...عاقب علی …آج 23مارچ کا تاریخی دن ، یعنی ’یوم اسلامی جمہوریہ پاکستان‘، جس پر قومی ترانے کے الفاظ میں ’ سایہ خدائے ذوالجلال‘۔۔۔ ایک تاریخی دن، آئین میں درج ملک کا نام اور اس کے قومی ترانے کے ذریعے خدا کے سائے کی موجودگی کا اعتراف۔۔۔ مجھے خوش کردیتا ہے،مگر یہ خوشی ادھوری سی محسوس ہوتی ہے، لیکن یہ بھی ایک خوشی تو ہے۔ ادھوری خوشی میں سمجھا نہیں؟آصف نے حیرت سے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔ بھائی یہ ناسمجھی صرف تمہارا ہی مسئلہ نہیں،کئی لوگ اپنی اس شناخت پر ،ملک کی بنیادوں پر اور اپنے آباو اجداد کی تشکیل پاکستان کیلئے دی گئی قربانیوں پر بھی شرمندہ ہیں۔انہیں تو ملک کے فوجیوں کو مختلف محاذوں پر ملنے والی’ شہادت‘ اور کامیاب لوٹنے پر ملنے والا ’غازی‘ کا لقب بھی اپنی چڑ محسوس ہوتا ہے،وہ نہیں چاہتے کہ ملک وہ پاکستان بنے جو اصل میں اسے بننا تھا۔وہ ملک جو ہمارے بزرگوں کے خوابوں کی تعبیر تھا، ان کے لیے ایک عزم اور حوصلہ تھا ، جس کیلئے وہ اپنا اضافی وقت، صلاحیتیں دے کر اس کی تعمیر و ترقی دینے کی آرزو کی عملی تعمیل کیلئے کوشاں رہے۔ جملہ ختم ہوتے ہی مزید گہری حیرت میں مبتلا آصف نے فورا کہہ دیا’ یار یہ فلسفیانہ باتیں چھوڑو ،سیدھے اور آسان الفاظ میں بتاؤ تم کہنا کیا چاہتے ہو‘۔یہ یوم پاکستان پر تمہاری خوشی ادھوری کیوں ہے؟ میں نے کہا آج ہم کون سا ’ یوم اسلامی جمہوریہ پاکستان‘ منا رہے ہیں؟ میں نے سمجھانے کے انداز میں سوال پوچھ لیا۔77 واں یوم پاکستان ہے، درست ، تمہیں آج کے پاکستان میں کن مسائل کا سامنا ہے؟ جواب ملتے ہی دوسرا سوال پوچھا۔ جناب محترم آپ کو گھر میں درپیش مسائل سے آگاہ کروں یا معاشرتی ، سیاسی ، اخلاقی اور معاشی سطح تک پھیلی پرابلمز کی فہرست گنواؤں؟‘ میں نے مسکراتے ہوئے کہا۔ گھر کی باتیں باہر نہیں کرتے ،اس نے زور سے قہقہہ لگایا۔اچھا تو سنو،میرے خیال سے ایک مسئلہ تو مہنگائی ہے؟ دوسرا مسئلہ بے روزگاری ہے،تیسرا بے امنی اور چوتھا کرپشن اور پانچواں بڑا مسئلہ صحت،تعلیم اور انصاف کی بہتر اور بروقت فراہمی نہ ہونا ہے۔ تمہاری فہرست معمولی ردو بدل کے بعد تقریباًدرست ہے،ان سب مسائل سے نجات کیلئے میں تم سے کہوں کہ تمہارے کئی سو ارب ڈالرکئی بینکوں میں ہیں،اگر تم انہیں نکال لو،انہیں درست انداز سے استعمال میں لے آؤ ،تو تم پر موجود قرضے بھی اتر جائیں گے ،ترقی اور تعمیر کا سفر بھی تیز تر ہوجائیگا۔ ارے بھائی کیوں مذاق کررہے ہوں،میرے پیسے بینکوں میں ؟؟ ہا ہا ہا۔۔ ویسے مجھے دل جلانے والا یہ مذاق ہرگز اچھا نہیں لگا۔ قہقہے کے بعد آصف نے دل کی بات کہہ دی۔میں نے فورا سوری کہااور چپ ہوگیاکیونکہ وہ میری گفتگومیں دوسری بار الجھ سا گیاتھا۔ اس نے تھوڑی دیر بعد خود ہی پوچھ لیا،بھائی کیا آپ سچ کہہ رہے ہوکہ میرے کئی سو ارب ڈالر بینکوں میں ہیں؟ میں نے کہا یہ میں نہیں کہہ رہا ،یہ بات موجودہ وزیر خزانہ اسحاق ڈار صاحب نے قومی اسمبلی سے خطاب میں بطور اعتراف کہی تھی کہ ’ماضی میں حکمرانوں نے قومی دولت (یعنی پاکستانیوں کے ٹیکسوں سے جمع ہونے والی بھاری رقم )لوٹی جس کی مالیت 2سو ارب ڈالر سے زائد ہے،جسے ن لیگ کی حکومت ضرورقومی خزانے میں واپس لے کر آئے گی ۔ تو کیا ہوا ،وہ دولت آگئی ؟ کیوں کہ ن لیگ کی حکومت کو بھی ڈھائی برس سے زیادہ کا عرصہ بیت چکا ہے؟ آصف نے سنجیدہ لہجے میں سوال کیا۔میں نے کہا یہ سوال تو اسحاق ڈار سے یاپھر ہمارے’ لبرل‘ وزیراعظم سے پوچھنا پڑے گاجو ملکی معیشت کو قرضوں سے لبریز کررہے ہیں،جو پٹرول کی قیمت میں تھوڑی کمی کرتے ہیں مگر ان کے بس میں نہیں کہ اشیائے ضروریہ کی قیمتوں ،ان کی کوالٹی پر بھی توجہ دے سکیں،عوام کیا کھا رہی ہے ،کیسا کھارہی ہے،اس پر کوئی توجہ نہیں کیونکہ ان کی نظر صرف ٹیکس کی شرح اور اس کی آمدن پر ہے تاکہ ’زندگی کا کارروبار‘ چلے ،جیسے وہ ملک نہیں کوئی صنعت چلا رہے ہوں جس کی آمدنی سے بینک بیلنس بھرتا اور گھر چلتا ہے۔ اس سے پہلے والی حکومت نے اتنی بڑی رقم کی واپسی کیلئے کچھ نہیں کیا ؟آصف کے سوال پر میں قہقہہ لگانا چاہتا تھا مگر خاموش رہا۔میرے معصوم بھائی ،اس حکومت نے ملک کی 5برس بعد جان چھوڑ دی یہ کیا کم احسان ہے اس کا،اس کی کرپشن اور نااہلی کی داستانیں نہ پوچھ۔سنادی تو سن کر کان لال ہوجائیں گے۔ بس یہ سب دیکھ کر ہی تو دل سوچ میں پڑ جاتا ہے،20کروڑ پاکستانیوں کا یہ حال اور پھر بدحال مستقل نظروں کے سامنے گھوم جاتا ہے، آزادی کے حصول کی داستان سے جڑی، خوشی ادھوری سی لگتی ہے۔میرا تو خیال ہے کہ لوٹی دولت واپس لائی جائے اور کرپشن کو دہشت گردی سے کسی بھی درجے میں کم جرم قرار نہ دیا جائے۔ اب تم ہی بتاؤ چند ’سو‘ ناسمجھ دانشورجو یہ سمجھتے ہیں کہ ملکی مسائل کا حل اس کی نظریاتی بنیادوں میں تبدیلی سے وابستہ ہے ،جو یہ چاہتے ہیں کہ بزرگوں کی قربانیوں کو بلڈوز کردیا جانا چاہیے،اپنی ماضی کی تابناکی کو بھول کر وہ خیالات بلا چو چراں قبول کرلئے جائیں جن پر وہ ’ایمان ‘ لا چکے ہیں۔کیا درست ہوگا؟۔اور ہاں یہ بھی بتاؤ ،چند حکمرانوں کے دوسروں کی جنگ میں جڑ جانے کے غلط فیصلوں ، کرپشن اور نااہلی پر پردہ ڈالنے کیلئے کیا ملک کو ویسا بنادینا چاہیے کہ ہر طرف آزادی ہو،’مادر پدر آزادی‘؟۔ اس سوچ پر توصرف میں نے اتنا ہی کہنا ہے کہ مسائل کا حل ’ سیاستدانوں‘ ،’بیورکریٹس ‘اور ملکی ’کرتا دھرتاؤں‘کے ذریعے قانون سازی پر قانون سازی کا کھیل کھیلنا نہیں،ملک میں جو قوانین ہیں ان پر ہر صورت میں عمل کو ممکن بنانا ہے،ان سے یہ کام تو ہوتا نہیں،اس معاملے پر ان کی آواز نکلتی ہے ، نہ ہی کوئی تحریر سامنے آتی ہے۔ اب تم سمجھے میری ادھوری خوشی؟ آصف تو شائدسمجھ ہی گیا ہو ،آپ کا کیا خیال ہے؟۔
0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now