Jump to content
  • entries
    180,833
  • comments
    28
  • views
    409,265

یہ توفیق دوسروں کو کیوں نہیں ؟


سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ پاکستان کے اور کسی بھی صوبے سے نکل کر کوئی صوبہ پنجاب کا رخ کرے تو اسے بار بار حیران ہونا پڑتا ہے اور ایک نہیں کئی کئی میدانوں میں متعدد نوعیت کے مثبت قسم کے بہت سے فرق واضح طور پہ محسوس ہونے لگتے ہیں مثلاً تیزرفتار تعمیری سرگرمیوں اور ترقیاتی کاموں کی بہتات کا فرق ،،، ایک لاہور ہی نہیں ملتان فیصل آباد راولپنڈی اور کئی شہروں میں کہیں زبردست سڑکوں کا جال دامن دل کو کھینچتا ہے تو کہیں جدید بالائی گزرگاہیں اور پل حیران کیئے دیتے ہیں اور لاہور اور پنڈی میں تو میٹرو کی سہولت حیران کیئے دیتی ہے ،،، اسی طرح وہاں اکثر شہروں میں ٹریفک قوانین کی پاسداری کی صورتحال بھی نہایت تسلی بخش ہوگئی ہے اور ایک الحمراء ہی نہیں کئی اور شہروں میں بھی ثقافتی سرگرمیاں اپنے عروج پہ نظر آتی ہیں اور انکی رفتار سارے ملک سے کہیں زیادہ ہوچکی ہے ،،، فوڈ اسٹریٹس اور عوامی ڈھابوں کی کثرت بھی اہل پنجاب کی خوش خوراکی کی دلیل بن گئی ہے کہ جہاں ہر طرح کی مالی حیثیت کے لوگ اپنی جیب کے مطابق غذائی معرکے سر کرتے نظر آتے ہیں ،،، یہ سب تو ہے ہی لیکن سماجی اصلاحات کے شعبے میں بھی صوبہ پنجاب دوسرے صوبوں سے بہتر کارکردگی کا حامل نظر آتا ہے پہلے شادی کی محفل رات دیر گئے تک جاری رہتی تھیں لیکن پھرجب رات دس بجے تک شادی ہالوں کی بندش کےاحکامات جاری کیئے گئے اور ان پہ سختی سے عملدرآمد کرایا گیا تو یہ احسن قدم عوام کے لیئے بہت سکون اور راحت کا سبب بنا اسی طرح ہالوں اورہوٹلوں میں شادی کی تقریبات پہ ون ڈش کی پابندی لگادی گئی کہ جس سے مڈل کلاس طبقے کے پہ سے بھاری مالی اخراجات کا بوجھ کسی حد تک کم ہوا ہے اس بار ایک بار پھر سماجی اصلاحات کے میدان میں پنجاب نے پالا مار لیا ہے کیونکہ پنجاب اسمبلی نے ایک نہایت عمدہ قانون کثرت رائے سے منظور کرلیا ہے جسکی رو سے اب گھروں میں بھی ون ڈش کی پابندی لگادی گئی ہے تاہم وہاں کی تقریبات کو رات دس بجے والی پابندی سے اسستثناء دیدیا گیا ہے،، اسی طرح محلے میں چراغاں ممنوع ہوگیا ہے اور گلی و سڑک عوامی مقامات اور کھلی جگہوں پہ آرائشی روشنیاں لگانے اور آتش بازی کی اجازت نہیں ہوگی اور جہیز کی نمائش پہ بھی پابندی عائد کردی گئی ہے اور ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو جرمانہ کرنے کے علاوہ قید کی سزا بھی دی جائیگی یہ پابندیاں شادی کے علاوہ ولیمہ ، مہندیوں اور دیگر متعلقہ تقاریب پہ بھی لگائی گئی ہیں اور اس طرح کسی دولتمند کی شادی کو بھی عوامی دلآزاری اور تکلیف کا باعث بننے کے عمل کا سدباب ہوسکے گا یوں شادیوں میں ہونے والی ان فضولیات اور اصراف بیجا سے نجات سے متوسط و نچلے طبقے کیلیئے کفایت اور راحت کا کافی سامان میسر ہوگا - دیکھا جائے تو چونکہ یہ تمام قوانین براہ راست عوامی بہبود کے امکانات سے پر ہیں چنانچہ اگر انہیں بالکل سخی سے اور فولروف طریقے سے نافذ کیا گیا تو ان اقدامات سے فلاح عامہ کے شعبے میں کافی قابل قدر بہتری رونما ہوسکے گی اور یقینناں جسکے مثبت اثرات سارے معاشرے پہ مرتب ہوں گے - ان احسن قوانین اور اقدامات کی منظوری پہ پنجاب اسمبلی نہایت لائق مبارکباد ہے کہ اسنے قرار واقعی خلوص اور دردمندی سے اس اہم عوامی مسئلے کو بہت سنجیدگی سے لیا اور یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ صوبہ پنجاب کی مقننہ اور حکومت عوامی فلاح کے معاملے میں ایک ہی پیج پر ہیں لیکن یہاں اسی عمدہ کارکردگی کے بطن سے یہ سوال بھی سر ابھارتا ہے کہ آخر ان اچھے کاموں کی توفیق باقی دیگر تینوں صوبوں کی اسمبلیوں اور صوبائی حکومتوں کو کیوں نہیں ہوپاتی ،،،؟؟ وہ کیوں ہاتھ پہ ہاتھ دھرے گم صم بیٹھے دکھائی دیتے رہتے ہیں ۔۔۔ اگر ان سے یہ سب اچھے کام خود سے نہیں ہوپاتے تو وہ کم ازکم یہ تو کرہی سکتے ہیں کہ پنجاب والوں کی تقلید ہی کرلیں ،،، انکے صوبوں میں خصوصاً صوبہ سندھ میں تو یہ حال ہے کہ ہر وقت اور ہر سطح پہ اک عجب سی چھینا جھپٹی اور آپا دھاپی سی مچی رہتی ہے ،، کیا باقی دیگر صوبوں کے عوام کا یہ حق نہیں کہ وہ بھی صوبہ پنجاب کے عوام کی مانند ان کفایتوں اور راحتوں سے مستفید ہوسکیں ،،، مجھے کہنے دیجیئے کہ برسر زمین حقیقت یہ ہے کہ یہاں کی بیورو کریسی اور سیاسی و معاشی اشرافیہ کے درمیان اک مضبوط سا گٹھ جوڑ عرصہ دراز سے قائم چلا آتا ہے اور وہ کسی صورت عوام کو یہ سب راحتیں دینا ہی نہیں چاہتے کیونکہ ایسا کرنے سے خود انکے وی آئی پی اسٹیٹس کو ہزار خطرات لا حق ہوجائینگے اور وہ کسی صورت ایسے اقدامات کی مخالفت نہیں کرسکتے کہ جو انکے ''بلند و بالا'' لائف اسٹائل کے عین مطابق ہیں بلکہ اس طرز زندگی کے عملی محافظ ہیں ۔۔۔ آخر میں یہ عرض کرنا بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ ان تلخ حقائق کی روشنی میں یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جبتک عوامی بیداری بیلٹ بکسوں میں سے انقلابی نتائج لے کر نہیں ابھرے گی ان تینوں صوبوں کے عوم یونہی کڑھتے رہیں گے اور کف افسوس ملتے رہیں


View the full article

0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Add a comment...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.