👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

Ayesha Mirza

🌟 LEGACY MEMBER
  • Posts

    336
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    17

Blog Entries posted by Ayesha Mirza

  1. Ayesha Mirza
    اشکِ رواں کی نہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    اس بے وفا کا شہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    یہ اجنبی سی منزلیں اور رفتگاں کی یاد

    تنہائیوں کا زہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    لائی ہے اب اُڑا کے گئے موسموں کی باس

    برکھا کی رُت کا قہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    دل کو ہجومِ نکہتِ مہ سے لہو کیے

    راتوں کا پچھلا پہر ہے اور ہم ہیں دوستو

    پھرتے ہیں مثل موج ہوا شہر شہر میں

    آوارگی کی لہر ہے ہم ہیں دوستو

    آنکھوں میں اڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دھول

    عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو
     



     
  2. Ayesha Mirza
    ﻏﻢ ﮐﯽ ﻣﻌﯿﺎﺩ ﺑﮍﮬﺎ ﺟﺎﺅ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺕ ﮐﭩﮯ

    ﮨﺠﺮ ﻣﯿﮟ ﺁﮦ ﻭ ﺑﮑﺎ ﺭﺳﻢِ ﮐﮩﻦ ﮨﮯ ﻟﯿﮑﻦ

    ﺁﺝ ﯾﮧ ﺭﺳﻢ ﮨﯽ ﺩﮨﺮﺍﺅ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺕ ﮐﭩﮯ

    ﯾﻮﮞ ﺗﻮﺗﻢ ﺭﻭﺷﻨﺊ ﻗﻠﺐ ﻭ ﻧﻈﺮ ﮨﻮ ﻟﯿﮑﻦ

    ﺁﺝ ﻭﮦ ﻣﻌﺠﺰﮦ ﺩﮐﮭﻼﺅ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺕ ﮐٹے 

    ﺩﻝ ﺩﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﻭﮦ ﻣﻞ ﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﮕﺮ ﺁﺝ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ

    ﺍُﺳﯽ ﺑﮯ ﺩﺭﺩ ﮐﻮ ﻟﮯ ﺁﺅ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺕ ﮐﭩﮯ

    ﺩﻡ ﮔﮭﭩﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﮨﮯ ﺍﻓﺴﺮﺩﮦ ﺩﻟﯽ ﺳﮯ ﯾﺎﺭﻭ

    ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻓﻮﺍﮦ ﮨﯽ ﭘﮭﯿﻼﺅ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺕ ﮐﭩﮯ

    ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺑﯿﮑﺎﺭ ﮨﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺗﻢ ﺑﮭﯽ ﮨﻮ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﺑﮩﺖ

    ﺩﻭﺳﺘﻮ ﺁﺝ ﻧﮧ ﮔﮭﺮ ﺟﺎﺅ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺕ ﮐﭩﮯ

    ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﮯ ﮨﻮ ﺳﺮﺷﺎﻡ ﺍُﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﺎﺻﺮ

    ﺍُﺳﮯ ﭘﮭﺮ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﺑﻼ ﻻﺅ ﮐﮧ ﮐﭽﮫ ﺭﺍﺕ ﮐﭩﮯ 
     

     
  3. Ayesha Mirza
    رات پھیلی ہے تیرے، سرمئی آنچل کی طرح 
    چاند نکلا ہے تجھے ڈھونڈنے، پاگل کی طرح 
    خشک پتوں کی طرح ، لوگ اُڑے جاتے ہیں 
    شہر بھی اب تو نظر آتا ہے، جنگل کی طرح
    پھر خیالوں میں ترے قرب کی خوشبو جاگی
    پھر برسنے لگی آنکھیں مری، بادل کی طرح 
    بے وفاؤں سے وفا کرکے ، گذاری ہے حیات 
    میں برستا رہا ویرانوں میں، بادل کی طرح

