... جویریہ صدیق ... ملک کے بالائی اور میدانی علاقے اس وقت شدید دھند کی لپیٹ میں ہیں۔بعض اوقات دھند کے باعث حد نگاہ بہت کم ہوجاتی ہے۔اس وجہ سے معمولات زندگی متاثر ہوجاتے ہیں۔خاص طور پر ٹریفک کی روانی اس سے شدید متاثر ہوتی ہے۔دھند کے باعث ٹریفک حادثات کی شرح بھی بڑھ جاتی ہے۔اس لئے دھند میں گاڑی چلانے سے پرہیز کریں اگر باہر جانا بہت ضروری ہو تو ان چیزوں کا خیال کریں۔ 1)موسم صاف ہونے کا انتظار کریں اگر آپ کہیں جارہے ہیں اور اچانک موسم تبدیل ہوجائے تو سروس اسٹیشن یا پارکنگ ایریا میں رک کر دھند کے چھٹنے کا انتظار کریں۔ 2) لو بیم کا استعمال کریں دھند میں گاڑی چلاتے وقت ہائی بیم کا استعمال نا کریں۔دھند میں گاڑی لو بیم پر چلائیں۔ 3)گاڑی کی رفتار کم رکھیں گاڑی کی رفتار مدھم رکھیں تیز رفتاری سے اجتناب کریں۔تیز رفتاری حادثات کا سبب بنتی ہے۔ 4)موبائیل کا استعمال نا کریں گاڑی چلاتے وقت موبائل فون پر بات نا کریں اپنی نظر اور فوکس سڑک پر رکھیں۔ 5)لین میں رہیں اپنی لین میں رہیں اور سڑک پر لائین پر نظر رکھیں۔ 6) سیٹ بلیٹ کا استعمال کرہیں بیلٹ کو لازمی باندھیں کیونکہ حادثے کی صورت میں بیلٹ آپ کو زخمی ہونے سے بچاتا ہے۔ 7)فوگ لائٹ استعمال کریں دھند کی صورت میں فوگ لائٹ کا استعمال کریں۔ 8)کار کے شیشے صاف رکھیں دوران ڈرائیونگ گاڑی کے شیشے صاف رکھیں۔ 9)اورٹیک سے پرہیز کریں کسی بھی تیز رفتار والی گاڑی کا پیچھا نا کریں گاڑی کی رفتار کم رکھیں۔اور ٹیک سے پرہیز کریں۔ 10) موسم کے حال سے واقف رہیں گھر سے نکلتے وقت محمکہ موسمیات کی ویب سائٹ اور ٹریفک پولیس کے ریڈیو پر موسم کی اپ ڈیٹ سن لیں اس کے بعد سفر کریں۔ 11)دیگر گاڑیوں سے فاصلہ رکھیں دھند میں اپنی گاڑی سے آگے اور پیچھے آنے والی گاڑی سے فاصلہ رکھیں۔ 12) ڈی فارسٹر اور ونڈ وائپر کا استعمال دھند کی وجہ سے شیشوں پر نمی آجاتی ہے اس لئے ڈی فارسٹر اور ونڈ شیلڈ وائپر کا استعمال کریں۔ 13)سفر میں وقفہ دیں اگر دھند کے باعث بلکل گاڑی چلنا مشکل ہوجائے تو گاڑی کو سائیڈ پر پارک کرلیں اور لائٹس آن رکھِیں تاکہ کوِئی گاڑی آپ کی گاڑی سے ٹکرا نا جائے۔ 14) ہیٹر آن رکھیں گاڑی کا ہیٹر آن رکھیں تاکہ گاڑی کے اندر نمی جمع نا ہو ۔ 15) الرٹ رہیں گاڑی کا شیشہ تھوڑا سا کھول لیں تاکہ آپ نے ارداگرد آوازیں سن سکیں ۔ 16)موٹر سائیکل سوار، سائیکل سواروں اور پیدل چلنے والوں کا خاص خیال کریں۔ان سے مناسب فاصلہ رکھیں اور انہیں جگہ دیں۔ آپ کی زرا سی غفلت بعد بہت بھاری ثابت ہوسکتی ہے۔محتاط ہوکر ڈرائیونگ کریں ۔منزل مقصود پر کبھی نا پہنچنے سے بہتر ہے کہ دیر سے پہنچ جائیں . Javeria Siddique writes for Daily Jang Twitter @javerias
... جویریہ صدیق ۔۔۔۔ پاکستان کے وزیراعظم میاں محمد نواز شریف اور چیف آف آرمی سٹاف جنرل راحیل شریف کا دورہ سعودیہ عرب اور ایران بہت اہمیت کا حامل ہے۔یہ دورہ ایران اور سعودیہ عرب کے مابین بڑھتی کشیدگی کو کم کرنے کے لئے کیا جارہا ہے۔اس امن مشن کےدوران وزیراعظم نواز شریف اور جنرل راحیل شریف مصالحت کے لئے مختلف تجاویز دونوں ممالک کے آگے رکھیں گے۔
سفارتی حلقے اس دورے کو بہت اہم قرار دئے رہے ہیں۔دو بڑے اسلامی ممالک کے درمیان کشیدگی کسی طور پر بھی امہ کے حق میں نہیں ہے۔دوسرا اس کشیدگی کی وجہ سے خطے کا امن خطرے میں ہے۔پاکستان اس بات کا خواہاں ہے کہ بات چیت کے ذریعے سے مسائل کو حل کیا جائے۔اس موقعے پر پاکستان کی سول اور ملٹری قیادت کا ایک پیج پر ہونا بہت ہی خوش آئند بات ہے۔
۔مشرق وسطی کی موجودہ صورتحال سے امت مسلمہ میں نفاق پیدا ہوا رہا ہے اس موقعے پر پاکستانی قیادت کا یہ دورہ امن و آشتی کی طرف پہلا قدم ہے۔دورے کے پہلے حصے میں وزیر اعظم نوازشریف اور جنرل راحیل نے سعودیہ عرب کے فرمانروا شاہ سلیمان سے ملاقات کی۔آج ایرانی صدر حسن روحانی سے ملاقات کرکے دونوں ممالک کے درمیان خلیج کو کم کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
سوشل میڈیا پر بھی یوزرز نے اس مصالحتی دورے کا خیر مقدم کیا.ایم پی اے حنا بٹ نے ٹویٹ کیا دونوں شریف پیس مشن پر ہیں۔ایم این اے مائزہ حمید نے ٹویٹ کیا کہ وزیر اعظم نواز شریف اور راحیل شریف خطے میں کشیدگی کم کرنے کے لئے اپنا کردار ادا کررہے ہیں۔ صحافی وسیم عباسی نےٹویٹ کیا یہ ایک بہترین اقدام ہے اس سے یہ ثابت ہوتا ہے ہم امت مسلمہ کے خیر خواہ ہیں اور نیوٹرل ہیں دوسری طرف سول ملٹری قیادت ایک پیج پر ہے۔
مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد بھی اس دورے کو سراہتے رہے ۔مریم مصطفی نے ٹویٹ کیا کہ وزیراعظم نوازشریف اسلامی ممالک میں امن کے خواہاں ہیں جس کے لئے وہ بہت سنجیدگی سے کام کررہے ہیں۔عثمان دانش نے ٹویٹ کیا دونوں شریفوں کی امن کے لئے کاوشیں قابل تحسین ہیں۔شہزادہ مسعود نے ٹویٹ کیا عالم اسلام میں امن اور یکجہتی کے لئے ایک اچھا قدم ہے اللہ اس نیک کام میں وزیراعظم نوازشریف اور جنرل راحیل شریف کو کامیابی دے۔
مبشر اکرم نے ٹویٹ کیا پاکستان مسلم ممالک کے حوالے سے جدید ڈپلومیسی رکھتا ہے پاکستان کی ضمانت پر یہ معاملہ حل ہوجائے گا۔عاطف متین انصاری نے ٹویٹ کیا اس دورے سے پاکستان مخالف قوتوں کا خواب چکنا چور ہوگیا جو سمجھتے تھے کہ پاکستان کو فرقہ واریت کی جنگ میں جھونکا جاسکتاہے۔سول حکومت کےتدبر اور فوج کی عسکری قوت سے پاکستان کا مستقبل تابناک ہے ۔محمد عثمان نے ٹویٹ کیا انشاء اللہ پاکستان کی کوششوں سے ایران اور سعودیہ عرب میں کشیدگی کا خاتمہ ہوجائے گا۔جون ایلیا نے ٹویٹ کیا وقتی طور پر ایران اور سعودیہ عرب میں کشیدگی ختم ہوجائے گی ۔
