jannat malik Posted July 5, 2018 Report Posted July 5, 2018 الفاظ کی اپنی ہی ایک دنیا ہوتی ہے۔ ہر لفظ اپنی ذمہ داری نبھاتا ہے، کچھ لفظ حکومت کرتے ہیں۔ ۔ ۔ کچھ غلامی۔ ۔ ۔ کچھ لفظ حفاظت کرتے ہیں۔ ۔ ۔ اور کچھ وار۔ ۔ ۔ ہر لفظ کا اپنا ایک مکمّل وجود ہوتا ہے ۔ جب سے میں نے لفظوں کو پڑھنے کے ساتھ ساتھ سمجھنا شروع کیا، تو سمجھا لفظ صرف معنی نہیں رکھتے، یہ تو دانت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ جو کاٹ لیتے ہیں۔ ۔ ۔ یہ ہاتھ رکھتے ہیں، جو گریبان کو پھاڑ دیتے ہیں۔ ۔ ۔ یہ پاؤں رکھتے ہیں، جو ٹھوکر لگا دیتے ہیں۔ ۔ ۔ اور ان لفظوں کے ہاتھوں میں لہجہ کا اسلحہ تھما دیا جائے، تو یہ وجود کو چھلنی کرنے پر بھی قدرت رکھتے ہیں۔ ۔ ۔ اپنے لفظوں کے بارے میں محتاط ہو جاؤ، انہیں ادا کرنے سے پہلے سوچ لو کہ یہ کسی کے وجود کو سمیٹیں گے یا کرچی کرچی بکھیر دیں گے۔ ۔ ۔ کیونکہ یہ تمہاری ادائیگی کے غلام ہیں اور تم ان کے بادشاہ ۔ ۔ ۔ *اور بادشاہ اپنی رعایا کا ذمہ دار ہوتا ہے اور اپنے سے بڑے بادشاہ کو جواب دہ بھی۔ ۔ ۔*
Recommended Posts
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now