  4. Ayesha Mirza
    ﭼﻮﮌﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﻨﮕﻦ ﺗﮏ

    ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﺩﮬﻮﺭﯼ ﮨﯿﮟ

    ﺧﻮﺍﺏ ﮔﮧ ﺳﮯ ﭼﻠﻤﻦ ﺗﮏ

    ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﺩﮬﻮﺭﯼ ﮨﯿﮟ

    ﭘﮭﻮﻝ ﺍﻭﺭ ﺷﮕﻮﻓﻮﮞ ﭘﺮ

    ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ ﺗﻮ ﺁﺗﯽ ﮨﯿﮟ

    ﺗﺘﻠﯿﺎﮞ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﯿﮟ

    ﺧﻮﺍﺏ ﮔﺮ ﻧﮧ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﺗﻮ

    ﻟﮍﮐﯿﺎﮞ ﺍﺩﮬﻮﺭﯼ ﮨﯿﮟ
     

  5. Ayesha Mirza
    خِرد، جُنوں اور خواب، حقیقت، عِلم، عَمل، اِلہام

    محنت، رغبت، چاہت، فُرصت، پِیا تمہارے نام

    پِیا تمہارے نام کیا ہے عِشق، سفر، انجام

    عِشق ہماری ذات مُناسب، پِیا تمہارے نام

    پُورب، پچھّم، صُبح، دُپہری، فردا، دوش، مُقام

    گھنگھرو، پایَل، ٹِیکہ، گھونگٹ، پِیا تمہارے نام

    کاجل، مانگ، حِنا، انگوٹھی، سُرمہ، نینن، گیسُو

    طبلہ، تال، بَنسُریا، ڈھولک، پِیا تمہارے نام

    رات تمہارے نام ہماری، تَیل دِیا اور باتی

    دِید، نظر، گفتار، عِبادت، پِیا تمہارے نام

    راگ، سُہاگ، گلاب، دَوپٹّہ، چُوڑی، کنگن، جُوڑا

    سانس، لب و رخسار کی حِدّت، پِیا تمہارے نام

    رہبر، محرم، محور، مرکز، عِشق، پریت، محبّت

    من بیتی میں یہ تشبِیہت، پِیا تمہارے نام

    من کا وَرقہ وَرقہ کھولوں، نام تمہارا دیکھوں

    مَن کی ایسی عِشق کِتابت، پِیا تمہارے نام

    ہجرت، قید، قفس اور سولی، دار رسن اور مقتل

    جھیلوں تہمت، طنز، ملامت، پِیا تمہارے نام
     

     
  6. Ayesha Mirza
    محسوس ہوتا ہے کہ مجھ سے

    یقیناً ایک جسارت ہو گئی ہے

    تمہیں کوئی شکایت تو نہ ہو گی

    مجھے تم سے "محبت" ہوگئی ہے
     

  7. Ayesha Mirza
    آج جانے کی ضد نہ کرو
    یونہی پہلو میں بیٹھی رہو
    ہائے ! مر جائیں گے، ہم تو لُٹ جائیں گے
    ایسی باتیں کیا نہ کرو
    تم ہی سوچو ذرا کیوں نہ روکیں تمہیں
    جان جاتی ہے جب اُٹھ کے جاتے ہو تم
    تم کو اپنی قسم جانِ جاں
    بات اتنی میری مان لو
    وقت کی قید میں زندگی ہے مگر
    چند گھڑیاں یہی ہیں جو آزاد ہیں
    ان کو کھو کر ابھی جانِ جاں
    عمر بھر نہ ترستے رہو
    کتنا معصوم و رنگیں ہے یہ سماں
    حسن اور عشق کی آج معراج ہے
    کل کی کس کو خبر جانِ جاں
    روک لو آج کی رات کو
    گیسوؤں کی شکن ہے ابھی شبنمی
    اور پلکوں کے سائے بھی مد ہوش ہیں
    حسنِ معصوم کو جانِ جاں
    بے خودی میں نہ رسوا کرو......
     