شہریار علی نے ٹویٹ کیا انشاءاللہ پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کا مشترکہ دورہ ایران سعودیہ سود مند ثابت ہوگا۔عرفان علی نے ٹویٹ کیا پاکستان نے ثابت کردیا ہے کہ وہ اسلام کا قلعہ ہے۔ہینڈسم منڈا نے ٹویٹ کیا یہ ایک اچھا قدم ہے ایران اور سعودیہ کے ساتھ ہمارے تعلقات ہیں ان کے درمیان کشیدگی پاکستان پر اثرانداز ہوگی۔عبد الخالق نے فیس بک پر پوسٹ کیا مجھے امید ہے اور میں خداکے حضوردعاگو ہوں کہ وہ وزیراعظم اورآرمی چیف کے سعودی عرب اورایران کے اس دورے کو کامیاب بنائے ، دونوں ممالک کے مابین کشیدگی کاخاتمہ ہو، برادرانہ تعلقات قائم ہوں اورمشرق وسطیٰ میں پوری دنیا میں دیرپا امن واستحکام قائم ہو آمین
جویریہ صدیق صحافی،مصنفہ اور فوٹوگرافر ہیں۔ان کی کتاب سانحہ آرمی پبلک سکول شہدا کی یادداشتں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ ان کا ٹویٹر اکاونٹ @javerias ہے ۔
۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ ویسے یوں تو پہلی جنگ عظیم کے بعد ہی سے سے عالم اسلام کے بحران مسلسل بڑھتے جارہے ہیں لیکن نائن الیون کے بعد سے تو گویا بحرنوں کا سیلاب سا امنڈ آیا ہے ،،، کبھی عراق پہ امریکا کی جارحانہ افتاد تو کبھی افغانستان میں نیٹو افواج کی یلغار ،، پھر بشار الاسد کے شام کی خانہ جنگی میں ہونے والی مارا ماری اور لیبیا کے بے سمت و بے مہار اونٹ کے خونی شتر غمزے ،، ساتھ ہی کبھی صومالیہ و چاڈ میں خانہ جنگی تو کبھی نائجیریا کے بوکو حرام کی جدال و قتال ۔۔۔ القاعدہ ، الناصرہ اور حزب اللہ کی کارروائیوں سے عالم اسلام کیا کم لہورنگ ہوا تھا کہ یکایک داعش بھی جنم لیتے ہی خونریزیوں کی اس داستان کو مزید سنگین کرنے کیلیئے کود پڑی ،،، الغرض عالم اسلام کو چاروں طرف سے مہیب بحرانوں نے گھیر لیا تھا اور لگتا تھا کہ شاید اب یہ سب خونریزیاں عالم اسلام کو خواب غفلت سے بیدار کرنے کیلیئے تازیانہ بن جائیں ،،، مگر ہوا کچھ اور ،، اچانک ہی سعودی عرب اور ایران الجھ پڑے اور امن کی رہی سہی امیدیں بھی خاک میں مل گئیں کیونکہ یہ دونوں ممالک تو اس خطے کے بڑے چودہری ہیں ۔۔۔
ایران سعودی تنازع کیا ہے کیا نہیں ہے یہاں اسکا تجزیہ کرنا مقصود نہیں کیونکہ اسکی اپنی اک پرانی تاریخ ہے اور دونوں کے پاس اپنے حق میں کہنے کیلیئے بہت کچھ ہے ،، اور اسکا یہ وقت بھی نہیں ہے کیونکہ انکے درمیان فوجی سطح پہ الجھ پڑنے کےامکانات بہت بڑھ گئے ہیں تاہم یہ کہے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ دونوں ہی ممالک کی اہمیت اتنی زیادہ ہے کہ انکے رویئے اور اقدامات کے مشرق وسطیٰ ہی نہیں تمام عالم اسلام پہ بہت شدید اثرات مرتب ہوتے ہیں لہٰذا انکے درمیان حالیہ تنازع کو اگر ختم نہیں تو ممکنہ حد تک کم کیا جانا ازحد ضروری ہے اور وقت کے اسی اہم تقاضے کو سمجھتے ہوئے پاکستان کی سول اور فوجی قیادت نے دونوں ملکوں کے درمیان ثالثی کا ڈوال ڈالنے پہ کمر کسی ہے اور اس ضمن میں انہں نے پہلے مرحلے میں سعودی عرب کا رخ کیا ہے - راحیل شریف اور راحیل شریف کا یہ اہم اقدام نہایت لائق ستائش ہے اور اس حقیقت کا مظہر بھی کہ اب اگر تمامتر نہیں تو کئی اہم معاملات پہ سول اور فوجی قیادتیں ایک پیج پہ آچکی ہیں اور انکے درمیان یہ ہم آہنگی کئی اہم قومی امور پہ بھی معاملات کو بہتر بنانے کی مد میں بہت ممد و معاون ہوگی
وزیراعظم نواز شریف اور آرمی چیف جنرل راحیل شریف کے ثالثی اقدام کی کامیابی کے امکانات کی بابت بھی کئی سوالات اٹھ رہے ہیں جن میں سب سے بڑا تو یہ ہے کہ کیا اسکی کوششوں کو شرف قبولیت بھی مل پائے گا یا پھر دونوں جانب یا کسی ایک جانب سے اسکو ہری جھنڈی دکھادی جائیگی تو یہاں یہ سمجھا جانا بھی بیحد ضروری ہے کہ یقینناً اس ضمن میں پہلے کافی ہوم ورک کرلیا گیا ہوگا اور اندر خانے بیک ڈور ڈپلومیسی بالضرور بروئے کار لائی گئی ہوگی اور دونوں جانب سے خیرمقدمی ''گرین سگنل'' ملنے کے بعد ہی معاملات کا یہ رخ بنا ہوگا کہ دونوں اہم ترین پاکستانی اکابرین نے ثالثی کے اس سفر کیلیئے پاؤں باہر نکالے ہیں - درحقیقت اس وقت خطے کے یہ دونوں ممالک آپس میں کسی قسم کا براہ راست تصادم خود بھی نہیں چاہتے کیونکہ دونوں کو تیل کی گرتی ہوئی قیمت اور اسکے نتیجے میں زوال پزیر معیشت کے آسیب نے بری طرح جکڑ رکھا ہے اور امن دونوں ہی کی لازمی ضرورت ہے ان دونوں ممالک نے گزشتہ ہفتے ایکدوسرے کے خلاف جو تلخ بیانات دیئے تھے اب انکی شدت میں کمی آگئی ہے کیونکہ دونوں ہی رفتہ رفتہ جذبات کے بجائے حقائق کی دنیا میں واپس آتے جارہے ہیں اس وقت انکو ضرورت تھی تو کسی ایسے قابل بھروسہ ملک کی کہ جو دونوں کیلیئے قابل قبول ہو اور وہ آگے بڑھکر انکے درمیان مذاکرات اور گفت و شنید کی راہ ہموار کردے اور یہ ضرورت پاکستان کی شکل میں پوری ہوتی نظر بھی آرہی ہے کیونکہ پاکستان خواہ وسائل میں کتنا ہی کم سہی لیکن اسکی عسکری و جغرافیائی اہمیت بہت زیادہ ہے اور دونوں ممالک سے اسکے تعلقات کی تاریخ بھی کافی پرانی ہے
یہاں آخر میں یہ عرض کرنا مناسب ہے کہ پاکستان اس سلسلے میں او آئی سی کو بھی حقیقی طور پہ متحرک کرے اور اس سلسلے میں اسکے کردار کو بھی درمیان میں لائے ورنہ پھر یہ او آئی سی بھلا کس مرض کی دوا ہے ،، اسکے ساتھ ساتھ ثالثی کے اس عمل میں کم از کم دو اور ممالک کو بھی شامل کیا جائے کہ جن پہ یہ دونوں ممالک متفق ہوسکتے ہوں تاکہ کسی فریق کا بعد میں طے شدہ امور پہ آسانی سے دائیں بائیں ہونا ممکن ہی نہ رہے- یہ ثالثی اور بھی موثر اور بامعنی ہوسکتی ہے کہ جب اس میں فریقین ک یرضامندی سے چین کو بھی شریک کرلیا جائے کیونکہ امریکا کے بعد چین ہی وہ دوسری طاقت ہے کہ جسکی وجہ سے فریقین اپنے معاہدے کی پاسداری پہ مجبور و پابند ہوسکتے ہیں اور چونکہ چین کے کبھی کوئی توسیع پسندانہ عزائم رہے بھی نہیں چنانچہ اس میں بظاہر حقیقی خطرہ بھی کوئی نہیں ہے .
۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ وطن عزیز یوں تو متعدد سنگین مسائل کا شکار ہے لیکن ایک مسئلہ ایسا ہے کہ جو درحقیقت کئی مسائل کی جڑ ہے اور وہ ہے قانون کا اطلاق صرف غریبوں اور کمزوروں پہ کیا جانا ،،،، اس مسئلے کی بنیاد دراصل معاشرتی اونچ نیچ یہ مبنی وہ رویہ ہے کہ جسکے تحت آبادی کے محروم طبقات کو شرف انسانی دیئے جانے کے لائق ہی نہیں سمجھا جاتا البتہ کسی بھی معمولی غلطی پہ بڑی مستعدی سے انکی گردن ناپ لی جاتی ہے اور قانون کا پوری شدت سے اطلاق کرڈالا جاتا ہے اور بالا دست طبقات کے ہر جرم کی طرف سے نہ صرف آنکھیں بند کرلی جاتی ہیں بلکہ کسی مرحلے پہ انکا جرم کھل جانے پہ ہردور میں حکومتیں انہیں ہر ممکن تحفظ فراہم کرنے میں بہت چوکسی دکھاتی ہیں ،،، بد قسمتی سے یہ وہ طرز عمل ہے جو کے آزادی کے چند ہی برس بعد سے ہمارے حکمرانوں کا شعار بن گیا تھا اور اب بھی کسی نہ کسی طور سرکاری معاملات میں جلوہ فرما دکھائی دیتا ہے لیکن ایک اچھی اور حیرت انگیز خبر شہباز شریف صاحب کے حوالے سے ہمیں سننے کو ملی ہے تو اؤل تو ہمیں یقین ہی نہیں آرہا اور دوسرے اگر یہ درست ہے تو ہمیں حیرانی ہے کہ آخر اسکی قومی سطح پہ کوئی تحسین سننے اور دیکھنے کو کیوں نہیں ملی ،،،؟
اخباری اطلاعات کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے چند برس قبل جبکہ لاہور کے زیر تعمیر رنگ روڈ کے کام کے معاملے میں اس وقت کھنڈت ڈال دی تھی کہ جب اسکے معیار کو مقررہ پیمانوں سے کہیں کم اورناقص پایا تھا ،،، اس سے قبل متعلقہ کنٹریکٹر کامران کیانی کو انہوں نے اس بارے میں دوبار وارننگ بھی دی تھی لیکن وہ موصوف اس تڑی کو خاطر میں اسلیئے نہیں لائی تھے کیونکہ وہ اس وقت کے برسرمنصب آرمی چیف جنرل اشفاق کیانی کے بھائی تھے اور سمجھتے تھے کہ وہ خواہ کیسی ہی اندھی مچائیں کوئی انکا ہاتھ نہیں روک سکتا کیونکہ وہ طاقت و اختیار کی ایک بہت بڑی علامت سے نہایت قریبی خونی رشتے میں منسلک تھے اوریہ وہ حقیقت ہے کہ جسے وطن عزیز میں روایتی طور پہ اب تک ''آخری دلیل'' سمجھ کر چپ سادھنے ہی میں عافیت سمجھی جاتی رہی ہے ،،، وہ چاہتے تو اس خوفناک حقیقت کے سامنے یہ کہکر اپنی جان چھڑا سکتے تھے کہ یہ ٹھیکہ ان سے پہلے والی پنجاب حکومت کے وزیراعلیٰ پرویز الہٰی نے دیا تھا اور وہ اس ''گناہ'' کے ذمہ دار نہیں ہیں اور زیادہ سے زیادہ یہ کرتے کہ بڑے کیانی صاحب کی سبکدوشی کے بعد اس ناقص سڑک کو پرویز الہٰی کو طعنے مارنے اور بدنام کرنے کیلیئے اپنی انتخابی اشتہاری مہم کا حصہ بنا ڈالتے لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا اور کسی خوف کے آگے ڈھیر ہونے کے بجائے انہوں نے وہ ہی کیا جو انہیں کرنا چاہیئے تھا یعنی اس ٹھیکے کو منسوخ کرکے ایک کھلے مقابلے کے تحت ایک ذمہ دار اور اچھی ساکھ والے ادارے کو یہ کام سونپ دیا کہ جسنے واقعی اچھا اور معیاری کام کرکے اپنے نام اور ساکھ کی لاج رکھی اور اگر یہخبر درست ہے تو پھر شہباز شریف اس ایماندارانہ طرزعمل کیلیئے بجا طور پہ نہایت تعریف اور سائش کے مستحق ہیں
یہاں یہ عرض کرنا بھی ضروری ہے کہ اکیلے شہباز شریف ہی نہیں جنرل کیانی بھی لائق توصیف ہیں کہ انہوں ماضی کی روایتوں کے برعکس کسی غلط کار کا جو کہ خواہ انکا سگا بھائی ہی کیوں نہ تھا تو اسکا ساتھ دینا گوارا نہ کیا اور اپنی طاقت و اختیار کی قوت کو شہباز شریف کے اس سخت فیصلے کی راہ میں مزاحم ہونے نہ دیا اور کسی دوسرے کنٹریکٹر کیلیئے یہ ممکن ہوسکا کہ وہ یہ ٹھیکہ لے سکے اور صحیح سڑک کی تعمیر خوش اسلوبی سے مکمل کرسکے ۔۔۔ ترقی یافتہ ممالک کے پیمانے سے دیکھا جائے تو ان دونوں شخصیات نے کوئی ایسا بڑا کارنامہ انجام نہیں دیا کیونکہ یہ انکے فرائض کا حصہ تھا اور مغربی ممالک میں یہ چلن نرالانہیں بلکہ ایسا نہ ہونا غیرمعمولی بات ہے لیکن یہاں ہمارے وطن کی نسبت سے یہ فی الواقع ایک بہت بڑی بات ہے جو کہ نہایت پزیرائی کے قابل ہے ،،، لیکن لگتا یوں ہے کہ ہم رفتہ رفتہ یا تو اچھے کاموں کو سراہنے کے ہنر سے ہی محروم ہوتے جارہے ہیں یا پھر اس امر سے ڈرنے لگے ہیں کہ ہمیں ''جانبدار'' نہ سمجھ لیا جائے ،، اور یہ دونوں ہی وجہیں قومی بہبود کی راہ میں نہایت تشویش کی باتیں ہیں ۔۔۔ اہل صحافت ہوں یا عام عوام ہم جہاں برے کاموں پہ تنقید میں مستعدی دکھانا اپنا فرض سمجھتے ہیں وہاں اچھے کاموں کو سراہنے میں بھی سرگرمی دکھانی چاہیئے،،، حق بحقدار رسید اسی کو کہتے ہیں
۔۔۔ جویریہ صدیق ۔۔۔۔ نمونیا پھیپھڑوں کی خطرناک بیماری ہے۔عام طور پر بچے اور عمر رسیدہ افراداس بیماری کاشکار ہوتے ہیں۔یہ فنگس بیکٹریا اور وائرس کے سبب پھیلتا ہے۔ انسان کے پھیپھڑے میں alveoli ducts میں ہوا بھرتی ہے لیکن اگر انسان نمونیا کے جراثیم کا شکار ہوجائے تو alveoli پس سے بھر جاتی ہے۔جس کے باعث انسان کو سانس لینے میں تکلیف اور دشواری ہوتی ہے ۔نمونیا کی اہم علامات کچھ یوں ہیں۔کھانسی کا ہونا،سانس کی بے ترتیبی اور سانس کا تیزچلنا،بخار،سانس باہر نکالتے وقت آواز کا پیدا ہونا،قے،دل کی دھڑکن کاتیز ہونا،کپکپی، سینے میں درد اور پسلیوں کا چلنا اگر بچے میں یہ علامات دیکھیں تو فوری طور پر اسے ہسپتال لئےکرجائیں۔
بچہ اگر شیرخوار ہے تواس بچے کو نمونیا کے دوران دودھ پینے اور نگلنے میں دشواری ہوگی ۔ان بچوں میں نمونیا کا امکان زیادہ بڑھ جاتا ہے جو غذائی قلت کا شکار ہوں اور جنہوں نے ماں کا دودھ نا پیا ہو۔اس کے ساتھ ساتھ غربت ،ماحولیاتی آلودگی، پر ہجوم طرز رہائش اورتمباکونوشی بھی اس کےہونےکےامکان کو بڑھا دیتا ہے۔
عالمی ادارہ صحت کے مطابق 2015 میں 9 لاکھ 22 ہزار بچے نمونیا کی وجہ سے موت کہ منہ میں گئے۔ان میں سے زیادہ تر بچے 5 سال کی عمر سے کم تھے۔اس بیماری کا زیادہ شکار جنوبی ایشیا اور افریقہ کے بچے ہوتے ہیں۔پاکستان میں ہر سال 80 ہزار سے زائد بچے نمونیہ کا شکار ہوکر انتقال کرجاتے ہیں۔
نمونیا کا علاج موجود ہے۔اینٹی بائیوٹک ادویات کے ذریعے سے اسے کنٹرول کیا جاتاہے۔لیکن اگر بچے کی صحت کی حالت تسلی بخش نا ہو اس کو ہسپتال داخل کرلیا جاتا ہے۔اینٹی بائیوٹک ادویات کے ساتھ کھانسی اور بخار کم کرنے کی دوائیاں بھی دی جاتی ہیں۔ادویات کے ساتھ اس کی غذا جاری رکھی جاتی ہے اور اگر بچہ شیر خوار ہے تو ماں کا دودھ اسے وقفے وقفے سے دیا جائے۔ماں کا دودھ بچے کو بیماریوں سے لڑنے کی قوت فراہم کرتا ہے۔بچہ اگر چھ ماہ سے اوپر ہو تو اس کو سوپ یا یخنی،شہد یا کم پتی والی چائے دی جائے یہ بھی بچے کے گلے کو سکون پہنچاتی ہے۔
