... فاضل جمیلی ...ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں پاکستان اور بھارت کے درمیان دھرم شالا میں ہونے والا ٹاکرا ہوگا یا نہیں؟ ورلڈکپ کے کوالیفائنگ میچ شروع ہوجانے کے باوجود ابھی تک کوئی واضح صورت سامنے نہیں آ رہی۔بھارت کے مذہبی انتہاپسندوں اور سابق فوجیوں کی تنظیم نے کھیل کو بھی کھلواڑ بنانےکی ٹھان رکھی ہے۔کوئی میچ سے قبل پچ کھودنے کی دھمکی دے رہا ہےتوسرحدی جھڑپوں کے بہانے مظاہروں پر مظاہرے کیے جارہا ہے۔ ایک طرح سے یہ میچ پاکستان اور بھارت کے درمیان ہونے کے بجائے کانگریس بمقابلہ بی جے پی اور ایکس سروس مین بمقابلہ بزنس مین بن گیا ہے۔ویسے بھی جب کبھی پاکستان اور بھارت کے مابین میچ گئے وہ محض کرکٹ میچ نہیں تھے بلکہ ان کی اہمیت ایک کھیل سے زیادہ ہی رہی ہےاور جب کھیل کے میدان میں اتنی گرما گرمی ہو تو اس کے لیے یقینی طور پر کسی ٹھنڈے مقام ہی کا انتخاب ہونا چاہیے جیسا کہ دھرم شالا کی شکل میں کیا گیا۔ لیکن دھرما شالا سے کرکٹ کا دیس نکالا کرنے والوں کے سامنے انٹرنیشنل کرکٹ کونسل(آئی سی سی) اور بورڈ آف کنڑول فارکرکٹ انڈیا (بی سی سی آئی)کے ارباب ِ بست و کشاد کی بے بسی دیدنی ہے۔اس صورتحال میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی مثال بھی ایسے لاوارث بچے کی سی ہے جسے کوئی بھی اپنانے کے لیے تیار نہ ہو۔پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کی غیرمستقل پالیسیوں کے ساتھ ساتھ بھارت کے حوالے سے ہونے والی بے توقیری بھی قومی ٹیمکی ناقص کارکردگیکی ایک وجہ ہو سکتی ہے۔ پاکستانی ٹیم حال ہی میں ہونے والے ٹی ٹوئنٹی ایشیا کپ میں جس برے طریقے سے ہاری ہے اسے سامنے رکھتے ہوئے ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں اس سے کچھ زیادہ امیدیں رکھنا خودفریبی کے سوا کچھ بھی نہیں۔ایسے میں ایک معصومانہ سا یہ مشورہ بھی دیا جا سکتا ہے کہ بھارت میں سیکورٹی نہ ملنے کے بہانے قومی کرکٹ ٹیم کو مزید ذلت و رسوائی سے بچانے کے لیےٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ میں حصہ لینے سے روک دیا جائے۔
0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.