لمحہ بھر اپنا خوابوں کو بنانے والے
اب نہ آئیں گے پلٹ کر کبھی جانے والے
کیا ملے گا تجھے بکھرے ہوئے خوابوں کے سوا
ریت پر چاند کی تصویر بنانے والے
سب نے پہنا تھا بڑے شوق سے کاغذ کا لباس
اس قدر لوگ تھے بارش میں نہانے والے
مر گئے ہم تو یہ کتبے پر لکھا جائے گا
سو گئے آپ زمانے کو جگانے والے
در و دیوار پر حسرت سی برستی ہے محسن!
جانے کس دیس گئے پیار نبھانے والے

2 Comments
Recommended Comments
Create an account or sign in to comment
You need to be a member in order to leave a comment
Create an account
Sign up for a new account in our community. It's easy!
Register a new accountSign in
Already have an account? Sign in here.
Sign In Now