۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ وطن عزیز کو آزاد ہوئے 68 برس ہوچلے ہیں لیکن ہم اہل وطن ابھی تک نہ ایک قوم کے سانچے میں ڈھل سکے ہیں اور نہ ہی کوئی مشترکہ نصب العین اپنا سکے ہیں ،، عملی صورت یہ ہے کہ ہم ایک بڑے سے خلاء میں تیر رہے ہیں اور بے وزنی کے عالم میں ادھر ادھر ہاتھ پاؤں چلاتے ہوئے کبھی ہمارا منہ نیچے کو ہوجاتا ہے تو کبھی پیر ،،، ابھی ہم کو دائیں کو مڑتے مڑتے بائیں کی جانب ہولیتے ہیں اور بائیں کی طرف جانے کا قصد کرتےہیں تو ہمارا رخ دائیں کی طرف ہوجاتا ہے ۔۔۔ یہ سب اسلیئے ہے کہ وہ اہم کام جو قومیں اپنی زندگی کی ابتداء ہی میں کرلیتی ہیں انہیں ہم کبھی سجنیدگی سے نہیں لیتے اور اسکے برعکس فضول اور بے حیثیت کاموں میں مشغول و مصروف رہنے ہی کو غنیمت گردانتےہیں اب اسی چلن کو لیجیئے کہ اس ملک میں جب جس کا دل چاہے بہت آسانی سے کسی بھی وقت کسی دوسرے کو غدار اور دشمن کا ایجنٹ قرار دے ڈالتا ہے اور اس حوالے سے جو بھی زہر اگل سکتا ہے اس میں کوئی کمی نہیں رہنے دیتا ،،، لیکن اسکے بعد قومی زندگی میں متعدد مرتبہ ایسے مناظر بھی دیکھنے میں آتے رہتے ہیں کہ جنہیں کبھی کسی نے غدار اور ملک دشمن قرار دیا تھا بعد میں وہی الزامات لگانے والے انہی کے ساتھ پیار کی پینگیں بڑھاتے پائے جاتے ہیں ،،، کچھ وقت کے بعد آج کے دوست پھر سے دشمن بن جاتے ہیں اور پھر الزام تراشیوں اور غداری کے سرٹیفیکیٹ بانٹے جانے لگتے ہیں ،،، یہ سلسلہ وقفے وقفے سے چلتا چلا جارہا ہے اور لگتا یہ ہے کہ اگر اسکی روک تھام نہ کی گئی تو دنیا کو ہمیں ایک فاترالعقل قوم باور کرنے سے روکا نہیں جاسکے گا کیونکہ لیکن ایسی بے احتیاط و بے لگام دشنام طرازی اور غدار سازی کا معاملہ دنیا بھر میں بھر میں کسی بھی ملک میں دیکھنے میں نہیں آتا ۔بے شک دنیا میں اور کئی ملکوں میًں بھی سیاست میں آپس میں مخالفتیں بھی ہوتی ہیں اور کڑی سے کڑی سے کڑی تنقید بھی لیکن یوں ہماری طرح منہ پھاڑ کر مخالف کو غدار اور وطن دشمن قرار نہیں دیا جاتا گزشتہ دنوں ایک بار کچھ سیاسی لوگوں کی طرف سے کچھ سیاسی افراد کو ''غدار'' اور وطن دشمن قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ وہ بھارت سے ملے ہوئے ہیں اور وہاں سے فنڈنگ وصل کرکے اسکے مفادات کی آبیاری کررہے ہیں ۔۔۔ یہ الزامات سچ ہیں یا جھوٹ ، لیکن معمولی الزامات ہرگز نہیں ہیں اور میڈیا کے سامنے ایک کھلی پریس کانفرنس میں لگائے گئے ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ ان الزامات کو لگانے والوں کو یونہی نہ جانے دیا جائے بلکہ ان الزامات کی باضابطہ و کھلی تحقیقات کی جائیں اور اس ضمن میں ایک آزاد و با اختیار عدالتی کمیشن قائم کیا جائے اور اسکے سامنے اس تازہ الزام کے علاوہ ماضی قریب میں اسی نوعیت کےلگائے جانے والے کئی اور ایسے سنگین الزامات کی بھی چھان بین کی جائے کہ جو کئی نامور سیاستدانوں اور مختلف طبقات زندگی کے سرکردہ لوگوں و علماء وغیرہ پہ عائد کیئے گئے ہیں جسکی ایک مثال ایک ممتاز صنعتکار صدر الدین ہاشوانی کی جانب سے اپنی کتاب '' سچ کا سفر'' میں لگئے جانے والے وہ سنگین الزامات بھی ہیں کہ جو انہوں نے سابق صدر آصف زرداری پہ عاد کیئے ہیں ،،، جو اگر سچ ہوں تو ملک میں قانون کی عملدرآمد پہ ایک بہت بڑا سوالیہ نشان لگ جاتا ہے یہ بات بہت اہم ہے اور اچھی طرح سے زہن نشین کلرلی جانی چاہیئے کہ کہ جب تک ہم اس طرح کی سوچ اور طزعمل کا خاتمہ نہیں کردیتے کہ جس کے تحت بے جا و غلط الزام تراشی کو عام وطیرہ بنالیا گیا ہے تب تک کسی بھی شعبے میں مثبت پیشرفت ممکن نہیں ہے ،،، اب اس طریقہءکار کو معمول بنانا ہوگا کہ اگر کوئی کسی پہ الزام لگاتا ہے تو وہ یہ کام عدالت میں جاکے کرے یا کوئی ایسا مستقل بنیادوں پہ تحقیقاتی کمیشن الگ سے وضع کردیا جائے کہ جو اس قسم کے معاملات پہ خصوصی دھیان دے اور اسکی باضابطہ تحقیقات سے پہلے کسی کو یوں برسرعام پریس کانفرنس میں یا کتاب لکھ کر ''الزام الزام کا کھیل'' کھیلنے کی اجازت نہ دی جائے تاہم اگر کوئی الزام پایہ ثبوت کو پہنچتا ہو تو اس حوالے سے درکار قانونی کارروائی کو بھی یقینی بنایا جائے ورنہ جھوٹا الزام لگانے والے کو اسی جرم کی سزا دی جائے کہ جسکا الزام اسنے دوسرے پہ لگایا ہو،،، بس یہی وہ جائز طریقہ کار ہے کہ جس سے ناجائز کردار کشی کی اس روش کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے اور قوم کے افراد کو کسی کے مفادات کی جنگ کا چارہ بننے سے بچایا جاسکتا ہے

0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now