sheeshon k sapny
یہ شیشوں کے سپنے یہ دھاگوں کے رشتے
کسے ھے خبر کہاں ٹوٹ جائیں-----------
محبت کے دریا میں تنکے وفا کے
کسے ھے خبر کہاں ڈوب جائیں--------؛
عجب دل کی بستی عجب دل کی حالت
ہر اک موڑ نئی چاہتوں کا-----------
لگائے ھیں ہم نے بھی سپنوں کے پودے
مگر کیا بھروسہ یہاں بارشوں کا--؛-
جنہیں دل سے چاھا جنہیں دل سے پوجا
نظر آرہئے ھیں وہی اجنبی سے-----
روایت ھے شاھد یہ صدیوں پرانی
شکایت نہیں ھے کوئی زندگی سے----
0


4 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.