بچے کی پیدائش کے ساتھ ہی اگر اس کے حفاظتی ٹیکوں کا کورس شروع کروالیا جائے تو یہ بچے کو نمونیا اور اس طرح کی دیگر بیماریوں سے محفوظ رکھنے میں معاون ہے۔اس کے ساتھ ماں بچے کے کام کرتے ہوئے ہاتھ ضرور دھوئے اس سے بھی نمونیا کے امکان کو بہت حد تک کم کیا جاسکتا ہے۔ماں کا دودھ کم از چھ ماہ تک ہر بچے کا حق ہے اور ماں کا دودھ نمونیا بیماری کے امکان کو کم کرتا ہے۔
اس کے ساتھ بچے کے اردگرد ماحول کو صاف ہونا چاہیے ۔والدین بچے کے قریب تمباکو نوشی سے پرہیز کریں۔بچے کے قریب جانور نہیں ہونے چاہیں۔ماں بچے کی چھاتی کا خود بھی معائنہ کرسکتی ہے جس وقت بچہ سو رہا ہو۔اگر بچے کی سانسیں تیز ہوں تو اس کو فوری طور پر ڈاکٹر کو دیکھا جائے۔
نمونیا بیماری میں 65 سے اوپر کے لوگ بھی مبتلا ہوتے ہیں خطرے کی زد میں زیادہ وہ آتے ہیں جو فالج ،کینسر،شوگر ،سیربل پالسی اور ایڈز کا شکار ہوں۔اس کے ساتھ تمباکو نوشی،شراب نوشی اور منشیات کا استعمال کرنے والے افراد بھی بڑھاپے میں اس کا شکار ہوجاتے ہیں۔ایک اندازے کے مطابق دنیا بھر میں ہر سال 5 لاکھ عمر رسیدہ افراد اس مرض کی وجہ سے جانبر نہیں ہو پاتے۔ اگر ضعیف افراد میں یہ علامات دیکھیں کہ دیکھیں کہ وہ کنفیوژن کا شکار ہے ، ان کا بلڈ پریشر گر رہا ہے،سانسیں بے ترتیب ہیں،بخار اور کھانسی ہے انہیں فوری طور پر ہسپتال شفٹ کریں۔
اگر اس کے علاج پر فوری توجہ نا دی جائے تو جراثیم خون میں پھیل سکتے ہیں ۔جس کی وجہ سے دوسرے اعضاء بھی متاثر ہوجاتے ہیں۔اس لئے بروقت علاج سے قیمتی زندگیاں بچائی جاسکتی ہیں۔اس کے ساتھ مریض کو مکمل آرام کروایا جائے ،بہت سارا پانی،سوپ اور یخنی دی جائے۔ادویات کو وقت پر دیا جائے اور مریض کو کورس مکمل کروایا جائے۔ہر عام انسان کو اس بیماری سے بچنے کے لئے ویکسین لگوانی چاہیے۔
جویریہ صدیق صحافی،مصنفہ اور فوٹوگرافر ہیں۔ان کی کتاب سانحہ آرمی پبلک سکول شہدا کی یادداشتں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔ ان کا ٹویٹر اکاونٹ @javerias ہے ۔
... جویریہ صدیق ۔۔۔۔ زلزلے زیر زمین ٹیکٹونک پیلٹس میں حرکت کی وجہ سے آتے ہیں۔ہماری زمین کی بالائی پرت مختلف پلیٹس پر کھڑی ہے۔زیر زمین میگما یعنی پگھلے ہوئے مادے سے ان پلیٹس میں حرکت ہوتی ہے اور ان پلیٹوں پر قائم ممالک میں زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے جاتے ہیں۔جس جگہ زلزلے کا اثر فوری طور پر ہوتا ہے وہ زلزلے کا مرکز ہوتی ہے۔یہاں سے ہی لہریں دیگر مقامات تک جاتی ہیں۔
پاکستان دو ہزار پانچ میں بدترین زلزلے کا شکار ہوا سات اعشاریہ چھ کی شدت سے آنے والے زلزلے سے کشمیر میں ہولناک تباہی آئی۔۷۵ ہزار سے افراد اس زلزلے میں ہلاک ہوئے اور ایک لاکھ سے زائد زخمی۔اس کے بعد اکتوبر دو ہزار پندرہ میں ایک بار پھر سات اعشاریہ پانچ کا زلزلہ آیا جس کی شدت نے پاکستانیوں کو دو ہزار پانچ کی یاد دلا دی۔اس زلزلے کا مرکز افغانستان میں کوہ ہندہ کش کا پہاڑی سلسلہ تھا۔
محمکہ موسمیات کے مطابق کسی بھی بڑے زلزلے کے بعد آفٹرشاکس ضرور آتے ہیں۔اس کے بعد کم شدت کے زلزلے کے جھٹکے محسوس کئے گئے۔تاہم پچس دسمبر کو ایک بار پھر کوہ ہندوکش کے سلسلے سے زلزلے کے جھٹکے پاکستان تک محسوس کئے گئے اس کا شدت چھ اعشاریہ تین تھی اور اس تحریر کو مکمل کرتے ہوئے پاکستان میں ایک اور زلزلہ محسوس کیا گیا جس کی شدت پانچ اعشاریہ نو ہے۔
اس تمام صورتحال میں جب کوہ ہندوکش میں ٹیکٹونک پلیٹس متحرک ہوں تو فالٹ لائین پر قائم ممالک کے افراد کو زلزلے سے حفاظت کے لئے کچھ احتیاطی تدابیر ضرور کرنی چاہیے۔زلزلوں کی پشین گوئی تو نہیں کی جاسکتی لیکن ماہرین کسی بھی ارضیاتی تبدیلیوں سے یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ مزید زلزلے آسکتے ہیں۔لیکن کب کس وقت اور کہاں یہ نہیں بتایا جاسکتا۔
کچھ احتیاطی تدابیر اپنا کر ہم زلزلے میں خود کو محفوظ رکھ سکتے ہیں۔قبل از وقت یہ اقدام کرلیں گھر کہ ایک حصے میں جو داخلی دورازے سے قریب ہو ایک بیگ میں فرسٹ ایڈ کٹ،پانی،نقدی،صابن اور خشک راشن رکھ لیں۔اس کے ساتھ ٹارچ،چارج بیٹری بھی رکھیں۔اگر زلزلے کی شدت سے آپ کو گھر سے باہر جانا پڑے تو اس بیگ کو لازمی ساتھ رکھیں ۔اپنے پرس میں اپنا شناختی کارڈ ، فون،اے ٹی ایم اورضروری نمبر ساتھ لکھ کر رکھ لیں۔
گھر میں تمام اشیاء جیسے ٹی وی ، فریج ،الماریوں ،فریمز اور فانوس وغیرہ کو اچھی طرح دیوار کے ساتھ فکس کروائیں تاکہ دوران زلزلہ یہ آپ نا گر جائیں۔تمام طرح کے ایسڈ جو فرش یا باتھ رومز کی صفائی میں کام آتے ہیں انہیں الماری کے سب سے نچلے خانے میں رکھیں۔تاکہ دوران زلزلہ یہ آپ پر نا گریں اور آگ لگنے کا سبب نا بن جائیں ۔
جیسے ہی زلزلے جھٹکے محسوس ہو تو چولھا یا ہیٹر فوری طور پر بند کردیں اور خود کو الماری فریج شیشے اور تصاویری فریم سے دور کرلیں۔اگر پاس کوئی میز یا سیڑھی ہے تو اس کے نیچے سر جھکا کر ہاتھ اس پر رکھ کر بیٹھ جائیں۔جب زلزلے کی شدت میں کمی ہو تو فوری تو پر عمارت سے نکل کر باہر آجائیں اگر گھر میں کوئی پالتو جانور ہے تو اس کو بھی ساتھ لِے کر نکلیں۔لیکن دیگر لوگوں سے اس کا فاصلہ رکھیں۔ کسی درخت، بورڈ یا کھمبے کے نیچے ہرگز نا کھڑے ہوں۔ اگر گھر میں کوئی دراڑ دیکھیں یا زلزلے کی شدت سے گھر یا عمارت کو کوئی نقصان بھی پہنچے تو فوری طور پر مقامی انتظامیہ کو اطلاع دیں۔اس جگہ کو خالی کردیں۔
اگر سوتے ہوِئے زلزلہ محسوس ہو تو فوری طور پر سر کو تکیے سے ڈھانپ لیں۔جب تک جھٹکے رک نا جائیں چلنے بھاگنے سے پرہیز کریں۔اگر بجلی چلی جائے تو فون کی لائٹ یا ٹارچ کی مدد سےبا ہر جانے کا راستہ اختیار کریں۔اگر آپ کے ارداگرد بزرگ اور معذورافراد ہوں تو ان کی مدد کریں کیونکہ وہ اپنے مدد آپ کے تحت باہر نہیں جاسکتے۔
