حسیں گلاب کے پھول، ارغواں گلاب کے پھول
جہانِ گریہ شبنم سے، کس غرور کے ساتھ
گزر رہے ہیں، تبسم کناں، گلاب کے پھول
یہ میرا دامنِ صد چاک، یہ ردائے بہار
یہاں شراب کے چھینٹے، وہاں گلاب کے پھول
خیالِ یار، ترے سلسلے نشوں کی رُتیں
جمالِ یار، تری جھلکیاں، گلاب کے پھول
یہ کیا طلسم ہے، یہ کس کی یاسمیں بانہیں
چھڑک گئی ہیں جہاں در جہاں گلاب کے پھول
- Read more...
- 4 comments
- 918 views
