نہیں خالی رقیب تیرا کوئی بھی وار گیا
میں وہ شخص ہوں جو کائنات ہار گیا
فصل گل میری زیست کی مرجھاگئی
بس خزاں ہے جب سے موسم بہار گیا
اک میں ہی نا بن سکا اس کا کبھی
وہ میرا ہی رہا جس سمت میرا یار گیا
سمجھ پایانہ میری پیار کی سچائی وہ
اسے بتلانے میں دنیا سے میں بیمار گیا
چین آیا نا مجھے بعد اسکے جانے کے
اڑ گئی نیند میری میرا سب قرار گیا
اے دنیا چھوڑ اب مجھے میرے حال پر
مجھے تو چھوڑ میرا مالک و مختار گیا
جڑوں سے کھود کے نکالا گیا ہے مجھکو
چھڑایا مجھ سے پھر ہر ایک دوار گیا
میری تو عید اسے دیکھنے سے ہوتی تھی
بعد اسکے محرم کی طرح ہر تہوار گیا
تباہی دیکھنے میری ایک شہر امڈ آیا
بڑی ہی دور تک شاید میرا غبار گیا

0

0 Comments
Recommended Comments
There are no comments to display.
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.