عجيب
یہ عجیب میری محبتیں یہ عجیب میرے غم والم................
کوئی پوچھ لے تو میں کیا کہوں
اسے کیا بتاؤں
یہ روز و شب تو جنم جنم پے محیط ہیں
میرے زخم زخم دل و نظر
مجھے اس جنم میں نہیں ملے
میرے رت جگے میرے ہمسفر
میرے ساتھ آج نہیں چلے
یہ مہیب وحشت فکر جو
میرے نقش نقش کی روح ہے
کوئی بے ثبات بیان نہیں
یہ تو آتماؤں کا عکس ہے
یہ تو دیوتاؤں کا دیان ہے
یہ تو جانے کیسی صدی صدی کی اذیتوں کا گیان ہے
یہ عجیب میری محبتیں یہ عجیب میرے غم و الم
یہ نصیب سنگ سیاہ پر
یہ ورق ورق پہ گرے قلم
یہ کڑا حصار نیا نہیں
میرا انتظار قدیم ہے
میرا اس سے پیار قدیم ہے
یہ عجیب میری محبتیں
0


12 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.