... فاضل جمیلی....اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں سزا کاٹنے کے بعد فاسٹ بالر محمدعامر کی قومی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔انہیں ون ڈے اور ٹی 20دونوں ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ون ڈے ٹیم کےکپتان اظہرعلی ہیں جنہوں نے محمد عامر کی ٹیم میں واپسی کی مخالفت کی تھی جبکہ ٹی 20کے کپتان شاہد آفریدی ہیں جو محمد عامر کی واپسی کے حق میں تھے۔شاہد آفریدی نے عمراکمل کے ’’حیدرآباداسکینڈل‘‘ کے باوجود انہیں ٹیم کا حصہ بنانے کی وکالت کی تھی جبکہ اظہرعلی کےساتھ محمد حفیظ بھی محمد عامر کو ٹیم میں واپس لینے کے خلاف تھے۔ان دونوں کھلاڑیوں نے محمد عامر کی موجودگی میں ٹریننگ کیمپ میں شرکت سے بھی انکار کر دیا تھا لیکن چیئرمین کرکٹ بورڈ شہریار خان نے دونوں کو اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور کردیا۔ واقفانِ حال کا خیال ہے کہ کچھ اور کھلاڑیوں کے خیالات بھی اظہرعلی اور محمد حفیظ کے ساتھ ملتے جلتے تھے لیکن ان کے ناموں کے ساتھ پردہ نشینی کا ٹیگ لگا کر سینوں میں دبا دیا گیا ۔اب وہ سینہ بہ سینہ ہی سامنے آئیں گے۔ایک ملاکھڑا البتہ ’’جیوسوپر‘‘ کے پروگرام میں سینہ تان کر ہوا۔آمنے سامنے دو پہلوان نہیں بلکہ انتہائی دھیمے مزاج کے دو سابق کپتان رمیز راجہ اور محمد یوسف تھےجو محمد عامر کی ٹیم میں واپسی کے سوال پر آپس میں لڑپڑے تھے۔محمد یوسف نے رمیزراجہ کو ناکام کھلاڑی کا طعنہ دیا اور رمیز راجہ نے محمد یوسف کو جعلی مولوی قراردیا۔یوسف نے کہا کہ رمیز کو انگریزی آتی، کرکٹ نہیں آتی۔رمیز کا جواب تھاکہ یوسف کو تواُردو تک نہیں آتی۔ اس سارے قضیے میں البتہ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا بیان زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹھیک ہے کہ محمد عامر نے اپنی سزا پوری کر لی ہےلیکن ٹیم میں ان کی واپسی ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا کرکٹ بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ کو ابھی اندازہ نہیں ہے۔مصباح الحق کے اس بیان کر ذرا کھول کر دیکھا جائے تو اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ محمد عامر جب میدان میں اُتریں گے تو یقینی طور پر تماشائیوں کی جانب سے ان پر آوازے کسے جائیں گے۔اگر وہ مخالف کھلاڑیوں کو آئوٹ کریں گے تو مخالف ٹیم بھی انہیں دبائو میں لانے کے لیے ان پر جملے بازی کر سکتی ہے۔کپتان کو بھی تندوتیز سوالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔اس صورتحال میں نہ صرف محمد عامر خود پریشر میں آئیں گے بلکہ پوری ٹیم بھی دبائو میں آسکتی ہے۔ اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد عامر یا کسی بھی دوسرے کھلاڑی کی مستقبل میں مخالفت کا راستہ روکنے کے لیے قومی کیمپ میں موجود تمام کھلاڑیوں سے ایک معاہدے پر دستخط کروا لیے ہیںلیکن جن خدشات کااظہار مصباح الحق نے کیا ہے ان پر غور کرنا بھی ضروری ہے۔میچ فکسلنگ کے الزام میں تاحیات پابندی کا سامنا کرنے والے اسٹار بیٹسمین سلیم ملک بھی’’اُمیدسے ہیں‘‘ کہ انہیں بھی ایک بار پھرکرکٹ کو روزی روٹی کا ذریعہ بنانے کی اجازت دے دی جائے۔دیکھنا یہ ہے کہ محمد عامر کے ساتھ کرکٹ بورڈ کی جانب سے جس حسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا گیا ہے ، اسی طرح کا برتائو دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے یا نہیں ؟
0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.