بزمِ یاراں میں کیا گل کھلائے گئے
ہر قَبا پر ستارے سجائے گئے
اتفاقاً کوئی قصر تاریک تھا
انتقاماً کئی گھر جلائے گئے
جن کی لَو خنجروں سے ذرا تیز تھی
وہ دیے شام ہی سے بُجھائے گئے
اپنی صورت بھی اک وہم لگتی ہے اب
اتنے آئینے مجھ کو دکھائے گئے
شہرِ دل پر مسلط رہیں ظلمتیں
دشتِ ہستی میں سورج اُگائے گئے
کیا غضب ہے کہ جلتے ہوئے شہر میں
بجلیوں کے فضائل سنائے گئے
دل وہ بازار ہے جانِ محسنؔ، جہاں
کھوٹے سکے بھی اکثر چلائے گئے
2

2 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.