۔۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔۔ بلاشبہ 18 دسمبر کو ایک نہایت عمدہ روایت کا آغاز ہوا کہ جس کا تسلسل اسے عہد ساز بنا سکتا ہے ،،، اس روز چین کے شہر وژہن میں منعقدہ دوسری بین الاقوامی انٹرنیٹ کانفرنس سے صدر مملکت ممنون حسین نے اردو میں خطاب کرکے قومی تاریخ کے فخر کے قابل مواقع میں ایک اہم اضافہ کیا کیونکہ ایک اہم عالمی کانفرنس میں پاکستان کے کسی سربراہ کی جانب سے قومی زبان میں خطاب کا ایسا نادر اقدام پہلی بار اٹھایا گیا تھا ،،، اس قدم سے بلاشبہ جہاں ایک طرف پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہوا تو دوسری طرف اپنے کلچر اور زبان کے حوالے سے اسکی خود اعتمادی میں اضافہ ہوا ،،، صدر کے اس قابل ستائش اقدام پہ قوم بجاطور پہ انکی ممنون ہے ۔۔۔ لیکن مجھے کہنے دیجیئے کہ نہایت قابل تعریف ہونے کے باوجود یہ اقدام کافی ہرگز نہیں ، اصل ضرورت تو ملک کے ہرشعبے میں اور ہر سطح پہ اپنی قومی زبان کو سرکاری زبان کا مقام دینے کی ہے،، میں صدر کے اس تاریخی خطاب کے بعد 2 ہفتے سے منتظر ہوں کہ وہ قومی زبان سے اپنی دوستی کے اس اقدام کے بعد ملک میں اردو کو اسکا جائز مقام دلانے کیلیئے اور اسے ملک کی سرکاری زبان کے طور پہ نافذ کرنے کیلیئے اپنے منصب کا کوئی اختیار یا اسکا کوئی وزن استعمال کرتے ہیں یا نہیں لیکن ہنوز اس سمت کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی جہاں تک اپنی قومی زبان میں خطاب والے عمل کی بات ہے تو دو سو سے زائد ممالک کی عالمی براردی کے بیشتر ارکان کیلیئے تو یہ قطعی حیران کن بات نہیں ،،، درحقیقت یہ طرز عمل تو ان اکثر ممالک کا معمول ہے اور وہ اپنے سارے ملکی و غیرملکی امور کی انجام دہی میں اپنی قومی زبان ہی کو ترجیح دیتے ہیں ،،، جبکہ یہاں وطن عزیز میں صورتحال یہ ہے کہ آزادی کے بعد اب جبکہ ساتویں دہائی بھی ختم ہونے کو ہے قومی زبان کو سرکاری زبان قرار دینے کی بیل ابھی تک منڈھے نہیں چڑھ سکی ہے ،،، اس مایوس کن کیفیت میں ابھی 8 ستمبر کو جسٹس جود خواجہ کی سربراہی میں دیا گیا سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ مژدہ جانفزاء بنکے سامنے آیا ہے کہ جس میں حکومت کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ آئین کی مزید خلاف ورزی نہ کرے اور اس اہم آئینی تقاضے کی تکمیل کو یقینی بنائے اور تین مہینے میں تمام ملک میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پہ رائج اور نافذ کردے ،،،، گویا عدالت عظمیٰ نے گو بہت تاخیر سے ہی سہی لیکن اب جبکہ اپنے حصے کا کام کر ہی دیا ہے تو اب گیند حکومتی کورٹ میں ہے ،،، لیکن حددرجہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب جبکہ نفاذ اردو کی عدالتی مہلت کی مدت ختم ہوئے بھی دو ہفتے ہوچلے ہیں ۔ حکومت نے تا حال اس حوالے سے کوئی بھی قابل ذکر پیشرفت نہیں کی ہے سپریم کورٹ ملک کا سب سے بڑا آئینی عدالتی ادارہ ہے اور اسکے فیصلوں کو ملک کے قانونی نظام میں جو اہمیت دی جانی چاہیئے اسکی ضرورت سے ہر عاقل و بالغ واقف ہے وگرنہ لاقانونیت کا چلن تو ہر آئین اور ادارے کو فنا کرڈالتا ہے اور اس سے نراجیت اور طوائف الملوکی جنم لیتے ہیں ،،،، اردو کے نفاذ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 8 ستمبر کے تاریخی فیصلے پہ وفاقی حکومت جس طرح کان لپیٹے بیٹھی ہے اور کمیٹی کمیٹی کھیلنے کے سوا کچھ کرتی دکھائی نہیں دے رہی ، اس سے ایسی ہی لاقانونیت پسندی کا تاثر ملتا ہے اور لگتا یوں ہے کہ غافل حکمران طاقتور نوکر شاہی اور بےلگام اشرافیہ یہ نہیں چاہتے کہ انگریزی کا تسلط کبھی ختم ہو جو کہ یہاں طبقاتی نظام کا سب سے بڑا محافظ ہے اور یہ بات انکے لییئے کسی سخت ڈراؤنے خواب کی مانند ہے کہ گاؤں دیہات کے گورنمنٹ اسکولوں کے طالبعلم کبھی گرامر اسکولوں کے طلباء کے مقابل یا برابر آسکیں - سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تو ہونا یہ چاہیئے تھا کہ ہر سطح پہ اردو کو سرکاری زبان کے طور پہ نافذ کردیا جاتا اور مقابلے کے یہ جو امتحانات فروری میں منعقد ہورہے ہیں ان میں بھی اردو کو امتحانی زبان کا درجہ دیدیا جاتا ،،، لیکن عملاً کچھ بھی نہ کیا گیا اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتی عمال اور اشرافیہ دونوں کسی صورت اردو کو سرکاری زبان کے طور پہ نافذ ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے اور نہایت لاپرواہی بلکہ سفاکی سے اس تاریخی فیصلے کو فراموشی کے اسی کوڑہ دان پہ پھینک دینا چاہتے ہیں کہ جہاں یہ گزشتہ 67 برسوں سے پڑا ہوا تھا اور یوں قومی تاریخ میں طویل و پیہم انتظار کے بعد عدالتی فیصلے کی وجہ سے جو اہم تاریخی موڑ آیا تھا اس پہ عملدرآمد کے سوال کو عملاً ایک مذاق بناکر رکھدیا گیا ہے ،،، وزیراعظم نے اس معاملے میں کہنے کی حد تک ایک پارلیمانی کمیٹی بنا ضرور دی ہے لیکن اسکی کارکردگی نہایت افسوسناک حد تک سست روی کا شکار ہے لیکن وزیراعظم کو اتنی توفیق یا فرصت ہی نہیں کہ وہ اس اہم قومی معاملے کا جائزہ لیں - لہٰذا اس سست روی کو دیکھتے ہوئے بہر صورت یہ صدرمملکت کا فرض بن جاتا ہے کہ اس سلسلے میں اصلاح احوال کیلیئے حکومت کو سخت تنبیہ کریں کیونکہ وہ اپنے حلف کی روشنی میں اس امر کے پابند ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پہ عملدرآمد کو یقینی بنائیں وگرنہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ نظراندازی انکے حلف کی خلاف ورزی بھی ہوگی اور توہین عدالت بھی ۔۔۔
0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.