یہ لمحے عشق و مستی کے سدا پابند نہیں رہتے
سدا خوشیاں نہیں رہتی ہمیشہ غم نہیں رہتے
ذرا دیکھو کہ دروازے پہ دستک کون دیتا ہے
محبت ہو تو کہہ دینا یہاں اب ہم نہیں رہتے
ہم دشتِ جنوں کے سودائی۔۔۔ ۔۔۔ ۔
ہم گردِ سفر، ہم نقشِ قدم۔۔
ہم سوزِطلب، ہم طرزِ فغاں---
ہم رنج چمن، ہم فصل خزاں ۔۔۔
ہم حیرت و حسرت و یاس و الم---
ہم دشت جنوں کے سودائی
یہ دشتِ جنوں، یہ پاگل پن ۔۔
یہ پیچھا کرتی رسوائی---
یہ رنج و الم، یہ حزن و ملال۔۔۔
یہ نالہء شب، یہ سوزِ کمال---
دل میں کہیں بے نام چبھن۔۔
اور حدِ نظر تک تنہائی
ہم دشتِ جنوں کے سودائی---
اب جان ہماری چُھوٹے بھی۔۔
یہ دشتِ جنوں ہی تھک جائے --
جو روح و بدن کا رشتہ تھا۔۔
کئی سال ہوئے وہ ٹوٹ گیا --
اب دل کا دھڑکنا رک جائے۔۔
اب سانس کی ڈوری ٹوٹے بھی --
ہم دشتِ جنوں کے سودائی۔۔۔
...........
کیا عجب کھیل ترے ، گردشِ دوراں دیکھے
کچے دھاگوں کی طرح ٹوٹتے پیماں دیکھے
تھا جنہیں زعم کہ مضبوط ہیں پربت کی طرح
ٹوٹ کر ایسے بکھرتے یہاں انساں دیکھے
سر میں سودا تھا، بہت مال و گہر رکھتے ہیں
وقت بدلا تو ۔۔۔۔ وہی بے سر و ساماں دیکھے
پھر زمیں تنگ ہوئی پھر ہوئی گردش میں حیات
تیرے تیور جو بدلتے ۔۔۔۔۔۔۔ مرے جاناں دیکھے
تو اگر میرا نہیں ۔۔۔۔۔۔۔ خود کو ترے نام کروں
حدِ امکاں سے پرے ۔۔۔۔۔ اور ہی امکاں دیکھے
تم کو پا لیتے ۔۔۔۔۔۔ مگر راہ تھی دشوار بہت
راستے جو بھی چنے ہم نے، وہ آساں دیکھے
ہم کو تھے زہرِ ہلاہل ۔۔۔۔۔۔ سبھی تریاق یہاں
درد کو حد سے بڑھاتے ہوئے درماں دیکھے
خواب کچھ ایسے بُنے ، ترسے جو تعبیروں کو
گیت کچھ لکھے ، سو بِکتے یہاں ارزاں دیکھے
تُم کو بھی خبر ھوگی
آنسوؤں کی جھیلوں کے سُرمئی کناروں پر
نیند کے پرندوں کی ڈار آ نہیں سکتی !
ھجر کی مُسافت میں پاؤں ٹوٹ جائیں تو
وصل کے دیاروں کو خواب بھی نہیں جاتے
دل میں نارسائی کا
شور گُونجتا ھو تو جلتی بُجھتی
آنکھوں سے کون خواب دیکھے گا!
تم کو بھی خبر ھوگی
وصل کی تمنا جب
تیرگی میں سوتی ھے
آنکھ جاگ جاتی ھے!
خواب رنگ کچے ھیں
آنکھ بہنے لگتی ھے، رنگ دُھلنے لگتے ھیں
خواب اور اُمیدیں
ساتھ چھوڑ جائیں تو زندگی نہیں چلتی
تُم کو بھی خبر ھوگی
تُم کو ھم بتائیں کیا !!
