Jump to content
  • entries
    180,833
  • comments
    28
  • views
    409,265

تحسین ہونی چاہیے ۔۔۔ !


۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ وطن عزیز یوں تو متعدد سنگین مسائل کا شکار ہے لیکن ایک مسئلہ ایسا ہے کہ جو درحقیقت کئی مسائل کی جڑ ہے اور وہ ہے قانون کا اطلاق صرف غریبوں اور کمزوروں پہ کیا جانا ،،،، اس مسئلے کی بنیاد دراصل معاشرتی اونچ نیچ یہ مبنی وہ رویہ ہے کہ جسکے تحت آبادی کے محروم طبقات کو شرف انسانی دیئے جانے کے لائق ہی نہیں سمجھا جاتا البتہ کسی بھی معمولی غلطی پہ بڑی مستعدی سے انکی گردن ناپ لی جاتی ہے اور قانون کا پوری شدت سے اطلاق کرڈالا جاتا ہے اور بالا دست طبقات کے ہر جرم کی طرف سے نہ صرف آنکھیں بند کرلی جاتی ہیں بلکہ کسی مرحلے پہ انکا جرم کھل جانے پہ ہردور میں حکومتیں انہیں ہر ممکن تحفظ فراہم کرنے میں بہت چوکسی دکھاتی ہیں ،،، بد قسمتی سے یہ وہ طرز عمل ہے جو کے آزادی کے چند ہی برس بعد سے ہمارے حکمرانوں کا شعار بن گیا تھا اور اب بھی کسی نہ کسی طور سرکاری معاملات میں جلوہ فرما دکھائی دیتا ہے لیکن ایک اچھی اور حیرت انگیز خبر شہباز شریف صاحب کے حوالے سے ہمیں سننے کو ملی ہے تو اؤل تو ہمیں یقین ہی نہیں آرہا اور دوسرے اگر یہ درست ہے تو ہمیں حیرانی ہے کہ آخر اسکی قومی سطح پہ کوئی تحسین سننے اور دیکھنے کو کیوں نہیں ملی ،،،؟ اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے چند برس قبل جبکہ لاہور کے زیر تعمیر رنگ روڈ کے کام کے معاملے میں اس وقت کھنڈت ڈال دی تھی کہ جب اسکے معیار کو مقررہ پیمانوں سے کہیں کم اورناقص پایا تھا ،،، اس سے قبل متعلقہ کنٹریکٹر کامران کیانی کو انہوں نے اس بارے میں دوبار وارننگ بھی دی تھی لیکن وہ موصوف اس تڑی کو خاطر میں اسلیئے نہیں لائی تھے کیونکہ وہ اس وقت کے برسرمنصب آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی کے بھائی تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ خواہ کیسی ہی اندھی مچائیں کوئی انکا ہاتھ نہیں روک سکتا کیونکہ وہ طاقت و اختیار کی ایک بہت بڑی علامت سے نہایت قریبی خونی رشتے میں منسلک تھے اوریہ وہ حقیقت ہے کہ جسے وطن عزیز میں روایتی طور پہ اب تک ''آخری دلیل'' سمجھ کر چپ سادھنے ہی میں عافیت سمجھی جاتی رہی ہے ،،، وہ چاہتے تو اس خوفناک حقیقت کے سامنے یہ کہکر اپنی جان چھڑا سکتے تھے کہ یہ ٹھیکہ ان سے پہلے والی پنجاب حکومت کے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی نے دیا تھا اور وہ اس ''گناہ'' کے ذمہ دار نہیں ہیں اور زیادہ سے زیادہ یہ کرتے کہ بڑے کیانی صاحب کی سبکدوشی کے بعد اس ناقص سڑک کو پرویز الہٰی کو طعنے مارنے اور بدنام کرنے کیلیئے اپنی انتخابی اشتہاری مہم کا حصہ بنا ڈالتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور کسی خوف کے آگے ڈھیر ہونے کے بجائے انہوں نے وہ ہی کیا جو انہیں کرنا چاہیئے تھا یعنی اس ٹھیکے کو منسوخ کرکے ایک کھلے مقابلے کے تحت ایک ذمہ دار اور اچھی ساکھ والے ادارے کو یہ کام سونپ دیا کہ جسنے واقعی اچھا اور معیاری کام کرکے اپنے نام اور ساکھ کی لاج رکھی اور اگر یہخبر درست ہے تو پھر شہباز شریف اس ایماندارانہ طرزعمل کیلیئے بجا طور پہ نہایت تعریف اور سائش کے مستحق ہیں یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ اکیلے شہباز شریف ہی نہیں جنرل کیانی بھی لائق توصیف ہیں کہ انہوں ماضی کی روایتوں کے برعکس کسی غلط کار کا جو کہ خواہ انکا سگا بھائی ہی کیوں نہ تھا تو اسکا ساتھ دینا گوارا نہ کیا اور اپنی طاقت و اختیار کی قوت کو شہباز شریف کے اس سخت فیصلے کی راہ میں مزاحم ہونے نہ دیا اور کسی دوسرے کنٹریکٹر کیلیئے یہ ممکن ہوسکا کہ وہ یہ ٹھیکہ لے سکے اور صحیح سڑک کی تعمیر خوش اسلوبی سے مکمل کرسکے ۔۔۔ ترقی یافتہ ممالک کے پیمانے سے دیکھا جائے تو ان دونوں شخصیات نے کوئی ایسا بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا کیونکہ یہ انکے فرائض کا حصہ تھا اور مغربی ممالک میں یہ چلن نرالانہیں بلکہ ایسا نہ ہونا غیرمعمولی بات ہے لیکن یہاں ہمارے وطن کی نسبت سے یہ فی الواقع ایک بہت بڑی بات ہے جو کہ نہایت پزیرائی کے قابل ہے ،،، لیکن لگتا یوں ہے کہ ہم رفتہ رفتہ یا تو اچھے کاموں کو سراہنے کے ہنر سے ہی محروم ہوتے جارہے ہیں یا پھر اس امر سے ڈرنے لگے ہیں کہ ہمیں ''جانبدار'' نہ سمجھ لیا جائے ،، اور یہ دونوں ہی وجہیں قومی بہبود کی راہ میں نہایت تشویش کی باتیں ہیں ۔۔۔ اہل صحافت ہوں یا عام عوام ہم جہاں برے کاموں پہ تنقید میں مستعدی دکھانا اپنا فرض سمجھتے ہیں‌ وہاں اچھے کاموں کو سراہنے میں بھی سرگرمی دکھانی چاہیئے،،، حق بحقدار رسید اسی کو کہتے ہیں


View the full article

0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Add a comment...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.