Jump to content
  • entries
    180,833
  • comments
    28
  • views
    409,265

کرپشن ۔۔عوام کامصنوعی احساس محرومی


عاقب علی ۔۔۔ کیا پاکستان میں کرپشن نہیں ؟،کیامیڈیا اور پاکستان کی سیاسی و مذہبی جماعتیں صرف شور مچا کر کرپشن کو نعرے کی شکل دے رہی ہیں؟، معاشرتی افراط و تفرط اور عوام کا احساس محرومی مصنوعی ہے؟ ، کیا ملک میں بے روز گاری ،مہنگائی،اقربا پروری کا راج نہیں؟،کیاتعلیم ،صحت اور فراہمی و نکاسی آب کا نظام تک ناقص نہیں ہوگیا؟ کیاضروریات زندگی کی ہرشے ملاوٹ سے بھرپور نہیں ؟کیا نوجوانوں کی صلاحیت کی بیخ کنی نہیں کی جارہی ہے؟کیاہمیں ماضی میں جو بھی قیادت ملی کیا پاک و پاکیزہ تھی ؟ صرف کرپشن کے خلاف آواز بلند کرنا مبینہ کرپٹ عناصر کو سنگسار کرنے کے لئے بنی سازش ہے؟۔ سوال تو یہ ہے عوام کے لئے کیاکرپشن کو سمجھنا بہت مشکل کام ہے؟ کیا وہ بصیرت اور بصارت سے محروم ہوگئے ہیں؟کیا انہیں پتہ نہیں کہ حکمران طبقہ اپنے فرائض انجام دینے میں بخل سے کام لیتا ہے،بڑے بڑے واقعات کے مجرم چھوڑ دئیے جاتے ہیں،پاکستان عوام کے خودکو محروم سمجھتے ہیں ،ان کی تسلی اور تشفی کے لئے کوئی اقدام سامنے آتا ہے اور نہ ہی ان کی زندگی میں جوہری تبدیلی آتی،اہم نوعیت کے کئی مقدمات برسہا برس سے التوا ءکا شکار ہیں، ملک سے غداری کا الزام ’اپنے ‘ہی لوگوں کی جانب سے لگایا جاتا ہے مگر ریاست حرکت میں نہیں آتی ،ازلی دشمن ملک کا ’ایجنٹ ‘گرفتار ہوتا ہے مگرسیکولر اور لبرل نظرئیے کی لاج رکھتے ہوئے حکمران اقوام عالم میں آواز تک بلند نہیں کرتے اس کی ایک وجہ اپنے مبینہ کاروباری مقاصد کو محفوظ تر بنانا بھی بتایا جاتا ہے ،دراصل حکمران سمجھ چکے ہیں تجربے سے کشید کردہ گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی اخلاقیات ہی میں ان کی زندگی ہے۔ کیاعوام بے خبر ہیں کہ ہر برس کشکول لے کر آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک سے قرض لینے والے حکمران طبقے کا طرز زندگی کیسا ہے ،ان کی نسل بھی پرتعش زندگی بسر کرتی ہے ،بیرون ملک کے دوروں کے دوران ملک کے وسائل کا کیسا بے دریغ استعمال کرتے ہیں،وہ تو اپنے علاج کے لئے بھی دورے کو ہی ترجیح دیتے ہیں، بھگتنا عوام کو ہی پڑتا ہے،ان سے اتنا تک ممکن نہیں کہ اپنے اور اپنے اہل خانہ کی بہتر طبی سہولیات کےلئے ہی سہی ملک میں ایک معیاری اسپتال بناسکیں،اتنی ناقص اور وژن سے محروم قیادت پربھی گڈ گورننس کے قصیدے سننے کوملتے ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف عالمی جنگ میں امریکی دھمکی پر شمولیت سے ہماری معیشت کو 115ارب ڈالر اور 75ہزار انسانی جانوں کےزیاں کی ضرورت میں ملتے ہیں اور پھر بھی ہم ناقابل اعتبار ٹھہرتے ہیں،کیا یہ فکری غلامی نہیں،ان سے دھتکارے جانے پر بھی ان سے زندگی بسر کرنے کا مستعار لینے کو جرات سمجھتےہیںچند اہل دانش کے نزدیک ایسا ہونا بھی چاہیے کیونکہ ذہنی اپاہج ہونے کا دور آچکا ہے ،ان سے زندگی کے اصول اور قوائدمانگنا اور ان کی جانب سے مل جانا بھی کیا اعزاز سے کم ہے۔ بالکل درست کہا جاتا ہے کہ کرپشن کے خاتمے کے لئے بھیتر کی خبر لی جانی چاہیے،کیوں نہیں ضرور جی ،کیونکہ بیرون قرضہ کئی سو ارب روپے تک پہنچ گیا ہے،عمران خان کے بقول روز کی بنیاد پر 12ارب روپے کی کرپشن کی جارہی ہے جس کی روک تھام کے بغیر کیا خزانہ بھرا جاسکتا ہے؟،گھر کے دانے پورے کئے جاسکتے ہیں؟تعلیم اور صحت کی سہولیات کے امکانات کو روشن کئے جاسکتے ہیں؟کیاعالمی سطح پر مقابلے اور ترقی کے لئے درکار شعور کی آب یاری ممکن ہے ؟۔ اور یہ بات واقعی ہی سمجھ میں نہیں آئی کہ کرپٹ عناصر کے خلاف اقدام سے صرف جمہوریت ہی کو کیوں خطرات لاحق ہو جاتے ہیں؟ ،درست ہے کہ آمریت نے 33برس ملک پر حکومت کی جو کسی بھی درجے میں شفاف ہوتی ہے نہ جوابدہ،ان کا راستہ روکا جانا جمہوریت کے از حد ضروری ہے ،مگر کیا یہ سوچا بھی جاسکتا ہے کہ فکری ،عملی اور مالی لحاظ کرپٹ حکمران طبقہ کوئی ایسا قانونی راستہ فراہم کرے گا، جس سے جائزے اور باز پرس کا کوئی اہتمام ممکن ہوپائے؟کیونکہ ان پر یہ الزام ہوتا ہے کہ عوام کے معیار زندگی کی بلندی کےلئے ملی دولت انہوں نے لوٹ لی ہے ،کیااسی وقت خود کو جوابدہی کے لئے خود پیش کرنے ان کی ذمہ داری نہیں ،کیا اس کے لئے بھی شور شراب تک خاموشی نہیں برتی جاتی اور معاملہ مشتبہ ہونے سے بڑھ جاتا ہے تو انہیں خیال آتا ہے تاثربہتر بنایا جائے؟ لیکن کیاکریں ان کی ’اخلاقیات کے معیار ہی قابل ترمیم ہوتے ہیں ،جس سے عوام کے خدمت کے درکار بہادری کا رویہ بھی ان میں دم توڑ گیاہے ،اس کے بعد کیا بچتا ہے ؟ اپنوں کو ریوڑیاں بٹنےکے سوا۔ کیا حکمرانوں کی کرپشن کے حساب کتاب کے لئے ووٹ کی طاقت کو ہی معیار مان لیا جانا چاہیے؟ ،تو کیا کرپٹ حکمرانوں کے اقدامات سے ملے زخم مندمل ہوجاتے ہیں؟ کیا حقوق مرجانے سے عوام کے راستے میں جو ببول کے کانٹے بچھ جاتے جس میں سفر زندگی میں تلخی بڑھ جاتی ہے،اس میں کمی کیسے ممکن ہو؟ اگر یہ خیال درست بھی مان لیا جائے اور آئندہ انتخابات میں موجودہ حکمرانوں کو مستردکردیا جائے تو کیا ہوگا ؟ ترقی کا سفر تیز تر ہوجائے گا ؟ مثال تو یہ ہے کہ سابقہ حکومت نے 5برس پورے کئے،اور اتنی کرپشن کرلی کہ اب اگر آئندہ 10برس بھی اسے اقتدار نہ ملے تو ان کی صحت پر کوئی اثرپڑنے والا نہیں ۔ٹرانسپرنسی انٹرنیشنل کی رپورٹ 2012ءکے مطابق پیپلز پارٹی کی اتحادی حکومت نےاپنے دور اقتدار کے دوران 95کھرب روپےکی کرپشن کی ۔ کیا سوچا جاسکتے ہیں 95کھرب روپے پاکستان کی معیشت کے لئے کتنی اہمیت رکھتے ہیں ،موجودہ حکمرانوں نے تو اب تک اتنے میگا پراجیکٹ تشکیل دے دئیے ہیں کہ ان کے جانے پر 195ارب کی کرپشن کی خبریں آسکتی ہیں،اس پوری بحث میں اب تو ان 200ارب ڈالر کی بات ہی نہیں کی جارہی ،جس کے حوالے سے2برس قبل لبرل وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار نے قومی اسمبلی میں اپنی تقریر کے دوران اعتراف کرتے ہوئے کہا تھاکہ قوم کی دولت لوٹی گئی ،جو بیرون ممالک کے بینکوں میں ہے ،ہم اسے لے کر آئیں گے، اس کےلئے اقدامات کی نوعیت سے عوام کو آگاہ رکھنے سے کیا جمہوریت بے توقیر ہوجاتی ہے ؟ اس باب میں بھی حکومتی خاموشی طویل ہوتی جارہی ہے ،کیا اپنی کرپشن کے شور کو دبانے کے لئے سابقہ حکومت سے سازباز کے تانے بانےتو نہیں بنے جارہے ہیں؟ خدمت ،عوام کی زندگی کو مزید سہل کرنا کیا حکمران طبقے کا فرض منصبی نہیں ؟ 11ستمبر 2012ء کوایک فیکٹری کو آگ لگادی جاتی ہے،257لوگ جان ہاردیتے ہیں،مگر ملزمان تاحال چنگل سے باہر ہیں، گزشتہ برس ہیٹ اسٹروک سے 2ہزار انسان لقمہ اجل بن جاتے ہیں ،مگر ہوتا کیا ہے؟۔اس جیسے لاتعداد واقعات کے بعد بھی اگرکہا جائے کہ ’سسٹم ‘کی خرابی دور کرنے کی طاقت ایوان اقتدار میں براجمان لوگوں کے پاس نہیں ،تو کیا پھر یہ سوال نہیں بنتا کہ وہ کرسی سےکیوں چمٹے بیٹھے ہیں؟۔


View the full article

0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Join the conversation

You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.

Guest
Add a comment...

×   Pasted as rich text.   Paste as plain text instead

  Only 75 emoji are allowed.

×   Your link has been automatically embedded.   Display as a link instead

×   Your previous content has been restored.   Clear editor

×   You cannot paste images directly. Upload or insert images from URL.


×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.