آہ۔۔۔۔۔یہ زندگی۔۔۔!! زندگی بہت سے رنگوں سے واقف کرواتی ہے کبھی شعلہ بن کر جلا دیتی ہے تو کبھی شبنم سی نرمی اور ٹھنڈک دیتی ہے تو کبھی شفاف صبح کی طرح روشن روشن ہو کر امید کے دروازے وا کرتی ہے..... جب بھی خوشگوار موڈ میں ہوں تو انسان کو جھومنے پر مجبور کرے گی جب اداس ہوں تو رگ وپے میں درد بھردے گی.... اس طرح کے اداسی اور سرور کے کھیل میں کون کس کو کیا دے رہا انسان زندگی کو کہ زندگی انسان کو... کون لے رہا کون دے رہا...نہ دینے والے کا پتہ نہ لینے والے کا.....بس دونوں ہی گمنام راہ کے اجنبی مسافر کی طرح ایک دوسرے کو متعارف کرواتے گزر رہے ہیں.....کوئی کسی کو منزل نہیں دکھاتا ہے ہر ایک بس تلاش ِ منزل ہے اور راہیگزر کے ساتھی....انسان زندگی کو متاع سمجھے ہوئے زندگی انسان کو....دونوں ایک دوسرے کی دسترس سے آزاد بھی ہے مقید بھی یہ ہے تو وہ نہیں وہ ہے تو یہ نہیں دونوں ایک دوسرے کو لازم وملزوم ہے.......!!!! کب تک ساتھ ہیں....اور کب سے...کوئی نہیں جانتا میں اپنی گاڑی میں سوار روڈ پر تیز دوڑتی کار کے ساتھ میرے تخیل کی پرواز تھی اور شفاف سڑک ایک اسپیڈ بریکر کا جھٹکا اور جیسے ہوش آیا تو سامنے بڑا سی لاری ہے اگر سائیڈ میں کوئی اور گاڑی ہوتی اور سائیڈ لینے جگہ نہ ہوتی تووووووو۔۔۔۔
ساری زندگی کا فلسفہ سمجھ آگیا کہ ۔۔۔اس ڈو اینڈ ٹیک میں صرف ایک جھٹکے کا فاصلہ ہے۔۔۔اور کچھ نہیں۔۔۔۔۔۔!!!
دونوں ایک دوسرے کی نازبرداری صرف موت تک کر رہے ہیں جوں ہی موت سر پر کھڑی ہوگی۔۔۔۔۔اور سب ختم۔۔۔۔پس آچانک موت کی بہت یاد ائی اس لئے نہیں کہ زندگی سے مایوس ہوں اس لئے کہ احتساب اج بہت دن بعد کیا خود کا۔۔۔
----💖💖
کُن سے لَا تک کا سفر
کچھ لوگ کنویں کی طرح ہو تے ہیں جن میں سے ہر کوئی استطاعت بھر پانی نکالتا ہے سیراب ہوتا چلا جاتا ہے۔اور پھر وہ دن بھی آتے ہیں کہ کنواں خود پیاسا ہوجا تا ہے مگر پھر بھی مشکیں بھر بھر بانٹتا ہے۔صحرا نوردوں کو پیا سوں کو آوازیں لگاتا ہے آؤ اور پیاس بجھاؤ۔
مگر اس کنویں کا سیراب ہونا لوگوں کے ہاتھوں نہیں اللّٰہ کے ہاتھوں ہوتا ہے۔کبھی باراں رحمت برسا کر تو کبھی زمین کے بند دروازے کھول کر اسے سیراب کر دیا جاتا ہے۔
جو بس دینا جانتے ہیں ،بانٹنا جا نتے ہیں انکو سیراب کر نے والی ذات اوپر والی ہوتی ہے۔
وہ جانتے ہیں کہ پیاس کیا ہو تی ہے، پیاسا رہنا کیسا لگتا ہے ۔۔
اسی لیے تو وہ بے غر ض ہو جاتے ہیں۔اپنی پرواہ کیے بغیراوروں کی پیاس مٹاتے چلے جاتے ہیں ۔لوگ انکے کنارے سستاتے ہیں ڈول بھر بھر پانی نکالتے ہیں اور اسے تنہا چھوڑے چلے جاتے ہیں۔
