۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔ اک بار پھر ہماری کرکٹ ٹیم منہ لٹکائے واپس وطن لوٹ رہی ہے اور یہ منظر اب کوئی نیا نہیں رہا ۔۔۔ بہت مدت سے دہرایا جارہا ہے ،،، کتنے ہی ٹؤر اسی انجام سے دوچار ہوئے اور کتنے ہی شائقین اور مداحوں کی امنگوں کا خون ہوا ،،، ہر بار آشاؤں تمناؤں کے دیپ جلائے جاتے ہیں پھر واپسی پہ ان بجھے چراغوں کا دھواں ہوتا ہے اور دلگرفتہ ناظرین کے ہاتھوں کتنے ہی ٹی وی سیٹ توڑے جا چکے ہوتے ہیں کہ جنکی دسترس میں بس ٹی وی سیٹ ہی ہوتے ہیں اگر تو ایسے وقت کہیں انہیں یہ کھلاڑی ، کوچ اورکرکٹ بورڈ کے گرو ہاتھ لگ جائیں تو نجانے کیا کیا ہوجائے ۔۔۔ لیکن محسوس یہ ہوتا ہے کہ اس قسم کے احساسات و جذبات سے ہماری ٹیم کے بیشتر کھلاڑی اور بالخصوص کپتان صاحب بالکل عاری ہیں کیونکہ اس بدترین کارکردگی کے بعد بھی شاہد آفریدی نے اپنی واپس لی گئی اعلان ریٹائرمینٹ پہ نظر ثانی کرنے کے معاملے کو لٹکائے رکھنے کو ترجیح دی ہے اور یہ اشارہ دیا ہے کہ وہ کپتان کے طور پہ نہ بھی سہی لیکن کھلاڑی کے طور پہ فٹ ہیں ،،، جبکہ انکی بطور کھلاڑی ذاتی کارکردگی کا گراف اب تو چیخ چیخ کے یہ پکار رہا ہے بھائی آفریدی اب بس کیجیئے گھر کو جائیئے اور مڑ کے نہ دیکھیئے - بھارت میں اپنی ناکامی کے آخری باب میں انہوں نے اپنے بیان میں کشمیر کا تذکرہ ڈال کر جہاں اپنے اس بیان کی تلافی کرنے کی کوشش کی کہ جس میں انہوں نے ہندوستان میں پاکستان سے بھی زیادہ پیار ملنے کی بات کرکے اہل پاکستان کی بڑی دلآزاری کی تھی تو ساتھ ہی یہ ثبوت بھی دیدیا ہے کہ وہ کرکٹ کے نہ بھی سہی لیکن سیاست کی شطرنج کے بہت اچھے کھلاڑی ہیں- جہاں تک بات غلطیوں سے سبق حاصل کرنے کی ہے تو ابھی اسی ٹی ٹوئینٹی ورلڈ کپ کی داستان کو لے لیں اس میں سیکھنے اور آنکھیں کھولنے کے لیئے بہت مواد موجود ہے ۔۔۔ اس نہایت اہم ٹورنامنٹ میں ہماری ٹیم سے کل ملا کے ایک میچ جیتا جاسکا اور کسی بھی میچ میں نہ تو ٹیم مستحکم نظر آئی اور نہ ہی جم کے کھیلتی دیکھی گئی ،،، برسوں سے کھیلے چلے آرہے پرانے کھلاڑیوں نے وہی روایتی عجلت کے ساتھ غیر محتاط شارٹ لگا کر پویلین لوٹنے کی روایت دہرائی اور اس حقیقت کو مزید واضح کیا کہ انہوں نے شکستوں سے ذرا بھی نہیں سیکھا اور ذمہ داری کا فقدان ہونا ہی ان کا سب سے بڑا مسئلہ ہے اور انکی اس خامی پہ قابو پانے میں کوچ وقار یونس بری طرح ناکام رہے کہ جو عرصے سے ناکام ہی چلے آرہے ہیں اورجنکا کام بہت مدت سے یہی رہ گیا ہے کہ وہ ہر بار ہارنے کی وضاحتیں بیان کرتے رہیں اور کھلاڑیوں کے