Sahrish Dar 516 Posted January 29, 2019 Posted January 29, 2019 عدل و انصاف کی پاسداری ایک دن شیر شاہ سوری کےسامنے ایک قتل کا مقدمہ پیش ہوا جس میں قاتل کا سراغ نہیں مل رہا تھا یہ قتل اٹاوہ کے کسی علاقے میں ہوا تھا۔ شیر شاہ سوری نے مقدمے کی سماعت کی۔ اس نے اٹاوہ کے شقدار کو حکم بھیجا کہ جس علاقے میں قتل ہوا ہے اس کے آس پاس واقع کسی درخت کو دو آدمی بھیج کر کٹوائے اور جو سرکاری عامل اس درخت کے کاٹنے کی اطلاع پا کر آئیں انہیں پکڑ کر ہمارے پاس بھیج دو۔ شقدار نے شاہی فرمان کے مطابق دو آدمی درخت کاٹنے کے لئے موقعہ واردات پر بھیجے۔ وہ ابھی درخت کاٹ ہی رہے تھے کہ علاقے کے مقدموں اور معتبروں نے انہیں موقع پر آن پکڑا۔ سادہ کپڑوں میں ملبوس اشخاص نے درخت کاٹنا چھوڑ دیا اور ان معتبروں کو پیش کیا گیا۔ بادشاہ نے ان سے دریافت کیا کہ تمہیں درخت کٹنے کی خبر تو ہو گئی لیکن ایک انسان کی گردن کٹ گئی اور تم اس سے بے خبر رہے۔ میں اسے تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں۔ تین دن کے اندر اند ر قاتل کو پیش کرو ورنہ سزا میں تم قتل کر دیئے جاؤ گے۔ معتبروں کے جسم پر لرزہ طاری ہو گیا اور تیسرے دن کا سورج ابھی طلوع بھی نہ ہوا تھا کہ “قاتل شاہی دربار کے دروازے پر زنجیر و سلاسل میں جکڑے ہوئے حاضر تھے” عدل و انصاف کی اسی پاسداری کی وجہ سے برصغیر کا ہر دیانت دار مورخ شیر شاہ سوری کا نام ادب سے لیتا ہے۔ 1 Quote 🏠 Portal Home 📡 Latest Activity Wall 🔍 Search Forum Topics 📝 Community Blogs 📸 Image Gallery 😂 Jokes & Riddles 🍲 Cooking & Recipes 👗 Female Fashion 🏡 Interior Decoration 🌍 News & Jobs 📩 Contact Support 👋 Welcome & Introductions
Recommended Posts
Join the conversation
You can post now and register later. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.