اگر آپ گاڑی چلا رہے ہوں اور زلزلہ آجائے تو فوری طور پر گاڑی روکیں اور اس سے نیچے اتر جائیں۔شور مچانے سے پرہیز کریں ۔زمین پر بیٹھ جائیں اور سر نیچا کرلیں ۔بجلی کے کھمبوں سے دور رہیں۔دوران زلزلہ فلائی اور،انڈر پاس اور پل کراس کرنے سے پرہیز کریں۔زلزلہ ختم ہونے تک انتظار کریں۔اگر آپ سمندر کے قریب ہیں اور زلزلہ آجائےتو فوری طور پراونچی جگہ پرچڑھ جائیں تاکہ سونامی سےبچ سکیں۔
دوران زلزلہ اگر آپ کسی عمارت میں ہیں تو ہرگز بھی لفٹ کا استعمال نا کریں۔ہمیشہ سیڑھی سے نیچے آئیں۔اگر آپ زلزلےکے دوران کسی مال ، سیینما یا اسٹیڈیم میں موجود ہیں تو وہاں پر بیٹھ جائیں اور سر کو نیچے کر لیں ،یکدم مرکزی دروازے کی طرف جانے گریز کریں کیونکہ اس طرح آپ بھگدڑ میں پھنس سکتے ہیں۔
زلزلے کے دوران افواہوں پر یقین نا کریں نا ہی ان باتوں کو آگے پھیلائیں ۔اگر ٹی وی قریب نا ہو تو فون یا گاڑی میں ریڈیو آن کرکے حالات حاضرہ سے باخبر رہیں۔
زلزلہ ختم ہوجانے کے بعد اپنا جائزہ لیں اپنے ارداگرد لوگوں کو دیکھیں اگر کوئی زخمی ہے تو اس کو ابتدائی طبی امداد دیں اور ہسپتال منتقل کریں۔گھر یا دفتر میں چیک کریں کہ کوئی بجلی یا گیس پوائنٹ خراب تو نہیں ہوگیا۔ماچس جلانے سے پرہیز کریں۔کہیں پر پانی گیس کی لیکیج ہو تو متعلقہ محکمہ کے ایمرجنسی نمبر پر کال کریں۔ٹوٹے ہوئے کانچ اور کھڑکیوں سے دور رہیں۔ان کو رپیئر کرنے کے لیے ماہر کو بلوایں۔
یہاں پر حکومت کا بھی فرض بنتا ہے وہ عوام الناس میں ان احتیاطی تدابیر کو عام کرے۔اس کے ساتھ انتظامیہ یہ دیکھے کہ سرکاری عمارت ،پل فلائی اور، سکولز اور ہسپتال کی تعمیر زلزلہ پروف کی جائے۔اسکے ساتھ ریلیف اور ریسکیو کے اداروں کو فعال کیا جائے تاکہ کسی بھی ناگہانی صورتحال میں فوری طور پر عوام کی مدد کی جائے۔
اس کے ساتھ سرکاری سطح پر ہر ضلع میں طلباء اور طالبات کو ابتدائی طبی امداد اور قدرتی آفات میں اپنا تحفظ یقینی بنانے کے لئے ٹرینگ کروائی جائے۔تاکہ وہ اپنے اپنے علاقے میں لوگوں کی مدد کرسکیں۔سکول میں استاتذہ اور طالب علموں کی ٹرینگ کی جائےتاکہ وہ کسی بھی صورتحال کا سامنا کرسکیں۔ایسا مواد چھاپ کر عوام میں تقسیم کیا جائے جس کو پڑھ کر لوگ اپنی حفاظت کو یقینی بنا سکیں۔چونکہ بہت سےلوگ ناخواندگی کی وجہ سے پڑھ نہیں سکتے ان کے لئے ریڈیو ٹیلی ویژن پر معلوماتی پیغام نشر کئے جائیں۔
جویریہ صدیق اسلام آباد سے تعلق رکھنے والی صحافی،مصنفہ اور فوٹوگرافر ہیں۔ان کی کتاب سانحہ آرمی پبلک سکول شہدا کی یادداشتں حال ہی میں شائع ہوئی ہے۔
@javerias ان کا ٹویئٹر اکاونٹ ہے
۔۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔ قومی پریس و میڈیا کی اطلاعات کےمطابق 4 جنوری کو سندھ اسمبلی کی پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے سامنے آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ کا جائزہ لیا گیا تو کمیٹی کے تمام ارکان انگشت بدنداں رہ گئے کہ 2010 سے 2013 کے دوران سندھ پولیس نظام کی تبدیلی کی آڑ میں محکمے کے مالیاتی معاملات میں 2 ارب 87 کروڑ روپے کا خطیر گھپلا پایا گیا ہے ہرسال بجٹ میں خسارہ دکھانے والے اس صوبے کے مالیات کی یہ وہ ہوشرباء رقم ہے جو کہ مختلف ناجائز طریقوں سے ہڑپ کرلی گئی جبکہ سندھ پولیس 99 کروڑ روپے کا تو جھوٹا سچا کوئی حساب تک نہ پیش کرسکی ،،، اس شرمناک کارکردگی کے بعد یہ کیسے کہاجاسکتا ہے کہ عوام کے جان و مال محفوظ ہاتھوں میں ہیں جبکہ اسکی محافظ یعنی پولیس کے اہم منصبداروں نے تو خود اپنے ہی محکمے میں ڈاکا ڈالدیا ہے- یہ سپوت باہر کے چوروں کو کیا خاک پکڑیں گے کہ جب انہیں خود اپنے محکمے ہی میں ڈاکا زنی سے فرصت نہیں ہے،،، اور ڈاکا بھی ایسا کہ اربوں روپے کا ،،، جوکہ کوئی گھاگ سے گھاگ ڈاکوؤں کا گروہ بھی کبھی نہیں مارسکتا ،،، بلکہ لگتا یوں ہے کہ اب وہ بھی اپنی پیشہ ورانہ مہارت کو باکمال کرنے کیلیئے سندھ پولیس سے رابطہ کرنے پہ مجبور ہونگے
تفنن برطرف ، یہ سفاکانہ و کثیر خورد برد اس حقیقت کے تناظر میں اور بھی افسوسناک ہوجاتی ہے کہ یہ اس غریب و مفلوک الحال قوم کی پولیس کے کرتوت ہیں کے جسکا بال بال قرضے میں جکڑا ہوا ہے اور جسکے ہر فرد پہ ایک لاکھ روپے کے لگ بھگ غیرملکی قرضہ چڑھا ہوا ہے ،،،، لیکن یہاں ایک بات اور اہم ہے کہ جسے میں بیان کیئے بغیر نہیں رہ سکتا اور وہ یہ کہ یہ جو تین ارب روپے کے لگ بھگ خطیر رقم ہڑپ کی گئی ہے یہ پولیس کے سارے محکمے نے ملکر نہیں کھائی ہے، اور اس سے عام پولیس اہلکار کا کوئی لینا دینا نہیں کیونکہ یہ حضرات تو بے اختیار ہوتے ہیں اور بڑے فیصلوں اور اقدامات کی تاب نہیں رکھتے یہ تو صرف چند بڑے بڑے افسران نے ڈکاری ہے کیونکہ انکے ہاتھ پکڑنے والا بظاہر کوئی نہیں ،،، لیکن یہاں اربوں کے غبن ہورہے ہیں اور وہاں عام پولیس اہلکار کی ابتر معاشی حیثیت کی خبر لینے والا کوئی نہیں حالانکہ ہر طرح کے خطرناک معاملات و حالات میں یہی لوگ سامنے ہوتےہیں اور آئے دن اپنی جانوں سے ہاتھ دھوتے رہتےہیں جبکہ انکے افسران میں سے کئیوں نے تو اپنے دفتر سے ملحق کمروں میں راحت کدے سجارکھے ہیں اور یہ لوگ اپنے ان آرام دہ شبستانوں سے نکل کر عام عوام میں جانے اور امن و امان کے مسائل سے آگاہ ہونے کی زحمت یہ کبھی شاز ہی کرتے ہیں
سندھ پولیس کے عام اہلکار کا یہ حال ہے کہ وہ اب بھی ایک باعزت زندگی گزارنے کے لائق نہیں بنایا گیا ہے اور اسکے اہلخانہ اب بھی مناسب علاج معالجے کی سہولتوں سے محروم ہیں اور وہ کسی بہتر نجی ہسپتال میں علاج کرنے کی سکت نہیں رکھتے اسی طرح انکے بال بچوں کیلیئے تعلیمی سہولیات کا بھی کوئی خاطر خواہ انتظام نہیں کیا گیا ہے حالانکہ جب سنہ 2002 میں 1861 سے چلتے آرہے پرانے پولیس ایکٹ کو ختم کرکے نیا پولیس ریفارمز ایکٹ نافذ کیا گیا تھا تو اس میں قانونی ، تربیتی ، سماجی اور معاشی غرض ہر حوالے سے پولیس اہلکاران کی بہتری کے لیئے متعدد منصوبوں کا اعلان کیا گیا تھا لیکن تاحال ان میں سے بیشتر منصوبے صرف کاغذوں ہی پہ موجود ہیں اور عملاً انکا کوئی وجود نہیں ،،، بدحالی و ابتری کی اس صورت کو برقرار رکھنے بلکہ گھمبیر سے گھمبیر تر کردینے میں انکے بیشتر رعونت زدہ افسران نے بھرپور کردار ادا کیا ہے کیونکہ ان میں سے زیادہ تر تو نچلے درجے کے اہلکاروں کو شاید اپنے جیسا انسان سمجھنے ہی کو تیار نہیں ہیں اور زندگی کی ہر راحت پہ صرف اپنا اور اپنے اہلخانہ ہی کا حق سمجھتے ہیں ،، ان افسران میں سے بیشتر کی نجی زندگیوں کا جائزہ لیا جائے تو وہ اپنی تنخواہ کے قطعی غیر مطابق اور نہایت رئیسانہ وسائل کے مالک ہیں اور انتہائی شاہانہ طرززندگی پہ مبنی ہیں اور اکثر کے بچے بیرون ملک نہایت مہنگے تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کررہے ہیں اور خود ان حضرات کے رویئے کسی راجہ مہاراجہ سے کم نہیں ،،،
