Jump to content
  • entries
    180,833
  • comments
    28
  • views
    409,265

پنامالیکس ۔۔۔ خطرے کی گھنٹی ؟


سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ آئس لینڈ کے وزیراعظم استعفیٰ دے چکے، برطانوی وزیراعظم کیمرون کے خلاف دباؤ بڑھ رہا ہے اور روسی صدر ولادیمیر پیوٹن بھی حواس باختہ ہوچلے ہیں ،،، یہی نہیں اور بھی کئی نامور عالمی شخصیات کے خلاف تنقید کا طوفان سا اٹھ کھڑا ہوا ہے ادھر پاکستان میں بھی اپوزیشن نے بھی شفاف تحقیقات کے لیئے بہت شوروغوغا مچا رکھا ہے حتی کے عمران خان نے اتوار کی شام ''قوم سے خطاب'' کرتے ہوئے یہ دھمکی تک دے ڈالی ہے کہ اگر شفاف تحقیقات کی بات نہ مانی گئی تو وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ رائے ونڈ میں شریف فیملی کی رہائش گاہوں کے باہر دھرنا دینگے ،،، گویا پانامہ لیکس نے دنیا کے کئی ممالک میں اتھل پتھل مچادی ہے ،،، قریباً ایک برس سے جو معاملہ اندر ہی اندر جانچ اور تجزیئے کے مرحلے سے گزارا گیا تھا گزشتہ دنوں اس وقت انکشاف کی نوبت تک جاپہنچا کہ جب گزشتہ اتوار کو واشنگٹن کی ایک انٹرنیشنل کنسورشیئم فار انویسٹی گیٹیوجرنلزم نے 100 سے زائد میڈیا نمائندوں کے سامنے تہلکہ خیز انکشافات کرتے ہوئے ان خفیہ رکھی گئی 11 ملین دستاویزات کو پیش کیا کہ جن میں دنیا بھر کے کئی ملکوں کے سیاستدانوں سربراہوں اور نامور لوگوں کی پانامہ میں قائم کردہ ان آف شور کمپنیوں کی تفصیل موجود ہے کہ جس میں انکی چھپائی گئی دولت محفوظ کی گئی ہے ان ''پانامہ لیکس'' سے 6 برس قبل وکی لیکس کے انکشافات نے بھی بہت تھرتھلی مچائی تھی اور ایک ملین کے لگ بھگ خفیہ امریکی سرکاری دستاویزات کی بےنقابی کے ذریعے سوئیڈن کے جولین اسانج نے کئی ممالک میں امریکیوں کے مداخلت کے کئی ایسے خفیہ معاملات سے پردہ اٹھایا تھا کہ جس سے ان ملکوں کی متعدد نامور شخصیات اور رہنماؤں کی ساکھ برباد ہوکر رہ گئی تھی اور امریکی سازشیں اور عزائم بھی بے نقاب ہوئے تھے - دیگر کئی ممالک کی طرح وکی لیکس میں پاکستان کے کئی اہم رہنماؤں سے متعلق بھی چند ایسے معاملات کی نقاب کشائی ہوئی تھی کہ جو سنگین نوعیت کے تھے لیکن وطن عزیز میں انکا قرار واقعی نوٹس نہیں لیا گیا اور عوام کو اس سے بہت مایوسی ہوئی تھی لیکن ابکے پانامہ لیکس کے وقت صورتحال بالکل مختلف ہے اور بظاہر لگتا یوں ہے کہ زیادہ تر اپوزیشن ایک پیج پہ آگئی ہے پانامہ لیکس سے جڑی صورتحال کی سنگینی کی نوعیت کو یوں سمجھا جاسکتا ہے کہ ملک کے زیادہ تر سیاسی رہنماؤں سیاسی جماعتوں نے اس جوڈیشیئل کمیشن کو یکسر مسترد کردیا ہے کہ جس کے قیام کا اعلان نواز شریف نے پانامہ لیکس کے حوالے سے تحقیقت کی غرض سے اپنے نشری خطاب میں کیا تھا ،،، وزیراعظم نے نے ان پہ اور انکے خاندان پہ لگائے جانے والے مالی بدعنوانیں کے الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب ان الزامات کی تحقیقات سپریم کورٹ کے کسی ریٹائرڈ جج کے تحت ایک تحقیقاتی کمیشن کے سپرد کی جارہی ہے- جبکہ ان رہنماؤں نے کہا ہے کہ درحقیقت حکومت نے اس مجوزہ کمیشن کا کردار جوڈیشئیل کمیشن کے بجائے صرف انکوائری کمیشن کے رول تک محدود کر دیا ہے - انہوں نے یہ بھی کہا ہے کہ وزیراعظم تحقیقات مکمل ہونے تک اپنے منصب سے الگ ہوجائیں اور ایک ریٹائرڈ جج کے بجائے حاضر سروس جج سے تحقیقات کرائی جانی چاہیئیں کیونکہ ایک ممنون شخص سے آزادانہ تحقیق اور انصاف کی توقع عبث ہے- پیپلز پارٹی کے رہنماء اعتزاز احسن نے تو اس معاملے کے آزادانہ فرانزک آڈٹ کا مطالبہ بھی کردیا ہے - ویسے تو استعفیٰ دینے کے علاوہ بظاہر ان مطالبات میں اور کوئی مطالبہ ایسا نہیں ہے کہ جو تسلیم کیا جانا مشکل یا ناممکن ہو لیکن اب جبکہ ایسے ہی الزامات پہ آئس لینڈ کے وزیروعظم مستعفی ہوچکے ہیں تو بظاہر اپوزیشن کو کسی حد تک ایک مورال سپورٹ بھی میسر آچکی ہے لیکن اسکی بنیادیں بہرحال خاصی کمزور ہیں کیونکہ یہاں پاکستان میں آئس لینڈ کی مانند نہ تو عوام مشتعل ہو کر سڑکوں پہ آئے ہیں اور نہ ہی وہاں جیسا کوئی سنگین احتجاج یا عوامی مظاہرے دیکھنے میں آئے ہیں اور اسی طرح کئی اور ممالک کے حکمران بھی ایسے ہی الزامات کی ذد میں ہیں لیکن انکے ممالک میں بھی عوامی سطح پہ کوئی ایسا بڑا ہنگامہ بپا نہیں ہوا ہے کہ بات سربراہ کے استعفے کے مطالبے تک جا پہنچی ہو ۔۔ لہٰذا یہ بات تو لکھ رکھیئے کہ ہمارے وزیراعظم استعفیٰ نہیں دینگے تاہم یہ ہوسکتا ہے کہ وہ اس معاملے کی جانچ کے لیئے کسی حاضر سروس جج کی تقرری کی بات مان لیں یا بات زیادہ بڑھی تو یہ بھی ممکن ہے کہ اس سب قضیئے کا فارانزک آڈٹ بھی کروالیا جائے - لیکن اس معاملے کے چند اہم پہلو اور بھی ہیں کہ جو شاید ابھی ہمارے سیاسی بقراطوں سے پوشیدہ رہ گئے ہیں کیونکہ اگر وہ ان پہ بھی غور کرلتے تو شاید اس مسئلے پہ اتنا شور ہرگز نہ مچاتے اس معاملے کا ایک اہم پہلو تو یہ ہے کہ جن سیاستدانوں نے اپنی آف شور یا بیرون ملک موجود اس دولت کو چھپایا ہے اور اپنے اثاثوں میں ظاہر نہیں کیا تو الیکشن کمیشن انکے پہلے سے جمع کردہ ان غلط گوشواروں کی بنیاد پہ پارلیمنٹ میں انکی رکنیت کو ختم کرسکتا ہے اور انہیں آئندہ کے لیئے سیاسی عمل سے مکمل باہر کرکے مزید سزا و قانونی کاارروائی کے لیئے انکے معاملات کو عدالت کو بھیج سکتا ہے ،،، اس معاملے کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ چونکہ ایسی زیادہ تر دولت معروف قانونی ذرائع سے بالا ہی بالا بھیجی جاتی ہے لہٰذا بیرون ملک یہ ترسیل زر مالیاتی اسمگلنگ اور ٹیکس چوری دونوں کے ذمرے میں شمار کی جاسکتی ہے یوں یہاں بھی فوجداری کارروائی اور سزایابی کےامکانات کو رد نہیں کیا جاسکتا -لیکن ایک تیسرا پہلو اور بھی ہے جو بیرون ملک آف شور کمپنیوں بنانے کے اس اسکینڈل سے جڑا ہے اور وہ یہ ہے کہ چونکہ حکومت اور اپوزیشن یعنی دونوں ہی جانب کے کئی سیاستدان اور ارکان پارلیمنٹ ان سنگین الزامات کی ذد میں ہیں لہٰذا یہ خطرہ بھی سر پہ منڈلارہا ہے کہ اس کی وجہ سے سارے جمہوری نظام کا ڈبہ ہی گول ہوسکتا ہے - لگتا یہ ہے یہ تینوں پہلو ابھی اپوزیشن کی نگاہ سے اوجھل ہیں ورنہ وہ محض حکومت کا تختہ پلٹانے کی آرزو میں اپنا دھڑن تختہ ہوسکنے کے امکانات کی طرف سے وہ یوں لا تعلق اورغافل نہ ہوتی ،،، اب جبکہ وزیراعظم نے پانامہ پیپرز میں اپنے اہلخانہ کے نام آنے پہ ایک جوڈیشیل کمیشن قائم کر ہی دیا ہے تو انہیں اسے معاملے میں تحقیقات کو زیادہ قابل اعتبار بنانے کے لیئے اپوزیشن کا یہ مطالبہ بھی مان لینے میں کوئی حرج نہیں کہ اس کمیشن کی سربراہی موجودہ چیف جسٹس کو سونپی جائے اور تفتیش کار کے طور جانے مانے و قابل بیورو کریٹ ڈاکٹر شعیب سڈل کی خدمات سے بھی استفادہ کیا جانا چاہیئے اورپھر سب کو ملکر اس کمیشن کی رپورٹ کے آنے کا انتظار کرنا چاہیئے تاکہ پانامہ سے بڑھتے سونامی کا سدباب کیا جاسکے اور سب حقائق سامنے لاکر دودھ کا دودھ پانی کا پانی کیا جاسکے ۔


View the full article

0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Add a comment...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.