Zarnish Ali 7,894 Posted May 24, 2017 Posted May 24, 2017 شبنم کے آنسو پھول پر یہ تو وہی قصہ ہوا آنکھیں مری بھیگی ہوئی چہرہ ترا اترا ہوا اب ان دنوں میری غزل خوشبو کی اک تصویر ہے ہر لفظ غنچے کی طرح کھل کر ترا چہرہ ہوا شاید اسے بھی لے گئے اچھے دنوں کے قافلے اس باغ میں اک پھول تھا تیری طرح ہنستا ہوا ہر چیز ہے بازار میں اس ہاتھ دے اس ہاتھ لے عزت گئی شہرت ملی رسوا ہوئے چرچا ہوا مندر گئے مسجد گئے پیروں فقیروں سے ملے اک اس کو پانے کے لئے کیا کیا کیا کیا کیا ہوا انمول موتی پیار کے دنیا چرا کر لے گئی دل کی حویلی کا کوئی دروازہ تھا ٹوٹا ہوا برسات میں دیوار و در کی ساری تحریریں مٹیں دھویا بہت مٹتا نہیں تقدیر کا لکھا ہوا بشیر بدر 0 Quote
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.