جانتے ہو اذیت کیا ہے ؟
وہ جسے ہم اپنی سانسوں کی تسبیح میں پرو چکے ہوں،
اسے ہماری تکلیف کا احساس دلانے کے لیے الفاظ کی ضرورت پڑ جائے،
یہ اذیت ہے....
وہ جس کے لیے ہم اپنا سب کچھ چھوڑ چکے ہوں،
اسے ہمارے ہونے نہ ہونے سے کوئی فرق نہ پڑے،
یہ اذیت ہے....
وہ جو ہمارےایک ،ایک آنسو کو ہیروں کے دام خریدنے کو تیار تھا،
اسے ہماری مسلسل کرب ناک چیخوں سے بھی تکلیف نہ ہو،
یہ اذیت ہے....
وہ جس کی خاطر ہم اپنی حیات وار چکے ہوں،
وہی ہمیں تڑپنے کے لیے اکیلا چھوڑ جائے،
یہ اذیت ہے....
وہ جو ہماری مسکان میں اپنا سکون ڈھونڈتا تھا،
وہی ہمارے آنسوؤں کی وجہ بن جائے،
یہ اذیت ہے....
وہ جسے ہمارے لمحے ،لمحے کی فکر رہتی تھی،
وہی ہمیں یادوں کے سمندر میں ڈوبنے کو چھوڑ جائے،
یہ اذیت ہے....
وہ جو ہماری ایک جھلک دیکھنے کو پل ،پل مرتے تھے،
اسی کے دیدار کو آنکھیں ترس جائیں،
یہ اذیت ہے....
وہ جس کا مرہمى لہجہ ہمیں شفا دیتا تھا،
وہی مسیحا ہمیں بیمار کر کے چھوڑ جائے،
یہ اذیت ہے....
وہ جس کے عشق میں ہم اپنی انا تک مٹا چکے ہوں،
وہی ہمیں ریزہ ،ریزہ بکھیر جائے،
یہ اذیت ہے....
وہ جو ہماری تصویر زندگی میں رنگ بھرتا تھا،
وہی اس میں سیاہی بھر جائے،
یہ اذیت ہے....
وہ جسے ہمارے کانٹا چبھنے پر بھی درد محسوس ہوتا تھا،
وہی ہماری روح تک کو چھلنی کر جائے،
یہ اذیت ہے....
وہ جس کے ساتھ مل کر مکمل زندگی کے سپنے سجائے،
وہی ہماری آنکھوں میں ادھورے سپنوں کی کرچیاں بھر جائے،
یہ اذیت ہے....
وہ جسے پانے کی انتہا میں خود کو کھو دیا،
وہی ہمیں پل بھر میں بیگانہ کر جائے،
یہ اذیت ہے....
وہ جو ہمارے قھقھوں کی گونج سے اطمینان حاصل کرتا تھا، اسے ہماری خاموشی بھی نہ ستاۓ،
یہ اذیت ہے....
وہ جو ہماری پل بھر کی دوری پر بکھر سا جاتا تھا،
وہی ہمیں تمام عمر تنہائی کی سزا کاٹنے کو دے جائے،
یہ اذیت ہے....
ہاں یہ اذیت ہے....


0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.