Jump to content

Recommended Posts

Posted

الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے۔ ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے، 
کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں۔ ۔ ۔ 

کچھ غلامی۔ ۔ ۔

کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں۔ ۔ ۔ 

اور کچھ وار۔ ۔ ۔ 

ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے ۔ جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا،

تو سمجھا 

لفظ صرف معنی نہیں رکھتے، 

یہ تو دانت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ جو کاٹ لیتے ہیں۔ ۔ ۔

یہ ہاتھ رکھتے ہیں، 
جو گریبان کو پھاڑ دیتے ہیں۔ ۔ ۔

یہ پاؤں رکھتے ہیں،
جو ٹھوکر لگا دیتے ہیں۔ ۔ ۔

اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں لہجہ کا اسلحہ تھما دیا جائے،
تو یہ وجود کو چھلنی کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔

اپنے لفظوں کے بارے میں محتاط ہو جاؤ، 
انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لو کہ یہ کسی کے وجود کو سمیٹیں گے
یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے۔ ۔ ۔

کیونکہ

یہ تمہاری ادائیگی کے غلام ہیں اور تم ان کے بادشاہ ۔ ۔ ۔

*اور بادشاہ اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے سے بڑے بادشاہ کو جواب دہ بھی۔ ۔ ۔*

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
  • Forum Statistics

    2.6k
    Total Topics
    9.8k
    Total Posts
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.