Basheer Badar
8 topics in this forum
-
- 2 replies
- 1.4k views
آنکھوں میں رہا، دل میں اتر کر نہیں دیکھا کشتی کے مسافر نے سمندر نہیں دیکھا New Content added Less than in a minutes & merged.
Last reply by Zarnish Ali, -
-
- 3 replies
- 2.4k views
مانگا تھے جسے دن رات ھواؤں میں تم چھت پر نہیں آئے میں گھر سے نہیں نکلا یہ چاند بہت بھٹکا ساون کی گھٹاؤں میں اس شہر میں اک لڑکی بالکل ھے غزل جیسی بجلی سی گھٹاؤں میں خوشبو سی ھواؤں میں موسم کا اشارہ ھے خوش رہنے دو بچوں کو معصوم محبت ھے پھولوں کی خطاؤں میں ھم چاند ستاروں کی راھوں کے مسافر ھیں ھر رات چمکتے ھیں تاریک خلاؤں میں بھگوان ھی بھیجیں گے چاول سے بھری تھالی مظلوم پرندوں کی معصوم سبھاؤں میں دادا بڑے بھولے تھے سب سے یہی کہتے تھے کچھ زہر بھی ھوتا ھے انگریزی دواؤں میں
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.1k views
ساتھ چلتے جا رہے ہیں ساتھ چلتے جا رہے ہیں پاس آ سکتے نہیں اک ندی کے دو کناروں کو ملا سکتے نہیں دینے والے نے دیا سب کچھ عجب انداز سے سامنے دنیا پڑی ہے اور اٹھا سکتے نہیں اس کی بھی مجبوریاں ہیں میری بھی مجبوریاں روز ملتے ہیں مگر گھر میں بتا سکتے نہیں کس نے کس کا نام اینٹوں پر لکھا ہے خون سے اشتہاروں سے یہ دیواریں چھپا سکتے نہیں راز جب سینے سے باہر ہو گیا اپنا کہاں ریت پر بکھرے ہوئے آنسو اٹھا سکتے نہیں آدمی کیا ہے گزرتے وقت کی تصویر ہے جانے والے کو صدا دے کر بلا سکتے نہیں شہر میں رہتے ہوئے ہم کو زمانہ ہو گیا کون رہتا ہے کہاں کچھ بھی بتا سکتے نہیں اس کی یادوں سے مہکنے لگتا ہے سارا بدن پیار کی خوشبو کو سینے میں چھپا …
Last reply by Sahrish Dar, -
- 0 replies
- 1.4k views
شبنم کے آنسو پھول پر یہ تو وہی قصہ ہوا آنکھیں مری بھیگی ہوئی چہرہ ترا اترا ہوا اب ان دنوں میری غزل خوشبو کی اک تصویر ہے ہر لفظ غنچے کی طرح کھل کر ترا چہرہ ہوا شاید اسے بھی لے گئے اچھے دنوں کے قافلے اس باغ میں اک پھول تھا تیری طرح ہنستا ہوا ہر چیز ہے بازار میں اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے عزت گئی شہرت ملی رسوا ہوئے چرچا ہوا مندر گئے مسجد گئے پیروں فقیروں سے ملے اک اس کو پانے کے لئے کیا کیا کیا کیا کیا ہوا انمول موتی پیار کے دنیا چرا کر لے گئی دل کی حویلی کا کوئی دروازہ تھا ٹوٹا ہوا برسات میں دیوار و در کی ساری تحریریں مٹیں دھویا بہت مٹتا نہیں تقدیر کا لکھا ہوا بشیر بدر
Last reply by Zarnish Ali, -
- 5 replies
- 1.6k views
تھا میر جن کو شعر کا آزار مر گئے غالب تمہارے سارے طرفدار مر گئے جذبوں کی وہ صداقتیں مرحوم ہو گئیں احساس کے نئے نئے اظہار مر گئے تشبیہہ وا ستعار ہ ور مزو کنایہ کیا پیکر تراش شعر کے فنکار مر گئے ساقی تری شراب بڑا کام کر گئی کچھ راستے میں، کچھ پسِ دیوار مر گئے تقدیسِ دل کی عصیاں نگاری کہاں گئی شَاید غزل کے سَارے گناہ گار مر گئے شعروں میں اب جہاد ہے، روزہ نماز ہے اُردو غزل میں جتنے تھے کفّار مر گئے اخبار ہو رہی ہے غزل کی زبان اب اپنے شہید آٹھ ،اُدھر چار مر گئے مصرعوں کو ہم نے نعرہ تکبیر کر دیا گیتوں کے پختہ کار گلوکار مر گئے اسلوب تحت اتنا گرجدار ہو گیا مہدی حسن کے حاشیہ بردار مر گئے تنقیدی اصطلاحوں کے مشتاق شہ سوار گھوڑوں پہ دوڑے آئے تھے…
Last reply by Zarnish Ali, -
- 1 reply
- 1.3k views
یہ اگر انتظام ہے ساقی پھر ہمارا سلام ہے ساقی آج تو اذن عام ہے ساقی رات رندوں کے نام ہے ساقی میرے ساغر میں رات اُتری ہے چاند تاروں کا جام ہے ساقی ایک آئے گا،ایک جائے گا مے کدے کا نظام ہے ساقی جام ٹوٹے ،صراحیاں ٹوٹیں یہ بھی اک قتل عام ہے ساقی تیرے ہاتھوں سے پی رہا ہوں شراب مے کدہ میرے نام ہے ساقی بشیر بدر
Last reply by Hareem Naz, -
- 1 reply
- 1.3k views
بھول شاید ہیت بڑی کر لی دل نے دنیا سے دوستی کرلی تم محبت کو کھیل کہتے ہو ہم نے برباد ذندگی کرلی۔۔ اس نے دیکھا بڑی عنایت سے آنکھوں ٓآنکھوں میں بات بھی کرلی عاشقی میں بہت ضروری ہے بے وفائی کبھی کبھی کر لی ہم نہیں جانتے چراغوں نے کیوں ٓاندھیوں سے دوستی کرلی ڈھڑکنے دفن ہو گئی ہونگی دل میں دیوار کیوں کھڑی کرلی بشیر بدر
Last reply by Waqas Dar, -
- 0 replies
- 1.2k views
اچھا تمہارے شہر کا دستور ہو گیا جس کو گلے لگا لیا وہ دور ہو گیا کاغذ میں دب کے مر گئے کیڑے کتاب کے دیوانہ بے پڑھے لکھے مشہور ہو گیا محلوں میں ہم نے کتنے ستارے سجا دیئے لیکن زمیں سے چاند بہت دور ہو گیا تنہائیوں نے توڑ دی ہم دونوں کی انا! آئینہ بات کرنے پہ مجبور ہو گیا دادی سے کہنا اس کی کہانی سنائیے جو بادشاہ عشق میں مزدور ہو گیا صبح وصال پوچھ رہی ہے عجب سوال وہ پاس آ گیا کہ بہت دور ہو گیا کچھ پھل ضرور آئیں گے روٹی کے پیڑ میں جس دن مرا مطالبہ منظور ہو گیا
Last reply by Zarnish Ali,
-
Recently Browsing 0 members
- No registered users viewing this page.
