۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ پاکستان میں نصابی کتب کے علاوہ کتب بینی اب خال خال ہی رہ گئی ہے ،،، کہیں کمپیوٹر اور انٹرنیٹ نے ذوق مطالعہ کو نگل لیا ہے تو کہیں موبائل کی سہولتیں اپنا جال پھیلائے بیٹھی ہیں ،،، اور وہاں سبھی کچھ تو ہے مصروف رکھنے کیلیئے ،، موبائل سےعوام کا دامن دل چھوٹے تبھی کسی اور جانب توجہ دینا ممکن ہوسکتی ہے ۔۔۔ اسی لیئے اب پہلے سے زیادہ ضروری ہوگیا ہے کہ اگر کہیں کوئی اچھی کتاب شائع ہو اور قاری بوجوہ نہ پڑھ سکے یا کسی سبب اس جانب عدم توجہی کا معاملہ ہو تووسیع المطالعہ لوگ ایسی کتابوں کو ان سے روشناس کرادیں اور اگر ممکن ہو تو اسکے خلاصے اور متن کے اہم پہلوؤں سے آگاہ کردیں - یہاں میں نے بھی ایسی ہی کوشش کی ہے اور معاملہ بھی ایک نہیں پوری دو وقیع کتابوں کا ہے اور دونوں محترم رضی الدین سید کی ہیں کہ جو ایک نامور صحافی ہی نہیں معروف محقق بھی ہیں - انکی خاص شناخت ایک ایسے محقق اور لکھاری کی ہے کہ جو یہودیت اوراسکی تاریخ پہ عبور رکھنے کے علاوہ اسرائیلی عزائم اور سازشوں کا بھرپور ادراک رکھتا ہے اور اس حوالے سے حالات میں وقتاً فوقتاً رونما ہونے والے اتار چڑھاؤ پہ بہت گہری نظر رکھتا ہے رضی الدین سید صاحب کی پہلی کتاب معرکہ عظیم کے عنوان سے سامنے آئی ہے اور اس کے تاریخی و مفصل مواد سے یہ بخوبی واضح ہوجاتا ہے کہ انہیں صیہونیت اور اسکی تاریخ و عزائم کے حوالے سے بجا طور پہ پاکستان میں اس شعبہ کی اتھارٹی قرار دیا جاسکتا ہے - انکی یہ کتاب دراصل اس موضوع کے حوالے سے لکھے گئے انکے ان وقیع مضامین پہ مشتمل ہے کہ جو مختلف اخبارات و رسائل میں شائع ہوچکے ہیں اور ان مضامین میں یہود کی تاریخ کا جائزہ بھی لیا گیا ہے اور اس میں یہودی سازشوںاور علامات قیامت کے طور پہ عصر حاضر پہ انکے انطباق کو آسان انداز میں سمجھانے کی بہت عمدہ کوشش کی گئی ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل اور صیہونیت عالمی امن کے سینے کے گلتے سڑتے ناسور ہیں اور انکی گھناؤنی منصوبہ بندیوں اور سازشوں کا تمامتر رخ اسلام اور عالم اسلام کی جانب ہے ۔۔۔ یہہودی ہمیشہ سے سازشی و تخریب کار ہیں لہٰذا خدا کی مسترد کردہ قوم ہیں اور انکا وجود صرف اسلیئے برقرار رکھا گیا ہے کہ سچے اہل ایمان کی استقامت کی جانچ کی جاسکے مصنف کا خود یہ کہنا ہے اور اس سے اتفاق کیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ انہوں نے اس کتاب کواس انداز میں لکھا ہے کہ اسکو پڑھ کر مسلمانوں کو یہودی عزائم، دجال کی سازشوں اور عالم اسلام کو درپیش خوفناک حالات کا بخوبی اندازہ ہوجائے گا اور وہ بڑی حد تک جان جائیں گے کہ ہمارے ملک میں طویل عرصے سے جاری تباہ کن سیاسی معاشی اور سماجی حالات آخر کن قوتوں کے ہاتھوں وقوع پزیر ہورہے ہیں رضی الدین سید کی دوسری کتاب گوانٹاناموبے بیتی ایک امریکی فوجی جیمز یوسف کی لکھی گئی کتاب کا ترجمہ ہے کہ جس نے مسیحیت کی گود میں پلنے کے باوجود اسلام کے لیئے اپنے دل میں بہت کشش محسوس