تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
جیسے ویراں ہورہ گزارِحیات
جیسے خوابوں کے رنگ پھیکے ہوں
جیسے لفظوں سے موت رِستی ہو
جیسے سانسوں کے تار بکھرے ہوں
جیسے نو حہ کناں ہو صبح چمن
تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
جیسے خوشبو نہیں ہو کلیوں میں
جیسے سُونا پڑا ہو شہرِ دل
جیسے کچھ بھی نہیں ہو گلیوں میں
جیسے خوشیوں سے دشمنی ہو جائے
جیسے جذبوں سے آشنائی نہ ہو
تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
جیسے اک عمر کی مسافت پر
بات کچھ بھی سمجھ نہ آئی ہو
جیسے چپ چپ ہوں آرزو کے شجر
جیسے رک رک کے سانس چلتی ہو
جیسے بے نام ہو دعا کا سفر
جیسے قسطوں میں عمر کٹتی ہو
تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
جیسیاک خوف کے جزیرے میں
کوئی آواز دے کے چھپ جائے
جیسے ہنستے ہوئے اچانک ہی
غم کی پروا سے آنکھ بھر جائے
تم نہیں ہو تو ایسا لگتا ہے
ارشد ملک
-
entries
74 -
comments
281 -
views
17,496
1

1 Comment
Recommended Comments
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now