کنواں بے غرض رہتا ہے۔پھر ایک موسم ایسا بھی آتا ہے وہ سوکھ جاتا ہے پیاس کی شدت سے اور پیاس کی وہ شدت اسے بانٹنا سکھاتی ہے۔
ہر غم ہر خوشی کے پیچھے کوئی نہ کوئی مقصد کو ئی نہ کوئی وجہ ہوتی ہے۔ زندگی پرت در پرت نئے باب کھولتی جاتی ہے نئی آزمائش ،نیا کچوکہ ،نیا درد ،نیا سبق ۔
ہم مصیبت میں مبتلا ہو کر اپنے آپ کو بدنصیب تصور کرتے ہیں مگر اصل خوش نصیب ہی وہی ہوتے ہیں جنہیں نفی کے پانی سے سینچا جا تا ہے ،ٹھکرائے جاتے ہیں رلائے جاتے ہیں۔مصیبت در مصیبت ۔یہی وہ لوگ ہیں جو آسمان کے سب سے روشن ستارے ہوتے ہیں ۔
مگر کیا کمال کی بات ہے آسمان پہ سب سے زیادہ چمکتا ستارہ دیکھنے والوں کو سب سے زیادہ بھاتا ہے۔مگر اس ستارے کے درد سے کوئی واقف نہیں ہوتا جتنی اس میں آگ ہوتی ہے جتنا اسے جلایا جاتا ہے وہ اتنا ہی روشن اتنا ہی شاندار۔بھٹکنے والوں کو منزل دکھانے والا ہوتا ہے۔
دردملتا رہتا ہے اسے درد دیا جاتا رہتا ہے جب تک اندر کی آگ بھڑک نہ اٹھے۔ جب تک وہ اصل حقیقت جان نہ لے :-)
اور اصل حقیقت جاننے کے بعد جو بے نیازی آتی ہے وہ دائمی ہوتی ہے۔انسان سمجھ لیتا ہے وہ جان لیتا ہے مٹی کے یہ پتلے جن کو وہ من میں بٹھا کر پوجتا ہے۔اسے کچھ دے نہیں سکتے۔وہ زبردستی کسی کے دل میں اپنی قدر دانی اپنی محبت پیدا نہیں کر سکتا۔وہ دیکھ لیتا ہے کہ جب رگوں میں سما جانے والے درد کی تضحیک ہوتی ہے تو کیسا لگتا ہے۔کون ہے رب العزت کے سوا؟کون ہے خیر خواہ کون ہے اپنا جو سسکتے ہوئے دل کی سسکیاں بھی سنتا ہے ؟کون جانتا ہے اس ذات کے سوا جان پہ بیتنے والے عذاب کو؟وہ انتظار کر تا رہتا ہے کرتا رہتا ہے پر اسکی ذات پر مرہم رکھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔اور پھر اسکے دل میں سوراخ بننے لگتے ہیں جن سے وہ تمام چیزیں بہنے لگتی ہیں جن کی وہ پرستش کرتا رہا۔سب غیر مٹنے لگتا ہے لا الہ الااللّٰہ کی صدا گونجنے لگتی ہے
" کیا تم یہ گمان کیے بیٹھے ہو کہ جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ اب تک تم پر وہ حالات نہیں آئے جو تم سے اگلے لوگوں پر آئے تھے۔انہیں بیماریاں اور مصیبتیں پہنچیں اور وہ یہاں تک جھنجھوڑے گئے کہ رسول اور ان کے ساتھ ایمان والے کہنے لگے کہ اللّٰہ کی مدد کب آئے گی ؟سن رکھو کہ اللّٰہ کی مدد قریب ہی ہے "
(البقرہ:214)
وہ سیکھتا ہے کہ جب دھکے ملتے ہیں تو کیسا لگتا ہے۔ وہ سمجھ جاتا ہے پیاسوں کی پیاس پھر یا تو وہ کنواں بن جا تا ہے یا سب سے روشن چمکدار ستارہ رستہ دکھانے والا
بے نیاز بے غرض ۔