کی اور اسلام کا مطالعہ کرنے کے بعد اور اسلامی تعلیمات سے متاثر ہونے کے بعد اسلام قبول کرلیا -اسکے بعد وہ امریکی فوج میں بحیثیت چیپلین یا مذہبی مبلغ کی کٹیگری میں بھرتی ہوا کیونکہ امریکی فوج میں مختلف مذاہب کی تفہیم کے لیئے مبلغین کو بھی ملازمت دی جاتی ہے- جیمز یوسف کی زندگی میں بہت بڑا ناخوشگوار موڑ اس وقت آیا کہ جب وہ مزید مذہبی تعلیم کے لیئے شام گیا اور اسی دوران اسنے وہاں شادی بھی کرلی - بعد میں وہ اپنی بیوی اور بچی کے ساتھ اپنی ملازمت پہ لوٹ آیا اور شام میں قیام اور تعلیم کے تناظر میں وہ امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کی نظروں میں مشکوک ہوگیا اور بالآخر گرفتار کرلیا گیا اور امریکی شہری ہونے کے باوجود کیوبا کے قریب اک جزیرے گوانتاموبے کے بدنام زمانہ حراستی و تفتیشی مرکز میں نظربند کردیا گیا جہاں اسے کئی ماہ تک بہت غیرانسانی سلوک کا سامنا کرنا پڑا اور نہایت ذلت آمیز ماحول میں رکھا گیا اور اسے خود کو ایک بےخطا و بےقصور شہری ثابت کرنے کیلیئے بہت طویل قانونی جنگ لڑنی پڑی گوانتاناموبے کے قید خانے کے زہنی و جسمانی اذیتوں کے اس گھناؤنے دور نے اسکی نفسیات اور رائے پہ بہت منفی اثرات مرتب کیئے اور اسنے امریکہ کی خفیہ ایجنسیوں کی نہایت متعصبانہ اسلام مخالف سرگرمیوں اور مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کا پردہ چاک کرنے اور انکا اصلی چہرہ دنیا کے سامنے لانے کا فیصلہ کرلیا اور پھر اس نے ایک کتاب لکھی کہ جس میں اسنے اپنے اوپر گزری سب مشکلات اور قید و بند کے ایام کی روداد بیان کردی اور یوں امن و انسانیت اور انصاف کے چیمپیئن امریکا کی اصلیت دنیا پہ آشکار کرڈالی رضی الدین سید صاحب نے جیمز یوسف کی اسی معرکتہ الآراء کتاب کو اردو کے قالب میں ڈھال کر قوم کے سامنے پیش کردیا ہے اور بلاشبہ ترجمے کو ایک فن کا درجہ دیدیا ہے اور یہ کہا جاسکتا ہے کہ انہوں نے ترجمے کو ایک ایسا اسلوب عطا کیا ہے کہ اکثر جگہ ترجمہ اصل کتاب سے کہیں زیادہ پڑھنے لائق ہوگیا ہے لیکن چونکہ ہم روایت پسند ہیں اور اسی سبب ہم مردہ پرست لوگ ہیں لہٰذا زندگی ہی میں رضی الدین سید کو بلند مقام دیکر اپنی روایات کی خلاف ورزی نہیں کرنا چاہتے ،،، امت مسلمہ میں بالعموم اور پاکستان میں بالخصوس خاطر خواہ پزیرائی کیلیئے مرحوم ہونا شرط لازم ہے ،،، میں ان کتابوں کو خریدنے اور پڑھنے کی سفارش کرتا ہوں اسکے باوجود کے پاکستان میں کتاب خریدنا شاید معیوب سمجھا جاتا ہےاور اگر کوئی کتاب خریدتا دیکھا جائے تو بہت فارغ بندہ سمجھا جاتا ہے اسی لیئے پہلے کچھ لوگ پہلے تو کبھی کتاب چرا بھی لیا کرتے تھے ، لیکن اب یہ ہنر صرف قیمتی اشیاء کیلیئے مخصوص کردیا گیا ہے،،، یعنی لائبریریاں ہی اب وہ محفوظ مقام ہیں کہ جہاں اب چوروں کا دھڑکا نہیں ، لیکن پھر بھی میری رائیے یہ ہے کہ ان وقیع کتابوں کو ہر صاحب ذوق فرد کے ذخیرہء کتب میں اور ہر لائبریری کی زینت ضرور بننا چاہیئے-
0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.