دُکھ کیا ہوتا ہے؟؟؟
کوئی عورت ساری رات اپنے شوهر سے مار کھا کے اب کسی کے گھر میں صفائی کر رهی هو گی اور اُس گھر کا مالک اُس کو گھور رها هو گا.
کسی مدرسے میں سالوں سے دور کوئی بچہ کسی کونے میں بیٹھا اپنی ماں کو یاد کر رها ھو گا اور هچکیاں لیتے رو رها هو گا.
کسی سکول میں کوئی بچی آج بھی سکول فیس نہ هونے سبب کلاس سے باهر کھڑی هو گی اور اُس کے آنسو اُس کی روح میں جذب هو رهے هوں گے.
کہیں کوئی اپنے صحن میں اپنے پیارے کا جنازہ لئے بیٹھا ھو گا اور اُس سے لپٹ کے خود کو یقین دلا رها هو گا کہ یہ خواب هے.
کہیں دور کسی صحرا میں کوئی ریت پہ زبان پھیر کے موت سے لڑ رها ھو گا اور سوچ رها هو گا کہ کہیں کوئی اُس کے حال کو جانتا تک نہ ھو گا.
کہیں جیل میں کوئی پردیسی کسی ناکردہ جرم میں سسکتے هوئے اپنوں کے چہروں کو ڈھونڈ رها هو گا اور سوچ رها هو گا کہ اُس کی فاتحہ بھی نہ هو گی.
کہیں دور کسی ایمرجنسی میں اپنے باپ کے سرهانے کھڑا بچہ اپنی شفقت کا سایہ سر سے اٹھتے دیکھ رها هو گا.
اس وقت بھی کسی گاوُں کی ڈسپنسری میں کوئی ماں اپنے لخت جگر کا سر گود میں رکھے اُس کی زندگی کی سانسیں گن رهی هو گی.
کہیں کوئی بھوک سے بلک رها ھو گا اور کہیں کوئی درد سے چیخ رها هو گا.
خدا کی تقسیم بھی عجیب هے
کہ اسی کا نام نصیب هے
دکھ انسان کے اندر بس جاتے ھیں اور پھر وہ انسان اس قدر گہرا هو جاتا هے، کہ کنکر بھی پھینکو تو آواز باهر نہیں آتی بلکہ سناٹا مزید بڑھ جاتا ھے.


0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.