Jump to content
  • entries
    18
  • comments
    28
  • views
    3,454

بزمِ یاراں میں کیا گل کھلائے گئے 


بزمِ یاراں میں کیا گل کھلائے گئے 
ہر قَبا پر ستارے سجائے گئے
اتفاقاً کوئی قصر تاریک تھا 
انتقاماً کئی گھر جلائے گئے 
جن کی لَو خنجروں سے ذرا تیز تھی
وہ دیے شام ہی سے بُجھائے گئے 
اپنی صورت بھی اک وہم لگتی ہے اب
اتنے آئینے مجھ کو دکھائے گئے
شہرِ دل پر مسلط رہیں ظلمتیں 
دشتِ ہستی میں سورج اُگائے گئے
کیا غضب ہے کہ جلتے ہوئے شہر میں 
بجلیوں کے فضائل سنائے گئے 
دل وہ بازار ہے جانِ محسنؔ، جہاں 
کھوٹے سکے بھی اکثر چلائے گئے

FB_IMG_1494749616821.jpg

2 Comments


Recommended Comments

waqas dar

Posted

ماں ساتھ ہے تو سایہ قدرت بھی ساتھ ہے 
ماں کہ بغیر لگے کے دن  بھی _____ رات ہے

میں دور جاؤں تو انکا میرے سر پہ ہاتھ ہے 
 میرے لئے تو ______ میری ماں ہی کائنات ہے

دامن میں ماں کےصرف وفاؤں کہ پھول ھیں
 ہم سارے اپنی ماں کے قدموں کی دھول ھیں

اولاد کے ستم اسے ______ ہنس کر قبول ہے 
 بچوں کو بخش دینا ہی ____ماں کا اصول ہے

دن رات پاس پول کر ____ اس نے بڑا کیا 
گرنے لگی تو اس نے پھر سے کھڑا کیا

ماں ساتھ ہے تو سایہ قدرت بھی ساتھ ہے 
ماں کے بغیر لگے کے دن بھی رات  ہے

Canxer

Posted

اساں تے آکھیاں سی سانوں نہ بولائی وے 
اے تے نہی آکھیاں سی گروپ چھوڑ جائی وے

🤚✊

Create an account or sign in to comment

You need to be a member in order to leave a comment

Create an account

Sign up for a new account in our community. It's easy!

Register a new account

Sign in

Already have an account? Sign in here.

Sign In Now
×
×
  • Create New...

Important Information

By using this site, you agree to our Terms of Use.