گو سبھی افسران بدعنوان نہیں لیکن اس مصرفانہ زندگی کے تقاضوں کی وجہ سے سندھ پولیس کے یہ چند افسران نہ صرف ہر جگہ اپنے اختیارات و طاقت کا فائدہ اٹھاکر لوٹ مار میں مشغول رہتےہیں بلکہ انکی ہوس اور لالچ کا یہ عالم ہے کہ اپنے محکمے کو بھی معاف نہیں کرتےاور پولیس کی بہبود کیلیئے مختص کیئے فنڈز کو بھی نہیں چھوڑتے ۔۔۔انکے سامان ، اسلحہ اور راشن تک کی خریداریوں میں گھپلے کرتے ہیں ،،، حتٰی کہ انکی اچھی کارکردگی سے منسلک انکے نقد انعامات و اعزازات کا رخ بھی جبراً اپنی طرف موڑنے میں لگے رہتے ہیں ،،، جس سے عام اہلکاروں کی بہت دلشکنی ہوتی ہے اور وہ کسی شدید خطرے میں پیش پیش رہ کر جامنوں کا نذرانہ دینے سے گریز کرنے لگتے ہیں - اب جبکہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ نے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی کردیا ہے اور پولیس افسران کی یہ شرمناک کارکردگی و بدعنوانی بے نقاب کردی ہے تو اب گیند حکومت کے کورٹ میں ہے ،،، یہ پہلی بار نہیں ہے کہ سندھ پولیس کی بدعنوانیاں سامنے آئی ہوں لیکن ہوتا یہ رہا ہے کہ مختلف طریقوں سے ان پہ پردے ڈالے جاتے رہے ہیں ۔۔۔ لیکن اب وہ پہلے جیسا دور نہیں ۔۔۔ اب میڈیا آزاد ہے اور عوام بھی کافی حد تک باخبر و بیدار ہوچکے ہیں لہٰذا اب حکومت تین ارب روپے ڈکارجانے والے افسران میں سے کسی کو بھی قطعی معاف نہ کرے اور کڑی تحقیقت کے نتیجے میں جو جو بھی اس خرد برد کے ذمہ دار پائے جائیں انہیں بلا کسی ہچکچاہٹ و تذبذب کے، نشان عبرت بنادیا جائے ،،، اسی میں سندھ پولیس کی بھی بہتری ہے اور اور اس قوم کی بھی کہ جو اپنا پیٹ کاٹ کاٹ کر ان اداروں کے بھاری اخراجات برداشت کرتی ہے
... فاضل جمیلی....اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں سزا کاٹنے کے بعد فاسٹ بالر محمدعامر کی قومی ٹیم میں واپسی ہوئی ہے۔انہیں ون ڈے اور ٹی 20دونوں ٹیم کا حصہ بنایا گیا ہے۔ون ڈے ٹیم کےکپتان اظہرعلی ہیں جنہوں نے محمد عامر کی ٹیم میں واپسی کی مخالفت کی تھی جبکہ ٹی 20کے کپتان شاہد آفریدی ہیں جو محمد عامر کی واپسی کے حق میں تھے۔شاہد آفریدی نے عمراکمل کے ’’حیدرآباداسکینڈل‘‘ کے باوجود انہیں ٹیم کا حصہ بنانے کی وکالت کی تھی جبکہ اظہرعلی کےساتھ محمد حفیظ بھی محمد عامر کو ٹیم میں واپس لینے کے خلاف تھے۔ان دونوں کھلاڑیوں نے محمد عامر کی موجودگی میں ٹریننگ کیمپ میں شرکت سے بھی انکار کر دیا تھا لیکن چیئرمین کرکٹ بورڈ شہریار خان نے دونوں کو اپنا موقف تبدیل کرنے پر مجبور کردیا۔
واقفانِ حال کا خیال ہے کہ کچھ اور کھلاڑیوں کے خیالات بھی اظہرعلی اور محمد حفیظ کے ساتھ ملتے جلتے تھے لیکن ان کے ناموں کے ساتھ پردہ نشینی کا ٹیگ لگا کر سینوں میں دبا دیا گیا ۔اب وہ سینہ بہ سینہ ہی سامنے آئیں گے۔ایک ملاکھڑا البتہ ’’جیوسوپر‘‘ کے پروگرام میں سینہ تان کر ہوا۔آمنے سامنے دو پہلوان نہیں بلکہ انتہائی دھیمے مزاج کے دو سابق کپتان رمیز راجہ اور محمد یوسف تھےجو محمد عامر کی ٹیم میں واپسی کے سوال پر آپس میں لڑپڑے تھے۔محمد یوسف نے رمیزراجہ کو ناکام کھلاڑی کا طعنہ دیا اور رمیز راجہ نے محمد یوسف کو جعلی مولوی قراردیا۔یوسف نے کہا کہ رمیز کو انگریزی آتی، کرکٹ نہیں آتی۔رمیز کا جواب تھاکہ یوسف کو تواُردو تک نہیں آتی۔
اس سارے قضیے میں البتہ ٹیسٹ ٹیم کے کپتان مصباح الحق کا بیان زیادہ اہمیت کا حامل ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ یہ ٹھیک ہے کہ محمد عامر نے اپنی سزا پوری کر لی ہےلیکن ٹیم میں ان کی واپسی ایک ایسا سوالیہ نشان ہے جس کا کرکٹ بورڈ اور ٹیم مینجمنٹ کو ابھی اندازہ نہیں ہے۔مصباح الحق کے اس بیان کر ذرا کھول کر دیکھا جائے تو اس بات کا خدشہ موجود ہے کہ محمد عامر جب میدان میں اُتریں گے تو یقینی طور پر تماشائیوں کی جانب سے ان پر آوازے کسے جائیں گے۔اگر وہ مخالف کھلاڑیوں کو آئوٹ کریں گے تو مخالف ٹیم بھی انہیں دبائو میں لانے کے لیے ان پر جملے بازی کر سکتی ہے۔کپتان کو بھی تندوتیز سوالات کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔اس صورتحال میں نہ صرف محمد عامر خود پریشر میں آئیں گے بلکہ پوری ٹیم بھی دبائو میں آسکتی ہے۔
اگرچہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے محمد عامر یا کسی بھی دوسرے کھلاڑی کی مستقبل میں مخالفت کا راستہ روکنے کے لیے قومی کیمپ میں موجود تمام کھلاڑیوں سے ایک معاہدے پر دستخط کروا لیے ہیںلیکن جن خدشات کااظہار مصباح الحق نے کیا ہے ان پر غور کرنا بھی ضروری ہے۔میچ فکسلنگ کے الزام میں تاحیات پابندی کا سامنا کرنے والے اسٹار بیٹسمین سلیم ملک بھی’’اُمیدسے ہیں‘‘ کہ انہیں بھی ایک بار پھرکرکٹ کو روزی روٹی کا ذریعہ بنانے کی اجازت دے دی جائے۔دیکھنا یہ ہے کہ محمد عامر کے ساتھ کرکٹ بورڈ کی جانب سے جس حسنِ سلوک کا مظاہرہ کیا گیا ہے ، اسی طرح کا برتائو دیگر کھلاڑیوں کے ساتھ کیا جاتا ہے یا نہیں ؟
۔۔۔۔ سید عارف مصطفیٰ ۔۔۔۔۔ بلاشبہ 18 دسمبر کو ایک نہایت عمدہ روایت کا آغاز ہوا کہ جس کا تسلسل اسے عہد ساز بنا سکتا ہے ،،، اس روز چین کے شہر وژہن میں منعقدہ دوسری بین الاقوامی انٹرنیٹ کانفرنس سے صدر مملکت ممنون حسین نے اردو میں خطاب کرکے قومی تاریخ کے فخر کے قابل مواقع میں ایک اہم اضافہ کیا کیونکہ ایک اہم عالمی کانفرنس میں پاکستان کے کسی سربراہ کی جانب سے قومی زبان میں خطاب کا ایسا نادر اقدام پہلی بار اٹھایا گیا تھا ،،، اس قدم سے بلاشبہ جہاں ایک طرف پاکستانی قوم کا سر فخر سے بلند ہوا تو دوسری طرف اپنے کلچر اور زبان کے حوالے سے اسکی خود اعتمادی میں اضافہ ہوا ،،، صدر کے اس قابل ستائش اقدام پہ قوم بجاطور پہ انکی ممنون ہے ۔۔۔ لیکن مجھے کہنے دیجیئے کہ نہایت قابل تعریف ہونے کے باوجود یہ اقدام کافی ہرگز نہیں ، اصل ضرورت تو ملک کے ہرشعبے میں اور ہر سطح پہ اپنی قومی زبان کو سرکاری زبان کا مقام دینے کی ہے،، میں صدر کے اس تاریخی خطاب کے بعد 2 ہفتے سے منتظر ہوں کہ وہ قومی زبان سے اپنی دوستی کے اس اقدام کے بعد ملک میں اردو کو اسکا جائز مقام دلانے کیلیئے اور اسے ملک کی سرکاری زبان کے طور پہ نافذ کرنے کیلیئے اپنے منصب کا کوئی اختیار یا اسکا کوئی وزن استعمال کرتے ہیں یا نہیں لیکن ہنوز اس سمت کوئی پیشرفت دیکھنے میں نہیں آئی
