لمحہ بھر اپنا خوابوں کو بنانے والے
اب نہ آئیں گے پلٹ کر کبھی جانے والے
کیا ملے گا تجھے بکھرے ہوئے خوابوں کے سوا
ریت پر چاند کی تصویر بنانے والے
سب نے پہنا تھا بڑے شوق سے کاغذ کا لباس
اس قدر لوگ تھے بارش میں نہانے والے
مر گئے ہم تو یہ کتبے پر لکھا جائے گا
سو گئے آپ زمانے کو جگانے والے
در و دیوار پر حسرت سی برستی ہے محسن!
جانے کس دیس گئے پیار نبھانے والے
4


2 Comments
Recommended Comments
Join the conversation
You are posting as a guest. If you have an account, sign in now to post with your account.
Note: Your post will require moderator approval before it will be visible.