۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ بہت عرصہ گزر چلا تھا کہ کھیلوں کے بین الاقوامی مقابلوں کے کسی میدان سے کوئی خوشخبری سنائی نہیں دی تھی اور ایک طویل مدت سے کسی بھی بڑے ٹورنامنٹ میں پاکستان کی سبز یونیفارم زیب تن کیئے کسی کھلاڑی کو گولڈ میڈل پاتے نہیں دیکھا گیا تھا اور لگتا یوں تھا کہ گویا کامیابی و تقدیر کی دیوی ہم سے روٹھ ہی گئی ہے ،،، لیکن پھر 12 فروری کو بھارت کے شہر گوہاٹی سے ایک نہایت خوش کن خبر ملی کہ اس روز بھارت کو اسی کے میدان میں پاکستانی ہاکی ٹیم نے 12 ویں ساؤتھ ایشین گیمز کے فائنل میں ایک کے مقابلے میں دو گول سے شکست دیدی اور یوں طلائی تمغے کا انعام پایا - یہ کامیابی اس لیئے بھی غیرمعمولی ہے کیونکہ پاکستان نے اپنے روایتی حریف بھارت کو اسی کے میدانوں میں دھول چٹائی ہے اور کسی نہ کسی حد تک ان کئی شکستوں کا غم غلط کرنے کی کوشش کی ہے کہ جو حالیہ برسوں میں کرکٹ کے کئی مقابلوں میں پاکستان کو بھارت کے مقابل اٹھانی پڑی ہیں- گویا جو کام کرکٹ کے گلیمر والے نامور کھلاڑی نہ کرسکے وہ ہاکی کے ان غیرمعروف سے شاہینوں نے بخوبی کردکھایا لیکن یہاں میرا سوال یہ ہے کہ اس بڑے کانامے کے باوجود کتنوں کو بھلا یہ معلوم ہے کہ یہ اویس الرحمان کون ہے کہ جس کے واحد گول کے بل پہ پاکستان نے بھارت کے مقابل اس فائنل میں فتح پائی تھی اور میڈیا میں کتنی جگہ اسکے انٹرویو لیئے گئے یا اسکی شخصیت اور فن پہ کوئی تفصیلی رپورٹ دکھائی گئی یا اس تاریخی کارنامے کے بعد پوری ٹیم کا کوئی تفصیلی تعارف کہیں پیش کیا گیا ہو ،،،؟ جبکہ اسکی جگہ اگر کرکٹ کے کسی مقابلے میں کسی کھلاڑی کی وجہ سے کامیابی ملی ہوتی تو میڈیا میں اس کھلاڑی کے کتنے ہی روز تک قصیدے پڑھے جاتے اور انعامات و مال و متاع کا بڑا ڈھیر اسکے بلکہ پوری ٹیم کے قدموں میں ڈال دیا جاتا ۔۔۔ لیکن بدقسمتی سے اس کارنامے کے باوجود یہ ٹیم ابتک تقریباً گمنامی کی حالت میں ہے جبکہ ماضی میں ایک وقت وہ تھا کہ ملک کا بچہ بچہ اپنے ایسے ''ہیرو'' بلکہ پوری ٹیم کے ارکان کے بارے میں خاصی معلومات رکھتا تھا اور ان دنوں تو میڈیا کی رسائی یوں ہر گھر تک نہ تھی ، نہ ہی ٹی وی ہر کسی کے دسترس میں تھا اور نہ ہی اور نہ ہی آج کی طرح 100 کے لگ بھگ چینل ناظرین کے تصرف میں تھے ،،، لیکن وہ دن بھی آج ہی کی طرح کے تھے کہ جب کرکٹ کے میدانوں سے نہیں بلکہ ہاکی ہی کے میدان سے پاکستان کو سرخروئی نصیب ہوا کرتی تھی یا پھر اس بوجھ کو کسی حد تک اسکواش نے سنبھالا دیا ہوا تھا - کرکٹ کا گلیمر اپنی جگہ لیکن اصل اہمیت تو کامیابی کی ہے اور تمغوں و اعزازات پانے کی ہے اور اس حوالے تو ہاکی طویل عرصے تک کئی بین الاقوامی ٹورنامنٹس میں ہمارے قومی افتخار کی علامت رہی اور گو ہماری اپنی کوتاہیئوں کی وجہ سے اس پہ زوال آچکا ہے لیکن پھر جب ایک بڑی مدت کے بعد ہماری ہاکی ٹیم نے ایک اہم بین القوامی ایونٹ میں سبز ہلالی پرچم کو سربلند کردیا ہے تو پھر آخر اسکی خاطر خواہ پزیرائی کیوں نہیں کی گئی کیوں پاکستان سپر لیگ کی چکاچوند میں الجھے میڈیا نے اسکی اس کامیابی کو یوں ہوا میں اڑا دیا کہ جیسے یہ کوئی اہم بات ہی نہ ہو جبکہ سپرلیگ کے نام پہ ایسے مقابلوں کو بھی سر پہ اٹھا رکھا ہے کہ جنکے نتائج کی کسی طرح کی کوئی بین الاقوامی اہمیت ذرا بھی نہیں ہے اور جس میں ایک شہر کے نام پر بنائی گئی ٹیم میں بھی اکثر دیگر شہروں کے کھلاڑی زیادہ ہوتے ہیں بلکہ غیرملکی کھلاڑیوں کو بھی شامل کرکے نجانے کس نوعیت کا ملغوبہ تیار کیا جاتا ہے . ہاکی ہمارا قومی کھیل ہے اور اسکی وجہ سے پاکستان کا سبز ہلالی پرچم دنیا بھر کے کئی میدانوں میں پوری شان و شوکت سے سربلند کرکے لہرایا گیا ہے لیکن اگر اس کھیل کی جانب حکومت اور میڈیا کی یہی نظراندازی جاری رہی تو ہاکی کو پاکستان کا قومی کھیل قرار دینے کا دعویٰ قطعی مضحکہ خیز ہوکر رہ جائے گا اور نئی نسل اس فراموش ہوتے کھیل کی جانب رخ بھی نہیں کرے گی اور یوں قومی افتخار کی ایک بڑی علامت ہمارے لیئے ماضی کی ایک بھولی بسری یاد بن کر رہ جائے گی
LIVE UPDATES
- 📢 Welcome to FundayForum – Explore Trending Topics
- 🌟 Discover What’s Trending Today
- Jason Ritter still feels his late father John Ritter's presence 13 years later
- Hayden Panettiere was ‘traumatised' before her painful death
- Trump posts map labeling Strait of Hormuz as US territory: Iran responds
- PM Shehbaz inaugurates Google's Pakistan office, calls it 'beautiful new journey'
- Falcons sign Za'Darius Smith to one-year deal after Browns reunion falls through
- Royal family shares first statement on Prince Edward after ex's claims
- PM's aide says SC ruling on Imran's hospital transfer 'independent, based on merit'
- Robin Williams' kids revive his social media page 12 years after death
- Taylor Swift marks ninth anniversary to iconic 'Reputation' comeback
- Mathilde Favier, Dior's influential PR director, dies at 57 in tragic accident: What we know

0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.