... فاضل جمیلی ... اخترحسین جعفری نے چار اپریل انیس سو اناسی کو ایک نوحہ لکھا تھاجس کے ایک ایک لفظ میں درد کی وہی شدت تھی جو ہم نے من حیث القوم چار اپریل کو محسوس کی۔وہی سوگواری تھی جوستائیس دسمبر دوہزار سات کو پورے ملک پر طاری ہوئی۔وہی ملال تھا جس نے سولہ دسمبر دوہزارچودہ کو پوری قوم کو غم سے نڈھال کیا اور وہی کرب کی کیفیت ہے جس نے بیس جنوری دو ہزارسولہ کو چارسدہ کی باچا خان یونیورسٹی میں نہتے طالبعلموں پر ہونے والے اذیت ناک حملے کی وجہ سے ہم سب کو ایک بار پھر اذیت میں مبتلا کردیا ہے ۔اخترحسین جعفری نے لکھا تھا۔ اب نہیں ہوتیں دعائیں مستجاب اب کسی ابجد سے زندانِ ستم کھلتے نہیں سبز سجادوں پہ بیٹھی بیبیوں نے جس قدر حرفِ عبادت یاد تھے، پَو پھٹے تک انگلیوں پر گن لیے اور دیکھا رحل کے نیچے لہو ہے شیشئہ محفوظ کی مٹی ہے سرخ سطر ِ مستحکم کے اندر بست و در باقی نہیں یاالٰہی مرگِ یوسف کی خبر سچی نہ ہو ایلچی کیسے بلادِ مصر سے سوئے کنعاں آئے ہیں اِک جلوس ِ بے تماشا گلیوں بازاروں میں ہے تعزیہ بردوش انبوِہ ہوا روزنوں میں سر برہنہ مائیں جس سے مانگتی ہیں، منّتوں کا اجر، خوابوں کی زکٰوۃ سبز سجادوں پہ بیٹھی بیبیو! اب کسی ابجد سے زندانِ ستم کھلتے نہیں اب سمیٹو مشک و عنبر، ڈھانپ دو لوح و قلم اشک پونچھو اور ردائیں نوکِ پا تک کھینچ لو کچّی آنکھوں سے جنازے دیکھنا اچھا نہیں لیکن ہم ہیں کہ جنازے دیکھ دیکھ کر ہماری آنکھیں پک چکی ہیں ۔اس دوران کتنی ہی مساجد، کتنی ہی امام بارگاہوں، کتنے ہی کلیسائوں اور کتنے ہی سیکورٹی اداروں کو دہشت گرد حملوں کانشانہ بنایا گیا۔جواب میں کتنے ہی آپریشن ہوئے، کتنے ہی سیکورٹی پلان بنے۔دہشت گردوں کا قلع قمع کرنے کےبلندو بانگ دعوے کیے گیےلیکن دہشت گردوں کی نرسریاں اسی طرح پھلتی پھولتی رہیں اور آج ان کی جڑیں اتنی مضبوط اور اتنی توانا ہو چکی ہیں کہ اب ان کا ہدف علم و ادب کی نرسریاں بننے لگی ہیں۔قلم اور کتابیں ان کے نشانے پر ہیں۔ہم لاکھ کہتے رہیں کہ ہمیں دشمن کے بچوں کو پڑھانا ہے لیکن پہلے جو کچھ ان دہشت گردوں کو تعلیم ہوا ہے ، اس ناسورکو دُور کرنے کی حکمت کون کرے گا؟ ہم برادر ملکوں میں پائی جانے والی شکررنجیوں کے مٹانے کے لیے ثالثی کرتے ہیں لیکن اپنی صفوں میں پائی جانے والی دراڑوں کو پُر کرنےکاکوئی درماں ہمارے پاس نہیں۔ہم سب کو اپنے آپ سے یہ سوال کرنا پڑے گاکہ انفرادی یا اجتماعی طورپرخاموشی اختیار کرکے، مزاحمت نہ کرکےاور نیشنل ایکشن پلان پر پوری طرح عمل نہ کرکے اپنے دشمنوں، دہشت گردوں ، شرپسندوں اور ان کے سرپرستوں کے سہولت کار تو نہیں؟ کیا ہم خالد احمد کے اس شعر کی مثال ہی بنے رہیں گے؟ کوئی تو روئے لپٹ کر جوان لاشوں سے اسی لیے تو وہ بیٹوں کو مائیں دیتا ہے

0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.