہ حکایت ہے، سن لو تو عنایت ہے
اِک شخص کو دیکھا تھاتاروں کی طرح ہم نے
اِک شخص کو چاہا تھا اپنوں کی طرح ہم نے
وہ شخص قیامت تھا کیا اُس کی کریں باتیں
دن اس کیلئے پیدا، اس کی ہی تھیں راتیں
کب ملتا کسی سے تھا، ہم سے تھیں ملاقاتیں
رنگ اس کا شبابی تھا، زُلفوں میں تھیں مہکاریں
آنکھیں تھیں کہ جادو تھا، پلکیں تھیں کہ تلواریں
دشمن بھی اگر دیکھیں، سو جان سے دِل ہاریں
کچھ تُم سے وہ ملتا تھا، باتوں میں شباہت میں
ہاں تُم سا ہی لگتا تھا شوخی میں شرارت میں
دِکھتا بھی تمہی سا تھا، دستورِ محبت میں
وہ شخص ہمیں اِک دِن غیروں کی طرح بھولا
تاروں کی طرح ڈوبا، پھولوں کی طرح ٹوٹا
پھر ہاتھ نہ آیا وہ، ہم نے بہت ڈھونڈا
تُم کس لئے چونکے ہو، کب ذکر تمہارا ہے
کب تُم سے تقاضا ہے، کب تُم سے شکایت ہے
اِک تازہ حکایت ہے، سن لو تو عنایت ہے۔


3 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.