  8. Ayesha Mirza
    ایک پہچان بن گئے آخر 

    محل ویران بن گئے آخر

    آپکی جستجو میں نکلے تھے

    اپنی پہچان بن گئے آخر

    ہم ستارہ ہوئے نہ کوئی پھول

    سخت چٹان بن گئے آخر

    مرحلے تیرے ہجر کے جاناں

    کتنے آسان بن گئے آخر

    کوئی اک میزبان بھی ٹہرے

    سب ہی مہمان بن گئے آخر

    اک نگاہِ کرم اٹھی ایسی

    درد درمان بن گئے آخر

    اتنا سوچا ہے ترے ہجراں کو

    دل میں زندان بن گئے آخر
     

     
  9. Ayesha Mirza
    محبت جیت ہوتی ہے

    مگر یہ ہار جاتی ہے

    کبھی دل سوز لمحو ں سے

    کبھی بیکار رسمو ں سے

    کبھی تقدیر والو ں سے

    کبھی مجبور قسموں سے

    محبت جیت ہوتی ہے

    مگر یہ ہار جاتی ہے

    کبھی یہ چاند جیسی ہے

    کبھی یہ دھوپ جیسی ہے

    کسی کا چین بنتی ہے

    کسی کو رول دیتی ہے

    کبھی یہ لہے پر جاتی ہے

    کبھی یہ مار جاتی ہے

    محبت جیت ہوتی ہے

    مگر یہ ہار جاتی ہے
     

  10. Ayesha Mirza
    وہ آدمی عام سا
    اک قصہ ناتمام سا
    نہ لہجہ بےمثال ہے
    نہ بات میں کمال ہے
    ہے دیکھنے میں عام سا
    اداسیوں کی شام سا
    نہ مہ جبینوں سے ربط ہے
    نہ شہرتوں کا خبط ہے
    رانجھا ہے نا قیس ہے
    نہ انشاء ہے نا فیض ہے
    وہ پیکر اخلاص ہے
    وفا، دعا اور آس ہے
    وہ شخص خود شناس ہے
    تم ہی کرو یہ فیصلہ
    وہ آدمی ہے عام سا
    یا پھر بہت ہی خاص ہے

     

     
  11. Ayesha Mirza
    جو جسم کا ایندھن تھا

    گلنار کیا ہم نے

    وہ زہر کہ امرت تھا

    جی بھر کے پیا ہم نے

    سو زخم ابھر آئے

    جب دل کو سیا ہم نے

    کیا کیا نہ مَحبّت کی

    کیا کیا نہ جیا ہم نے

    لو کوچ کیا گھر سے

    لو جوگ لیا ہم نے

    جو کچھ تھا دیا ہم نے

    اور دل سے کہا ہم نے

    رکنا نہیں درویشا......!
     

  12. Ayesha Mirza
    ہم جوخوشبو کےہمسفرٹھہرے

    عشق کو بددعا نہیں دیتے

    عشق کا احترام کرتے ہیں 

    وجہہ تخلیق کائنات ہےعشق

    عشق کو ہم سلام کرتے ہیں

    عشق وہ ربط ہے کہ جس کے طفیل

    ہم خدا سے کلام کرتے ہیں _! 
     

