Jump to content
  • entries
    180,833
  • comments
    28
  • views
    409,265

سعودی ایران ثالثی کا معاملہ


۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ ویسے یوں تو پہلی جنگ عظیم کے بعد ہی سے سے عالم اسلام کے بحران مسلسل بڑھتے جارہے ہیں لیکن نائن الیون کے بعد سے تو گویا بحرنوں کا سیلاب سا امنڈ آیا ہے ،،، کبھی عراق پہ امریکا کی جارحانہ افتاد تو کبھی افغانستان میں نیٹو افواج کی یلغار ،، پھر بشار الاسد کے شام کی خانہ جنگی میں ہونے والی مارا ماری اور لیبیا کے بے سمت و بے مہار اونٹ کے خونی شتر غمزے ،، ساتھ ہی کبھی صومالیہ و چاڈ میں خانہ جنگی تو کبھی نائجیریا کے بوکو حرام کی جدال و قتال ۔۔۔ القاعدہ ، الناصرہ اور حزب اللہ کی کارروائیوں سے عالم اسلام کیا کم لہورنگ ہوا تھا کہ یکایک داعش بھی جنم لیتے ہی خونریزیوں کی اس داستان کو مزید سنگین کرنے کیلیئے کود پڑی ،،، الغرض عالم اسلام کو چاروں طرف سے مہیب بحرانوں نے گھیر لیا تھا اور لگتا تھا کہ شاید اب یہ سب خونریزیاں عالم اسلام کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کیلیئے تازیانہ بن جائیں ،،، مگر ہوا کچھ اور ،، اچانک ہی سعودی عرب اور ایران الجھ پڑے اور امن کی رہی سہی امیدیں بھی خاک میں مل گئیں کیونکہ یہ دونوں ممالک تو اس خطے کے بڑے چودہری ہیں ۔۔۔ ایران سعودی تنازع کیا ہے کیا نہیں ہے یہاں اسکا تجزیہ کرنا مقصود نہیں کیونکہ اسکی اپنی اک پرانی تاریخ ہے اور دونوں کے پاس اپنے حق میں کہنے کیلیئے بہت کچھ ہے ،، اور اسکا یہ وقت بھی نہیں ہے کیونکہ انکے درمیان فوجی سطح پہ الجھ پڑنے کےامکانات بہت بڑھ گئے ہیں تاہم یہ کہے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ دونوں ہی ممالک کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ انکے رویئے اور اقدامات کے مشرق وسطیٰ ہی نہیں تمام عالم اسلام پہ بہت شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں لہٰذا انکے درمیان حالیہ تنازع کو اگر ختم نہیں تو ممکنہ حد تک کم کیا جانا ازحد ضروری ہے اور وقت کے اسی اہم تقاضے کو سمجھتے ہوئے پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کا ڈوال ڈالنے پہ کمر کسی ہے اور اس ضمن میں انہں نے پہلے مرحلے میں سعودی عرب کا رخ کیا ہے - راحیل شریف اور راحیل شریف کا یہ اہم اقدام نہایت لائق ستائش ہے اور اس حقیقت کا مظہر بھی کہ اب اگر تمامتر نہیں تو کئی اہم معاملات پہ سول اور فوجی قیادتیں ایک پیج پہ آچکی ہیں اور انکے درمیان یہ ہم آہنگی کئی اہم قومی امور پہ بھی معاملات کو بہتر بنانے کی مد میں بہت ممد و معاون ہوگی وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ثالثی اقدام کی کامیابی کے امکانات کی بابت بھی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں جن میں سب سے بڑا تو یہ ہے کہ کیا اسکی کوششوں کو شرف قبولیت بھی مل پائے گا یا پھر دونوں جانب یا کسی ایک جانب سے اسکو ہری جھنڈی دکھادی جائیگی تو یہاں یہ سمجھا جانا بھی بیحد ضروری ہے کہ یقینناً اس ضمن میں پہلے کافی ہوم ورک کرلیا گیا ہوگا اور اندر خانے بیک ڈور ڈپلومیسی بالضرور بروئے کار لائی گئی ہوگی اور دونوں جانب سے خیرمقدمی ''گرین سگنل'' ملنے کے بعد ہی معاملات کا یہ رخ بنا ہوگا کہ دونوں اہم ترین پاکستانی اکابرین نے ثالثی کے اس سفر کیلیئے پاؤں باہر نکالے ہیں - درحقیقت اس وقت خطے کے یہ دونوں ممالک آپس میں کسی قسم کا براہ راست تصادم خود بھی نہیں چاہتے کیونکہ دونوں کو تیل کی گرتی ہوئی قیمت اور اسکے نتیجے میں زوال پزیر معیشت کے آسیب نے بری طرح جکڑ رکھا ہے اور امن دونوں ہی کی لازمی ضرورت ہے ان دونوں ممالک نے گزشتہ ہفتے ایکدوسرے کے خلاف جو تلخ بیانات دیئے تھے اب انکی شدت میں کمی آگئی ہے کیونکہ دونوں ہی رفتہ رفتہ جذبات کے بجائے حقائق کی دنیا میں واپس آتے جارہے ہیں اس وقت انکو ضرورت تھی تو کسی ایسے قابل بھروسہ ملک کی کہ جو دونوں کیلیئے قابل قبول ہو اور وہ آگے بڑھکر انکے درمیان مذاکرات اور گفت و شنید کی راہ ہموار کردے اور یہ ضرورت پاکستان کی شکل میں پوری ہوتی نظر بھی آرہی ہے کیونکہ پاکستان خواہ وسائل میں کتنا ہی کم سہی لیکن اسکی عسکری و جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ ہے اور دونوں ممالک سے اسکے تعلقات کی تاریخ بھی کافی پرانی ہے یہاں آخر میں یہ عرض کرنا مناسب ہے کہ پاکستان اس سلسلے میں او آئی سی کو بھی حقیقی طور پہ متحرک کرے اور اس سلسلے میں اسکے کردار کو بھی درمیان میں لائے ورنہ پھر یہ او آئی سی بھلا کس مرض کی دوا ہے ،، اسکے ساتھ ساتھ ثالثی کے اس عمل میں کم از کم دو اور ممالک کو بھی شامل کیا جائے کہ جن پہ یہ دونوں ممالک متفق ہوسکتے ہوں تاکہ کسی فریق کا بعد میں طے شدہ امور پہ آسانی سے دائیں بائیں ہونا ممکن ہی نہ رہے- یہ ثالثی اور بھی موثر اور بامعنی ہوسکتی ہے کہ جب اس میں فریقین ک یرضامندی سے چین کو بھی شریک کرلیا جائے کیونکہ امریکا کے بعد چین ہی وہ دوسری طاقت ہے کہ جسکی وجہ سے فریقین اپنے معاہدے کی پاسداری پہ مجبور و پابند ہوسکتے ہیں اور چونکہ چین کے کبھی کوئی توسیع پسندانہ عزائم رہے بھی نہیں چنانچہ اس میں بظاہر حقیقی خطرہ بھی کوئی نہیں ہے .


View the full article

0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Add a comment...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.