یہی سوز دل ہے تو محشر میں جل کر
جہنم اُگل دے گا مجھ کو نگل کر
پڑی مجھ پہ اوچھی وہ تلوار چل کر
گئی کس طرف موت کمبخت ٹل کر
نہ وحدت سے طلب نہ کثرت سے مطلب
نہ گھٹ کر ہوں قطرہ نہ دریا ابل کر
تری بات بھی تیر ہے ناوک افگن
گڑی میرے دل میں زیاں سے نکل کر
جو شام شبِ ہجر دیکھی تو سمجھے
قضا سر پہ آئی ہے صورت بدل کر
جہاں میں نہ کی قدر غم جب کسی نے
پشیماں ہوا میرے دل سے نکل کر
رخ اس بت کا شاید نکلتا ہے پتھر
کہ قدموں پہ گرتی ہیں نظریں پھسل کر
جلا تھا مرا دل جو پروانہ آسا
کہا میں نے بھی شمع رو ان کو جل کر
جلانے کو دل داغ سینہ ہے حاضر
مگر تو ہی اے داغ پہلے پہل کر
جو کھینچے گا بھی تیر سینے سے ظالم
تو پیکاں سے لے جائے گا دل بدل کر
انہیں آتے دیکھا تو دوڑیں نگاہیں
گئیں آنکھیں ان سے بھی آگے نکل کر
یہ میری طرف پاوٓں محفل میں کیسے
ذرا آدمیت سے بیٹھو سنبھل کر
عزیز اس قدر نقد جاں کیوں ہے اے دل
خدا دے جو ہمت تو نذر اجل کر
وہ بسمل ہوں جو ہاتھ قاتل نے کھینچا
گلے پر مرے گر پڑی تیغ اُگل کر
میرا دل بھی آئینہٓ انجمن ہے
دکھاتا ہے سو رنگ صورت بدل کر
قدم جب خوشی نے در دل پہ رکھا
صدا غم نے دی دیکھ ظالم سنبھل کر
امیؔر اہل مسجد سے اظہار تقویٰ
ابھی آئے ہو میکدے سے نکل کر


1 Comment
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.