     
  13. Ayesha Mirza
    عادت ہی بنا لی ہے

    اس شہر کے لوگوں نے 

    انداز بدل لینا

    آواز بدل لینا 

    دنیا کی محبت میں 

    اطوار بدل لینا 

    موسم جو نیا آئے 

    رفتار بدل لینا 

    اغیار وہی رکھنا 

    احباب بدل لینا 

    عادت ہی بنا لی ہے،،،،،،ا

    رستے میں اگر ملنا 

    نظروں کو جھکا لینا 

    آواز اگر دے دو 

    کترا کے نکل جانا 

    ہر اک سے جُدا رہنا

    ہر اک سے خفا رہنا 

    ہر اک سے گِلہ کرنا 

    جاتے ہوئے راہی کو 

    منزل کا پتہ دے کر 

    رستے میں رُلا دینا 

    عادت ہی بنا لی ہے اس شہر کے لوگوں نے 

    اک کھیل سمجھ لینا 

    شدت کی محبت کو 

    جب چاہا چلے آنا 

    جب چاہا چلے جانا

    عادت ہی بنا لی ہے،،،، ا
     

     
  14. Ayesha Mirza
    ﺻﻨﻢ ﺗﺮﺍﺵ ﺳﮯ ﮐﮩﮧ ﺩﻭ ﺧﻠﻮﺹ ﮐﻢ ﮐﺮ ﺩﮮ

    ﺧﺪﺍ ﭘﺮﺳﺘﻮﮞ ﮐﺎ ﺟﯿﻨﺎ ﻣُﺤﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

    ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺩِﻝ ﻧﮩﯿﮟ ﺭَﮐﮭﺘﮯ ، ﯾﻘﯿﻦ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ

    ﮐﺴﯽ ﺣﺴﯿﻨﮧ ﮐﺎ ﺟﺐ ﺍِﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

    ﺩُﻋﺎ ﮨﮯ ﻋﺸﻖ ﻣﺮﺍ ، ﺗﯿﺮﯼ ﺭُﻭﺡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﮯ

    ﯾﮩﯽ ﻧﺸﺎﻁ ﻓﻘﻂ ﻻﺯَﻭﺍﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ

    ﺑﻀﺪ ﮨﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕِ ﻭﺍﻋﻆ ﺗﻮ ، ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮ ﻟﻮ ﻗﯿﺲ

     ﻣﺮﺗﮯ ﻭَﻗﺖ ﺳﺒﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺣﻼﻝ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ        
         
  15. Ayesha Mirza
    میں تجھ کو بھولنا چاھوں
    تو کیسے بھول سکتا ہوں
    یہی اک روگ حرضِ جان ہوا ہے
    آجکل جاناں
    تمہیں سو مرتبہ انکھوں سے اوجھل کر کے دیکھا ہے وفور غم سے اپنا آپ بوجھل کر کے دیکھا ہے حریف جان ہے
    لیکن تو اب دل میں رہتا ہے
    میری رگ رگ میں بہتا ہے
    عمل کرتا ہوں میں اُس پر
    جو تو اندر سے کہتا ہے
    تو مجھ کو توڑ سکتا ہے
    تو مجھ کو چھوڑ سکتا ہے
    اگر پھر جوڑنا چایے
    تو مجھ کو جوڑ سکتا ہے
    مگر میرے لیے تو جان من یہ کام مشکل ہے تمہارے ہجر کا
    یہ جیتے جی الزام مشکل ہے
    کوئ ایسا طریقہ ہو
    کہیں ایسا سلیقہ ہو
    میں تجھ کو بھول جانے پر
    بہت مجبور ہو جاؤں
    نظر سے دور ہو جاؤں
    کہیں کافور ہو جاؤں
    کسی قصے کہانی کی طرح
    مشہور ہو جاؤں
    مگر میں جانتا ہوں
    جیتے جی ایسا ہو نہیں سکتا
    چلو پھر ایسا کرتا ہوں
    کہ اس خواہش کی خاطر
    زندگی سے ھاتھ دھوتا ہوں
    کہیں برزخ میں سوتا ہوں
    مگر اس بات کی جانم بتاؤں کیا ضمانت ہے
    کہ مر کر بھی یہ آنکھیں یہ چہرا بھول سکتا ہوں
    گھنی زلفوں کا بادل 
    وصل کی شب
    ریشمی انچل
    یہ سب کچھ بھولنا چاہوں
    تو کیسے بھول سکتا ہوں
    میں تجھ کو بھولنا چاہوں تو کیسے بھول سکتا ہوں
     