جہاں تک اپنی قومی زبان میں خطاب والے عمل کی بات ہے تو دو سو سے زائد ممالک کی عالمی براردی کے بیشتر ارکان کیلیئے تو یہ قطعی حیران کن بات نہیں ،،، درحقیقت یہ طرز عمل تو ان اکثر ممالک کا معمول ہے اور وہ اپنے سارے ملکی و غیرملکی امور کی انجام دہی میں اپنی قومی زبان ہی کو ترجیح دیتے ہیں ،،، جبکہ یہاں وطن عزیز میں صورتحال یہ ہے کہ آزادی کے بعد اب جبکہ ساتویں دہائی بھی ختم ہونے کو ہے قومی زبان کو سرکاری زبان قرار دینے کی بیل ابھی تک منڈھے نہیں چڑھ سکی ہے ،،، اس مایوس کن کیفیت میں ابھی 8 ستمبر کو جسٹس جود خواجہ کی سربراہی میں دیا گیا سپریم کورٹ کا تاریخی فیصلہ مژدہ جانفزاء بنکے سامنے آیا ہے کہ جس میں حکومت کو پابند کیا گیا ہے کہ وہ آئین کی مزید خلاف ورزی نہ کرے اور اس اہم آئینی تقاضے کی تکمیل کو یقینی بنائے اور تین مہینے میں تمام ملک میں اردو کو سرکاری زبان کے طور پہ رائج اور نافذ کردے ،،،، گویا عدالت عظمیٰ نے گو بہت تاخیر سے ہی سہی لیکن اب جبکہ اپنے حصے کا کام کر ہی دیا ہے تو اب گیند حکومتی کورٹ میں ہے ،،، لیکن حددرجہ افسوسناک امر یہ ہے کہ اب جبکہ نفاذ اردو کی عدالتی مہلت کی مدت ختم ہوئے بھی دو ہفتے ہوچلے ہیں ۔ حکومت نے تا حال اس حوالے سے کوئی بھی قابل ذکر پیشرفت نہیں کی ہے
سپریم کورٹ ملک کا سب سے بڑا آئینی عدالتی ادارہ ہے اور اسکے فیصلوں کو ملک کے قانونی نظام میں جو اہمیت دی جانی چاہیئے اسکی ضرورت سے ہر عاقل و بالغ واقف ہے وگرنہ لاقانونیت کا چلن تو ہر آئین اور ادارے کو فنا کرڈالتا ہے اور اس سے نراجیت اور طوائف الملوکی جنم لیتے ہیں ،،،، اردو کے نفاذ کے حوالے سے سپریم کورٹ کے 8 ستمبر کے تاریخی فیصلے پہ وفاقی حکومت جس طرح کان لپیٹے بیٹھی ہے اور کمیٹی کمیٹی کھیلنے کے سوا کچھ کرتی دکھائی نہیں دے رہی ، اس سے ایسی ہی لاقانونیت پسندی کا تاثر ملتا ہے اور لگتا یوں ہے کہ غافل حکمران طاقتور نوکر شاہی اور بےلگام اشرافیہ یہ نہیں چاہتے کہ انگریزی کا تسلط کبھی ختم ہو جو کہ یہاں طبقاتی نظام کا سب سے بڑا محافظ ہے اور یہ بات انکے لییئے کسی سخت ڈراؤنے خواب کی مانند ہے کہ گاؤں دیہات کے گورنمنٹ اسکولوں کے طالبعلم کبھی گرامر اسکولوں کے طلباء کے مقابل یا برابر آسکیں - سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد تو ہونا یہ چاہیئے تھا کہ ہر سطح پہ اردو کو سرکاری زبان کے طور پہ نافذ کردیا جاتا اور مقابلے کے یہ جو امتحانات فروری میں منعقد ہورہے ہیں ان میں بھی اردو کو امتحانی زبان کا درجہ دیدیا جاتا ،،، لیکن عملاً کچھ بھی نہ کیا گیا
اس میں کوئی شک نہیں کہ حکومتی عمال اور اشرافیہ دونوں کسی صورت اردو کو سرکاری زبان کے طور پہ نافذ ہوتے دیکھنا نہیں چاہتے اور نہایت لاپرواہی بلکہ سفاکی سے اس تاریخی فیصلے کو فراموشی کے اسی کوڑہ دان پہ پھینک دینا چاہتے ہیں کہ جہاں یہ گزشتہ 67 برسوں سے پڑا ہوا تھا اور یوں قومی تاریخ میں طویل و پیہم انتظار کے بعد عدالتی فیصلے کی وجہ سے جو اہم تاریخی موڑ آیا تھا اس پہ عملدرآمد کے سوال کو عملاً ایک مذاق بناکر رکھدیا گیا ہے ،،، وزیراعظم نے اس معاملے میں کہنے کی حد تک ایک پارلیمانی کمیٹی بنا ضرور دی ہے لیکن اسکی کارکردگی نہایت افسوسناک حد تک سست روی کا شکار ہے لیکن وزیراعظم کو اتنی توفیق یا فرصت ہی نہیں کہ وہ اس اہم قومی معاملے کا جائزہ لیں - لہٰذا اس سست روی کو دیکھتے ہوئے بہر صورت یہ صدرمملکت کا فرض بن جاتا ہے کہ اس سلسلے میں اصلاح احوال کیلیئے حکومت کو سخت تنبیہ کریں کیونکہ وہ اپنے حلف کی روشنی میں اس امر کے پابند ہیں کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلوں پہ عملدرآمد کو یقینی بنائیں وگرنہ کہا جاسکتا ہے کہ یہ نظراندازی انکے حلف کی خلاف ورزی بھی ہوگی اور توہین عدالت بھی ۔۔۔
Hardik Pandya might be out of the Indian team across all three formats but that hasn’t affected his brand value in the Indian Premier League (IPL). In fact, if reports are to be believed, his IPL stocks are going to touch new heights as the new Ahmedabad franchise have zeroed in on him to lead their squad in the upcoming edition of the IPL.
View this post on InstagramAccording to a PTI report, the franchise, owned by US-based investor firm CVC Ventures Capital, has finally received its Letter of Intent from the BCCI and they have already approached Hardik and two other seasoned campaigners to form the core of their franchise. Apart from his impressive IPL record, the other factor that convinced the owners to give Hardik the leadership role was his local connection and his brand value in the Indian market.
View this post on Instagram“Yes, Ahmedabad franchise has received their Letter of Intent. However, they have been doing their back-room work for some time as it's a huge process. As far as we know, Hardik has been zeroed in on as the captain of the franchise,” the PTI reported, quoting a senior IPL source. “Hardik with his local connect and being a proven IPL performer for Mumbai Indians for so long was an obvious choice as captain and premier player,” the report added.
View this post on InstagramBesides Hardik, the report also stated that the franchise was in final talks with two other proven IPL stars Rashid Khan and Ishan Kishan to join their unit ahead of the IPL 2022 mega auction, which is likely to be held next month. “The franchise has almost finalised its deal with Afghan spin sensation Rashid Khan and dashing keeper-batter Ishan Kishan as their second and third picks from the draft. As of now, that's what is finalised unless there are changes at the last moment,” the PTI quoted the source as saying.
