۔۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ قومی پریس و میڈیا کی اطلاعات کےمطابق 4 جنوری کو سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا تو کمیٹی کے تمام ارکان انگشت بدنداں رہ گئے کہ 2010 سے 2013 کے دوران سندھ پولیس نظام کی تبدیلی کی آڑ میں محکمے کے مالیاتی معاملات میں 2 ارب 87 کروڑ روپے کا خطیر گھپلا پایا گیا ہے ہرسال بجٹ میں خسارہ دکھانے والے اس صوبے کے مالیات کی یہ وہ ہوشرباء رقم ہے جو کہ مختلف ناجائز طریقوں سے ہڑپ کرلی گئی جبکہ سندھ پولیس 99 کروڑ روپے کا تو جھوٹا سچا کوئی حساب تک نہ پیش کرسکی ،،، اس شرمناک کارکردگی کے بعد یہ کیسے کہاجاسکتا ہے کہ عوام کے جان و مال محفوظ ہاتھوں میں ہیں جبکہ اسکی محافظ یعنی پولیس کے اہم منصبداروں نے تو خود اپنے ہی محکمے میں ڈاکا ڈالدیا ہے- یہ سپوت باہر کے چوروں کو کیا خاک پکڑیں گے کہ جب انہیں خود اپنے محکمے ہی میں ڈاکا زنی سے فرصت نہیں ہے،،، اور ڈاکا بھی ایسا کہ اربوں روپے کا ،،، جوکہ کوئی گھاگ سے گھاگ ڈاکوؤں کا گروہ بھی کبھی نہیں مارسکتا ،،، بلکہ لگتا یوں ہے کہ اب وہ بھی اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو باکمال کرنے کیلیئے سندھ پولیس سے رابطہ کرنے پہ مجبور ہونگے تفنن برطرف ، یہ سفاکانہ و کثیر خورد برد اس حقیقت کے تناظر میں اور بھی افسوسناک ہوجاتی ہے کہ یہ اس غریب و مفلوک الحال قوم کی پولیس کے کرتوت ہیں کے جسکا بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہے اور جسکے ہر فرد پہ ایک لاکھ روپے کے لگ بھگ غیرملکی قرضہ چڑھا ہوا ہے ،،،، لیکن یہاں ایک بات اور اہم ہے کہ جسے میں بیان کیئے بغیر نہیں رہ سکتا اور وہ یہ کہ یہ جو تین ارب روپے کے لگ بھگ خطیر رقم ہڑپ کی گئی ہے یہ پولیس کے سارے محکمے نے ملکر نہیں کھائی ہے، اور اس سے عام پولیس اہلکار کا کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ یہ حضرات تو بے اختیار ہوتے ہیں اور بڑے فیصلوں اور اقدامات کی تاب نہیں رکھتے یہ تو صرف چند بڑے بڑے افسران نے ڈکاری ہے کیونکہ انکے ہاتھ پکڑنے والا بظاہر کوئی نہیں ،،، لیکن یہاں اربوں کے غبن ہورہے ہیں اور وہاں عام پولیس اہلکار کی ابتر معاشی حیثیت کی خبر لینے والا کوئی نہیں حالانکہ ہر طرح کے خطرناک معاملات و حالات میں یہی لوگ سامنے ہوتےہیں اور آئے دن اپنی جانوں سے ہاتھ دھوتے رہتےہیں جبکہ انکے افسران میں سے کئیوں نے تو اپنے دفتر سے ملحق کمروں میں راحت کدے سجارکھے ہیں اور یہ لوگ اپنے ان آرام دہ شبستانوں سے نکل کر عام عوام میں جانے اور امن و امان کے مسائل سے آگاہ ہونے کی زحمت یہ کبھی شاز ہی کرتے ہیں سندھ پولیس کے عام اہلکار کا یہ حال ہے کہ وہ اب بھی ایک باعزت زندگی گزارنے کے لائق نہیں بنایا گیا ہے اور اسکے اہلخانہ اب بھی مناسب علاج معالجے کی سہولتوں سے محروم ہیں اور وہ کسی بہتر نجی ہسپتال میں علاج کرنے کی سکت نہیں رکھتے اسی طرح انکے بال بچوں کیلیئے تعلیمی سہولیات کا بھی کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا گیا ہے حالانکہ جب سنہ 2002 میں 1861 سے چلتے آرہے پرانے پولیس ایکٹ کو ختم کرکے نیا پولیس ریفارمز ایکٹ نافذ کیا گیا تھا تو اس میں قانونی ، تربیتی ، سماجی اور معاشی غرض ہر حوالے سے پولیس اہلکاران کی بہتری کے لیئے متعدد منصوبوں کا اعلان کیا گیا تھا لیکن تاحال ان میں سے بیشتر منصوبے صرف کاغذوں ہی پہ موجود ہیں اور عملاً انکا کوئی وجود نہیں ،،، بدحالی و ابتری کی اس صورت کو برقرار رکھنے بلکہ گھمبیر سے گھمبیر تر کردینے میں انکے بیشتر رعونت زدہ افسران نے بھرپور کردار ادا کیا ہے کیونکہ ان میں سے زیادہ تر تو نچلے درجے کے اہلکاروں کو شاید اپنے جیسا انسان سمجھنے ہی کو تیار نہیں ہیں اور زندگی کی ہر راحت پہ صرف اپنا اور اپنے اہلخانہ ہی کا حق سمجھتے ہیں ،، ان افسران میں سے بیشتر کی نجی زندگیوں کا جائزہ لیا جائے تو وہ اپنی تنخواہ کے قطعی غیر مطابق اور نہایت رئیسانہ وسائل کے مالک ہیں اور انتہائی شاہانہ طرززندگی پہ مبنی ہیں اور اکثر کے بچے بیرون ملک نہایت مہنگے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور خود ان حضرات کے رویئے کسی راجہ مہاراجہ سے کم نہیں ،،، گو سبھی افسران بدعنوان نہیں لیکن اس مصرفانہ زندگی کے تقاضوں کی وجہ سے سندھ پولیس کے یہ چند افسران نہ صرف ہر جگہ اپنے اختیارات و طاقت کا فائدہ اٹھاکر لوٹ مار میں مشغول رہتےہیں بلکہ انکی ہوس اور لالچ کا یہ عالم ہے کہ اپنے محکمے کو بھی معاف نہیں کرتےاور پولیس کی بہبود کیلیئے مختص کیئے فنڈز کو بھی نہیں چھوڑتے ۔۔۔انکے سامان ، اسلحہ اور راشن تک کی خریداریوں میں گھپلے کرتے ہیں ،،، حتٰی کہ انکی اچھی کارکردگی سے منسلک انکے نقد انعامات و اعزازات کا رخ بھی جبراً اپنی طرف موڑنے میں لگے رہتے ہیں ،،، جس سے عام اہلکاروں کی بہت دلشکنی ہوتی ہے اور وہ کسی شدید خطرے میں پیش پیش رہ کر جامنوں کا نذرانہ دینے سے گریز کرنے لگتے ہیں - اب جبکہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ہے اور پولیس افسران کی یہ شرمناک کارکردگی و بدعنوانی بے نقاب کردی ہے تو اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے ،،، یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سندھ پولیس کی بدعنوانیاں سامنے آئی ہوں لیکن ہوتا یہ رہا ہے کہ مختلف طریقوں سے ان پہ پردے ڈالے جاتے رہے ہیں ۔۔۔ لیکن اب وہ پہلے جیسا دور نہیں ۔۔۔ اب میڈیا آزاد ہے اور عوام بھی کافی حد تک باخبر و بیدار ہوچکے ہیں لہٰذا اب حکومت تین ارب روپے ڈکارجانے والے افسران میں سے کسی کو بھی قطعی معاف نہ کرے اور کڑی تحقیقت کے نتیجے میں جو جو بھی اس خرد برد کے ذمہ دار پائے جائیں انہیں بلا کسی ہچکچاہٹ و تذبذب کے، نشان عبرت بنادیا جائے ،،، اسی میں سندھ پولیس کی بھی بہتری ہے اور اور اس قوم کی بھی کہ جو اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر ان اداروں کے بھاری اخراجات برداشت کرتی ہے
0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.