     
  16. Ayesha Mirza
    سنیں آج کہیں ناں جائیں نہ
    اچھا جانا اگر ضروری هے
    تو جلدی لوٹ آئیے گا
    پھر کہتی هو بالوں میں
    انگلیاں پھیر کے تم
    روز ایک جیسے بال کیوں بناتے هیں
    آپ پرفیوم بھی بھول جاتے هیں
    اک بات تو میں بھی بھول گئ
    ذرا کان ادھر لائیے گا
    یہ سفید رنگ کی شرٹ جو هے
    آپ پر بہت هی جچتی هے
    اففف پھر گھڑی نے آٹھ بجا دیۓ
    آپ کو جانے کی بھی جلدی هے
    اچھا یاد بھی مجھ کو کرنا آپ
    اور لنچ بھی وقت پر کیجئے گا
    جانتی هوں هوگا کام بہت
    پر ایک فون ضرور کیجۓ گا
    پھر بڑھتی دھڑکن سے کہتی هو
    سنیں ! گاڑی آہستہ چلائیے گا
    تم روزانہ مجھے بچوں کیطرح
    یہ ساری ہدایتیں کرتی هو
    جب میں بھولنے لگتا هو
    موبائل ،وائلٹ
    تم ہنستی هو
    تھوڑا بگڑتی هو
    اور شدت جذبات سے تم
    مجھ کو باہوں میں بھرتی هو
    پھر مجھ کو رخصت کرتی هو
    سنو میں دن بھر خوش رهتا هوں
    جب وه ساری باتیں سوچتا هوں
    جو صبح تم ٹائی باندھتے کرتی هو

  17. Ayesha Mirza
    Zara si der mein hum kaise kholte uss ko,
    tamaam umar lagi jhooth bolte uss ko.
    Jise kasheed kiya tha khumaar-e-khushboo se,
    misaal-e rang hawaaon mein gholtey uss ko.
    Woh khwaab mein hi utarta shuaa-e subah ke saath,
    hum apne aap hi palkon pe taultey uss ko.
    Woh ashq tha usey aankhon mein dafan hona tha,
    gauhar na tha ki sitaaron mein roltey uss ko.
    Woh bewafa tha toh iqraar laazmi karta,
    kuchh aur der meri jaan tatoltey uss ko.
    Kisi ki aankh se ‘mohsin’ zaroor peeta hai,
    tamaam shehar ne dekha hai daultey uss ko. !!

  18. Ayesha Mirza
    مرے ہرکاب ہیں وحشتیں، میری و حشتوں کو قرار دے
    مجھے مہر وماہ سے غرض کیا، مجھے بھیک میں میرا یار دے..
    کئی دن سے دل یہ دکھا نہیں، کوئی شعر میں نے کہا نہیں
    مرے حال پہ بھی نگاہ کر، کسی کیفیت سے گزار دے..
    میں ہزار بجھتا دیا رہوں، سر دشت میں بھی جلا رہوں
    مری شاخ غم کو نہال کر، نئی کونپلوں کو بہار دے..
    کئی دن سے کوچہ ذات میں کسی دشت غم کا پڑاؤ نہیں
    کوئی شام مجھ میں قیام کر مرے رنگ روپ کو نکھار دے..
    میں شکست ذات کی حد میں ہوں، کسی سرد رات کی ذد میں ہوں
    مجھے امتحاں سے گزار دے، کوئی مہر مجھ میں اتار دے..
    تیری راہ گزر میں ہوں خیمہ ذن، ہے بدن پہ ہجر کا پیر ہن
    جو گزر گئی سو گزر گئی میری باقی عمر سنوار دے..
    جہاں عرش و فرش ہیں باادب، اسی در پہ جا کہ سوال کر
    وہی نور بخشے ہے خاک کو، وہی آئینے کو غبار دے.......!
     