View this post on InstagramHardik and Rashid have been proven match winners for their previous sides hence one expected that all the hullabaloo would be surrounding their inclusion in the side. But surprisingly not many fans were talking about the two senior players. Instead, they took keen interest in knowing about the signing of Ishan Kishan. It appeared as if all of a sudden Ishan had become the new fan-favourite. The Mumbai Indians supporters launched an earnest appeal on the micro-blogging site urging Ishan Kishan to not ditch them ahead of the mega auction. Ishan ko nhi please! — ꜱᴡᴇᴇᴛ_ꜱᴘᴀʀᴋʟᴇꜱ (@rohitian___45) January 10, 2022It will be good for Ishan's career if he stays with MI. Going to brand new franchise is always risk for any youngsters career. — Tejas Adake (@tejas_adake) January 10, 2022Why Ishan in Nehra Ji's team — Footy Animesh (@AnimeshFooty) January 10, 2022not Ishan pls — Surya (@Surya_One8) January 10, 2022Ishan nahi yr — AB (@alokmishra128) January 10, 2022They should not take Ishan. Otherwise we will ban them off of all the parties at Antilia.! — Jatin.Vats (@vats68) January 10, 2022Ishann — Sriniwas (@viratian_life) January 10, 2022No, not Ishan — Hriday Shah (@HridayShah15) January 10, 2022Wtf ishan too . — G Shashi (@GShashiYadav1) January 10, 2022Please say nooooooóoooooooòoooooooooooooooooooooooooooooooooooo.. We need Ishan Kishan at any cost — Mr. India (@NiteshV13) January 10, 2022If these reports are indeed true, the new franchise has done a terrific job and covered three important facets of the game with these signings. All the three players bring with themselves unique skill sets which cater to multiple needs of the franchise. A fast-bowling all-rounder is a rare commodity in India and if he performs to his potential, it’s safe to say that there is no one better than him in the country.
View this post on InstagramIn addition to his leg-spin, another aspect that Rashid brings to the table is his incredible power-hitting which could come in handy, if need be. Generally, we don’t see a wicket-keeper batting in the top three and that is what sets Ishan apart from the rest. He can open the innings and also perform the role of a finisher lower down the order.
Dallas Mavericks owner Mark Cuban. Image courtesy: Mavs Moneyball via Stephen Dunn/Getty Images
Dallas Mavericks owner Mark Cuban denied a claim by a woman in Oregon that he inappropriately touched her while posing for a photo in 2011.
Authorities did not pursue the claim and cited evidence contradicting the woman's account, which she alleged took place at a Portland nightclub.
Cuban said "it didn't happen" when questioned by The Associated Press about details published in the Willamette Week in Portland, Oregon.
The report comes two weeks after Sports Illustrated (SI) published a story about the workplace environment under Terdema Ussery ? the team's previous CEO ? alleging inappropriate behaviour and sexual misconduct.
Experts are still baffled about the existence of a city in the middle of the sea, over a century after it was first discovered.
The interest in Nan Madol - the space in between - located just off the main island of Pohnpei in Micronesia in the Pacific was reignited due to satellite images of the region which allow for better observation.
The uninhabited city lies 2,500 miles from Los Angeles and is approximately 1,500 miles from Australia.
Early explorers termed the Island to be the eighth wonder of the world, owing to the 97 geometrically shaped structures separated by narrow water channels.
You can explore Nan Madol using the google maps here.
According to the atlas obscura:
"The complex of Nan Madol is constructed on a series of artificial islets in the shallow water next to the eastern shore of the Pohnpei island. The site encloses an area approximately 1.5 km long by 0.5 km wide and it contains nearly 100 artificial islets.
Nan Madol seems to have housed the ruling elite caste of Saudeleur dynasty. It was a political and ceremonial seat of power. As a means of control of their subjects, Saudeleur dynasty had succeeded in uniting the clans of Pohnpei. The rulers forced local chieftains to leave their home villages and move to the city where their activities could be more closely observed.
Most of the islets served as a residential area, however, some of them served a special purpose, such as food preparation, coconut oil production or canoe construction. Madol Powe, the mortuary sector, contains 58 islets in the northeastern area of Nan Madol. The centrepiece of the whole complex is the royal mortuary at the islet of Nandauwas, with its 7.5m high walls surrounding the central tomb enclosure.
The population of Nan Madol was probably more than 1000 at a time when the whole population of Pohnpei barely reached 25,000. There are no sources of fresh water or possibilities to grow food on Nan Madol so all supplies had to be brought in from the mainland. The population of the city probably included a large number of commoner servants."