۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ میڈیا پہ نشر ہونے والی خبر کے مطابق سپریم کورٹ نے الیکشن ٹریبونل کے اس فیصلے کی توثیق کردی ہے کہ جس کے تحت ٹریبونل نے این اے 108 منڈی بہاءالدین سے 2013 کے الیکشن میں آزاد امیدوار کے طور پہ منتخب ہونے والے سابق رکن قومی اسمبلی اعجاز چوہدری کو گریجویشن کی جعلی ڈگری رکھنے پہ انہیں کسی عوامی عہدے کیلئے نااہل قرار دیدیا تھا اور وہاں مقابلے میں دوسرے نمبر پہ رہنے والے نون لیگ کے ممتاز احمد تارڑ کو فاتح قرار دیدیا تھا - اعجاز چوہدری الیکشن تو منڈی بہاءالدین سے لڑتے ہیں کہ جو انکا پشتینی علاقہ ہے لیکن انکی رہائش اب اسلام آباد میں ہے وہ آج کل پی ٹی آئی میں ہیں اس سے قبل مسلم لیگ نون میں تھے اور اس سے پہلے مسلم لیگ ق کا حصہ تھے لیکن گزشتہ دونوں الیکشن انہوں نے بطور آزاد امیدوار لڑے تھے وہ پہلے بھی دو بار رکن قومی اسمبلی منتخب ہوچکے ہیں اور اس ملک میں ایک وہ ہی نہیں، نااہل قرار پانے والے کئی ارکان اسمبلی ایسے ہیں کہ جو کئی بار پہلے بھی رکن اسمبلی رہ چکے ہیں اور ملک کے سیاسی نظام میں اپنی دولت کے بل پہ بے پناہ طاقت کے حامل شمار کیئے جاتے ہیں اور پارٹیاں بدلتے رہنے کی لمبی تاریخ رکھتے ہیں - یہ اور انکی طرح سیاسی اشرافیہ کے چند بااثر لوگ وہ ہیں کہ جنکے پیچھے سیاسی پارٹیاں اپنے ٹکٹ لیئے بھاگتی پھرتی ہیں اور وہ کبھی کسی لیڈر تو کبھی لیڈر کے دست و بازو بنے دکھائی دیتے ہیں اور انکے لیئے سیاسی اخلاقیات کے اس کے سوا کوئی معنی نہیں کہ ڈوبتے جہاز سے کود کر نئے اور مضبوط جہاز میں جا بیٹھا جائے میں سمجھتا ہوں کہ الیکشن کمیشن میں کاغزات نامزدگی داخل کرتے وقت جعلی ڈگری پیش کرنے کا معاملہ کسی طور کوئی معمولی معاملہ نہیں اور اس طرح کے جرم سے جڑے کئی معاملات ایسے ہیں کہ جو بہت اہم ہیں اور ان پہ بڑی سنجیدگی سے غور کیا جانا ازحد ضروری ہے مثلاً یہ کہ 1- جعلی ڈگری پیش کرنے والا دھوکا دہی کے علاوہ جھوٹا حلف اٹھانے کے جرم کا ارتکاب بھی کرتا ہے کیونکہ الیکشن میں حصہ لینے کیلیئے کاغزات نامزدگی جمع کراتے وقت ان میں بیان کردہ کوائف کی درستگی اور پیش کی جانے والی اسناد کے مستند ہونے کا حلف نامہ بھی لازمی جمع کرانا پڑتا ہے تو یہ جھوٹا حلف اٹھانے کا جرم بھی ازخود ہی ہوجاتا ہے 2- یہ اپنے حلقے کے لاکھوں ووٹروں کے اعتماد کو دھوکا دینے کا بھی جرم ہے اور ساتھ ہی الیکشن کے نام پہ پیسے اور توانائی کو ضائع کرنے کے مترادف ہے کیونکہ ان وسائل کے استعمال کے باوجود ایک غلط بندہ کامیاب ہوگیا جبکہ کاغذات کی تصدیق و توثیق یا اثاثوں سے متعلق گوشواروں کی تفتیش اور چھان بین کے لیئے اگر الیکشن کمیشن کو مناسب وقت مل جاتا تو جعلی ڈگری یا غلط اثاثوں والے امیدوار کا کلیئر ہونا ہی ممکن نہ رہتا 3- ایک تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ کسی امیدوار کے نااہل قرار دیئے جانے پہ الیکشن کمیشن اس حلقے میں دوسرے نمبر پہ ووٹ لینے والے کو اسکی جگہ فاتح قرار دے دیتا ہےجس سے اکثر اس حلقے کی جائز نمائندگی نہیں ہو پاتی اس آخری نکتے کی وضاحت کچھ اس طرح سے ہے کہ دوسرے نمبر پہ آنے والا اپنے عللاقے کا درست طور پہ نمائندہ نہیں ہوتا کیونکہ اس کو اکثریتی رائے نے بہرحال مسترد کردیا ہوتا ہے اور یہ مسئلہ اس وقت اور بھی گھمبیر ہوجاتا ہے کہ جب پہلے اور دوسرے نمبر پہ آنے والوں کے درمیان ووٹوں کا فرق زیادہ ہو یا 2 سے زائد امیدواروں نے بھی مناسب تعداد میں ووٹ لے لیئےہوں جیسا کہ منڈی بہاءالدین کے اس حلقے کو بطور مثال سامنے رکھا جاسکتا ہے کہ جہاں سنہ 2013 میں جیتنے والے سابقہ فاتح نے 85 ہزار ووٹ لیئے تھے جبکہ دوسرے نمبر پہ نون لیگ کے ممتاز احمد تارڑ نے تقریباً 74 ہزار ووٹ لیئے تھے لیکن 3 دیگر ہارنے والے امیدوارں نے بھی مجموعی طور پہ 73 ہزار ووٹ لیئے تھے اور اب اگر اعجاز چوہدری کی نااہلی کے نتیجے میں ممتاز تارڑ کو دوسرے نمبر پہ ہونے کی وجہ سے فاتح قرار دیا گیا ہے تو پھر یہ سنگین حقائق سامنے آتے ہیں کہ اس حلقے میں اگر 74 ہزار افراد نے انہیں پسند کیا ہے تو اس کے دگنے سے زائد یعنی ایک لاکھ اٹھاون ہزار ڈالے گئے ووٹوں میں انہیں مسترد کیا گیا ہے گویا ڈالے گئےووٹوں کی دو تہائی تعداد انکے خلاف ہونے کے باوجود وہ اس حلقے کی نمائندگی کے مجاذ قرار پائے ہیں - جبکہ ایک مسترد کردہ فرد کو لابٹھانے کی جگہ یہاں پہ دوبارہ الیکشن کرانا زیادہ مفید رہتا کہ جس میں جعلی ڈگری والے امیدوار کو حصہ لینے کی اجازت نہ ہوتی اسی ضمن میں ایک اور حقیقت یہ بھی ہے کہ عدالت نے وقتاً فوقتاً کئی جعلی ڈگری یافتگان کو مجرم ثابت ہونے پہ نااہل قرار دے تو دیا لیکن قوم سے کیئے جانے والے انکے فراڈ کے جرم کی ضابطہ فوجداری کی روشنی میں انہیں الگ سے کوئی سزا نہیں دی جبکہ قوم کے ساتھ اس فراڈ کا سلسلہ بند کرنے کیلیئے لازمی ہے کہ ایسے فراڈ کے مرتکبین کو محض سیاسی نااہلی کی سزا دینا کافی نہ سمجھی جائے بلکہ ریاست کی مدعیت میں انکے خلاف ضابطہء فوجداری کے تحت فراڈ کے جرم کے ارتکاب کا باقاعدہ مقدمہ قائم کرکے تعزیرات پاکستان کی رو سے ایسے لوگوں کو قرار واقعی سزا بھی دی جانی چاہیئے کیونکہ سخت سزا نہ ملنے سے دیگر اسی طرح کی فریب کار ذہنیت کے لوگوں پہ عبرت کا تاثر قائم نہیں ہوپاتا اور وہ اس طرح کے جرائم سے باز نہیں آتے اور یوں قوم کا پیسہ اور توانائی ضائع ہوتا رہتا ہے اور ملک کا سیاسی نظام ایسے سیاسی انویسٹرز اور طالع آزماؤں کے ہاتھوں یرغمال بنا رہتا ہے- اب وقت آگیا ہے اس ضمن میں متعلقہ انتخابی قوانین اور ضابطہء فوجداری میں بھی درکار ترامیم کرلی جائیں تاکہ ملک میں ایک مستحکم سیاسی نظام اپنے پیروں پہ کھڑا ہوسکے
0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now