Nahi hota Yar
رکھ رکھاؤ میں کوئ خوار نہیں ہوتا یار
دوست ہوتے ہیں، ہر اک یار نہیں ہوتا یار
_
دو گھڑی بیٹھو مرے پاس،کہو کیسی ہو
دو گھڑی بیٹھنے سے پیار نہیں ہوتا یار
_
یار ! یہ ہجر کا غم ! اس سے تو موت اچھی ہے
جاں سے یوں ہی کوئ بے زار نہیں ہوتا یار
_
روح سنتی ہے محبت میں بدن بولتے ہیں
لفظ پیرایہؑ اظہار نہیں ہوتا یار
_
نوکری ، شاعری ،گھربار ، زمانہ ، قدریں
اک محبت ہی کا آزار نہیں ہوتا یار
_
خوش دلی اور ہے اور عشق کا آزار کچھ اور
پیار ہو جاۓ تو اقرار نہیں ہوتا یار
_
لڑکیاں لفظ کی تصویر چھپا لیتی ہیں
ان کا اظہار بھی اظہار نہیں ہوتا یار
_
آدمی عشق میں بھی خود سے نہیں گھٹ سکتا
آدمی سایہؑ دیوار نہیں ہوتا یار !!
_
گھیر لیتی ہے کوئ زْلف ، کوئ بوۓ بدن
جان کر کوئ گرفتار نہیں ہوتا یار
_
یہی ہم آپ ہیں ہستی کی کہانی ،اس میں
کوئ افسانوی کردار نہیں ہوتا یار


3 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.