  19. Ayesha Mirza
    محبت ذات کے اندر کوئی گُم ذات ہوتی ہے

    محبت کے تعاقب میں ہمیشہ گھات ہوتی ہے

    محبت میں خوشی سے موت کو ہم اوڑھ لیتے ہیں

    ذرا سوچو کہ اس میں کوئی ایسی بات ہوتی ہے

    محبت شہد میں لپٹا ہوا اک زہر ہے لیکن

    محبت جیت ہوتی ہے، محبت مات ہوتی ہے

    محبت خود زمانہ ہو کے بھی ہے موسموں جیسی

    کبھی یہ صبح ہوتی ہے کبھی یہ رات ہوتی ہے

    محبت ایسی خوشبو ہے، کبھی اک جا نہیں رہتی

    کسی سے دور ہوتی ہے کسی کے ساتھ ہوتی ہے

    محبت ہے سرابوں سے، کہ جیسے ریت مُٹھی ہیں

    کسی سے بات کرتی ہے کسی کے بات ہوتی ہے

    محبت جس کو حاصل ہو، مقدر کا سکندر وہ

    محبت رب کی جانب سے حسیں سوغات ہوتی ہے
     

     
  20. Ayesha Mirza
    ہم سنائیں تو کہانی اور ہے
    یار لوگوں کی زبانی اور ہے
    چارہ گر روتے ہیں تازہ زخم کو
    دل کی بیماری پرانی اور ہے
    جو کہا ہم نے وہ مضمون اور تھا
    ترجماں کی ترجمانی اور ہے
    ہے بساطِ دل لہو کی اک بوند
    چشمِ پر خوں کی روانی اور ہے
    نامہ بر کو کچھ بھی ہم پیغام دیں
    داستاں اس نے سنانی اور ہے
    آبِ زمزم دوست لائے ہیں عبث
    ہم جو پیتے ہیں‌ وہ پانی اور ہے
    سب قیامت قامتوں کو دیکھ لو
    کیا مرے جاناں کا ثانی اور ہے 
    شاعری کرتی ہے اک دنیا فراز
    پر تری سادہ بیانی اور ہے
     
  21. Ayesha Mirza
     
    مَن عِشق کی اگنی جلتی ہے، تم بَنہیّاں تھامو جان پِیا

    میں رُوپ سہاگن دھارَن کو، راہ دیکھوں نینَن تان پِیا

    بس ایک جھلک پہ جَگ سارا، تَج تیرے پیچھے چل نِکلی

    تو عِشق میرا، تو دِین میرا، تو عِلم میرا اِیمان پِیا

    میں ننگے پَیروں نَقش تیرے قدموں کے چُنتی آئی ہوں

    اب جان سے ہاری راہوں میں، یہ رستہ تو انجان پِیا

    سِر مانگے تو میں حاظِر ہوں، زَر مانگو تو میں بے زَر ہوں

    تم عِشق کی دولت دان کرو، میں ہو جاؤں دَھنوان پِیا

    میں بھُول بھٹک کے ہار گئی، ہر بار تمہارا نام لِیا

    اِس عِشق کی کملی جوگن کے، ہر قِصّے کا عُنوان پِیا

    میں پیاس سجائے آنکھوں میں، سب دَیر حرم میں ڈھونڈ پھری

    اب دیِپ جلائے مَن مندِر، چُپ چاپ کھڑی حیران پِیا
     

     
  22. Ayesha Mirza
    خواب تھا دیدہ بیدار تلک آیا تھا

    دشت بھٹکتا ہوا دیوار تلک آیا تھا

    اب میں خاموش اگر رہتا تو عزت جاتی

    میرا دشمن میرے کردار تلک آیا تھا

    اتنا گریہ ہوا مقتل میں کہ توبہ توبہ

    زخم خود چل کے عزادار تلک آیا تھا

    عشق کچھ سوچ کے خاموش رہا تھا ورنہ 

    حسن بکتا ہوا بازار تلک آیا تھا

    محسن اس وقت مقدر نے بغاوت کر دی

    جب میں اس شخص کے معیار تلک آیا تھا
     

     
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
×
×
  • Create New...