Jump to content
  • entries
    74
  • comments
    281
  • views
    17,496

كچه تها تیرا خیال بهی...


کچھ تو ہوا بھی سرد تھی ، کچھ تھا تیرا خیال بھی
 دل کو خوشی کے ساتھ ساتھ ہوتا رہا ملال بھی

 

 بات وہ آدھی رات کی ، رات وہ پورے چاند کی
 چاند بھی عین چیت کا اس پہ ترا جمال بھی

 سب سے نظر بچا کہ وہ مجھ کو ایسے دیکھتا
 ایک دفعہ تو رک گئی گردش ماہ و سال بھی

 دل کو چمک سکے گا کیا ، پھر بھی ترش کے دیکھ لیں
 شیشہ گران شہر کے ہاتھ کا یہ کمال بھی

 اس کو نہ پا سکے تھے جب دل کا عجیب حال تھا
 اب جو پلٹ کے دیکھئیے ، بات تھی کچہ محال بھی

 مری طلب تھا ایک شخص وہ جو نہیں ملا تو پھر
 ہاتھ دعا سے یوں گرا ، بھول گیا سوال بھی

 اس کی سخن طرازیاں مرے لئے بھی ڈھال تھیں
 اس کی ہنسی میں چھپ گیا اپنے غموں کا حال بھی

 گاہ قریب شاہ رگ ، گاہ امید دائم و خواب
 اس کی رفاقتوں میں رات ، ہجر بھی تھا وصال بھی

 اس کے بازوؤں میں اور اس کو ہی سوچتے رہے
 جسم کی خواہش پہ تھے روح کے اور جال بھی

 شام کی نا سمجھ ہوا پوچھ رہی ہے اک پتا
 موج ہوائے کوئے یار ، کچھ تو مرا خیال بھی

C__Data_Users_DefApps_AppData_INTERNETEXPLORER_Temp_Saved Images_14494833_1073561449347707_3293434024253823917_n.png

0 Comments


Recommended Comments

There are no comments to display.

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.