لتے لیتے سنائی دیتے رہیں ،، اسی طرح چیف سیلیکٹر ہارون رشید کا بھی معاملہ ہے کہ اک زمانے سے ناکام چلے آرہے ہیں لیکن انہیں اس سے کوئی بھی فرق نہیں پڑتا اور کبھی ندامت کی ادنیٰ سی رمق بھی انکے چہرے پہ نہیں جھلکی اور اس حوالے سے کرکٹ بورڈ کے سربراہ بھی کبھی پشیمان یا پریشان نظر نہیں آئے ،،، لوگ حیران ہوتے ہیں کہ وہ بڑے اطمینان سے اتنی بڑی بڑی ناکامیاں کیسے ہضم کرلیتے ہیں جبکہ وہ اب عمر کے اس حصے میں ہیں کہ ان سے اب دہی بھی ہضم کرنا آسان نہیں ہے ضرورت اس امر کی ہے ابکے ایک ہمہ جہت تبدیلی کی جھاڑو پھری جائے اور نیچے سے اوپر یعنی صرف ٹیم پہ سے کپتان سمیت پرانے کھلاڑیوں کا بوجھ اتارنے ہی پہ بس نہ کیا جائے بلکہ کوچ ، سیلکیٹر و مینیجر سے لے کر چیئرمین کو بھی فارغ کیا جائے اور کرکٹ کی بہبود سے حقیقی دلچسپی رکھنے والے تجربہ کار افراد کو آگے لایا جائے - دیکھنے میں ہمیشہ یہی آتا ہے کہ ہر شکست کے بعد وقتی طور پہ بڑی اور اہم تبدیلیوں کے دعوے تو ضرور کیئے جاتے ہیں لیکن ہوتا ہواتا پھر بھی کچھ نہیں ہے جب معاملہ ٹھنڈا پڑ جاتا ہے تو پھر اگلی بار زیادہ تر بلکہ 80 فیصد وہی پرانے بابے ٹیم کی بس میں بیٹھے کھانس رہے ہوتے ہیں ،، یعنی ٹیم میں نئے لڑکوں کی شمولیت کا تناسب ایک چوتھائی سے زیادہ کبھی بھی نہیں دیکھا جاتا اور اسی لیئے رزلٹ کارڈ میں بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں دیکھی جاتی- جتنی مدت میں دنیا بھر میں ٹیمیں کئی کئی بار مکمل بدل چکتی ہیں اتنی مدت میں ہمارے یہاں محض 2 یا 3 ہی نئے لوگ سامنے آپاتے ہیں ۔۔۔ ہماری ٹیم میں بہتر کھلاڑی نہ آنے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ نچلی سطح پہ ٹیلنٹ ڈھونڈھنے کا کوئی قابل اعتبار اور واضح نظام موجود نہیں ہے اور اسی وجہ سے اسکول کی سطح سے مستقبل کے کام کے کرکٹر آگے نہیں آپا رہے ہیں اس لیئے اب اس سطح پہ کام کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے- ضرورت اس امر کی ہے کہ نچلی سطح کی کرکٹ کو مضبوط کیا جائے اور اگر ایک بار رسک لے کر ٹیم میں نچلی سطح سے 80 فیصد نیا خون سمولیا جائے تو گو وہ کھلاڑی کہنے کو ابھی اچھے رزلٹ نہیں دینگے لیکن بتدریج اعتماد حاصل کرکے اور سیکھ کے مستحکم ہوتے چلے جائینگے ۔۔۔ ویسے بھی اس دوران اگر ہارتے بھی رہے تو کیا فرق پڑے گا ،،، پرانے کھلاڑیوں کے ہوتے ہارنے کے موجودہ ریکارڈ سے تو یہ کہیں بہتر ہے کہ کچھ عرصے کیلیئے نئے کھلاڑیوں کے ساتھ ہی ہارنے کا رسک لے لیا جائے -
0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.