وہ آئینوں سے جو بے خبر ہے ، حسین تر ہے
وہ جس پہ ٹھہری ہوئی نظر ہے ، حسین تر ہے
جو دھوپ اوڑھے ہوئے بھی سایہ تو دے رہی ہے
وہ شاخ کتنی ہی بے ثمر ہے ، حسین تر ہے
جو سر پہ دستِ کرم ہے ان کا تو رنج کیسا
پھر عمر جتنی بھی مختصر ہے ، حسین تر ہے
وہ شہر ان کا کمال سے بھی کمال ہے پر
وہ ان کے در کی جو رہگزر ہے ، حسین تر ہے
فشارِ جاں بھی قرارِ جاں ہی لگے ہے اب تو
جو مجھ پہ طاری ترا اثر ہے ، حسین تر ہے
جو حق پہ بولے، زبان کھولے، سکوت توڑے
مرے لیے تو وہ معتبر ہے ، حسین تر ہے
یہاں وہاں ہے ، اِدھر اُدھر ہے ، کدھر کدھر ہے
ترا تصّور جدھر جدھر ہے ، حسین تر ہے
0


3 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.