اگر آپ تکلیف کی بھٹی میں مسلسل جلائے جارہے ہیں تو اطمینان رکھیں وہ نیلی چھتری والا بہترین پلانر ہے۔
جو انسان غم کی چکی میں پس کر بنتا ہے وہ سکھ کی چادر اوڑھ کر کبھی نہیں بن سکتا۔کہ کوئلے کو ہیرا بننے کےلیے ٹنوں بوجھ تلے دبنا پڑتا ہے۔
" جب میرے بندے میرے بارے میں آپ سے سوال کریں تو آپ کہہ دیں کہ میں بہت ہی قریب ہوں ہر پکارنے والے کی پکار کو جب بھی وہ مجھے پکارےقبول کرتا ہوں ۔اس لیے لوگوں کو بھی چاہیئے وہ میری بات مان لیا کریں اور مجھ پر ایمان رکھیں یہی انکی بھلائی کا باعث ہے "
(البقرہ:186)
منقول
--------------
خزاؤں کی اداسی ہے جو اب تک دل میں چھپائی ہے
بہاروں کا حسین موسم کہیں سے ساتھ لانا تم
یہ مانا اور بھی تم کو جہاں میں ہیں بہت سے غم
مگر دنیا کے میلوں میں ہمیں بھول مت جانا تم
میرے اشعار ہیں جتنے‘ تمہارے نام کرتا ہوں
غزل میری سنو جب بھی‘ غزل میں ڈوب جانا تم
اگر تم سے کبھی کوئی میرے بارے میں پوچھے تو
فقط اتنی سی خواہش ہے‘ مجھے اپنا بتانا تم
کوئی جب الوداعی موسموں کا ذکر چھیڑے
نمی آنکھوں میں مت رکھنا‘ ہمیشہ مسکرانا تم
خزاؤں کی اداسی ہے جو اب تک دل میں چھپائی ہے
بہاروں کا حسین موسم کہیں سے ساتھ لانا تم
یہ مانا اور بھی تم کو جہاں میں ہیں بہت سے غم
مگر دنیا کے میلوں میں ہمیں بھول مت جانا تم
میرے اشعار ہیں جتنے‘ تمہارے نام کرتا ہوں
غزل میری سنو جب بھی‘ غزل میں ڈوب جانا تم
اگر تم سے کبھی کوئی میرے بارے میں پوچھے تو
فقط اتنی سی خواہش ہے‘ مجھے اپنا بتانا تم
کوئی جب الوداعی موسموں کا ذکر چھیڑے
نمی آنکھوں میں مت رکھنا‘ ہمیشہ مسکرانا تم
ہمارے بیچ کا رشتہ
ضرورت کے سوا کچھ بھی نہیں
ضرورت بات کرنے کی
ضرورت بات سننے کی
ضرورت سانس لینے کی
ضرورت فرصتوں کے وقت کو آسان کرنے کی
ضرورت کو محبت نام دینے سے
ہمارے بیچ پھیلی یہ مسافت کم نہیں ہوتی
یہ اپنا پن فقط بیگانگی پہ دھول جیسا ھے
میں گھنٹوں بات کرتا ھوں
تمہارے فرصتوں کے وقت کو آسان کرتا ھوں
میرا اس پہ یہ دعوی'،کہ مجھے تم سے محبت ہے ،
تمہارا بھی یہی اسرار کہ مجھ سے پیار کرتی ھو
سو ہم آسانیوں سے جھوٹ کی عادت نبھانے میں
مہارت سیکھ لیتے ہیں
ضرورت کو محبت مان لیتے ہیں
مگر سچ ہے
ضرورت کی قسم سچ ھے
ہمارے بیچ کا رشتہ
شروع دن سے ضرورت ھے
محبت کے اصولوں سے
کبھی الجھا نہیں کرتے
یہ الحاد حقیقت ھے،
سنو ایسا نہیں کرتے
بہت کم ظرف لوگوں سے
بہت محتاط رھتے ھیں
بنا سوچے سمندر میں
یونہی اترا نہیں کرتے
تیری ساقی سخاوت پہ میں
سانسیں وار دوں لیکن
میرے کامل کا فرماں ھے
کبھی بہکا نہیں کرتے
محبت سے ضروری ھے
غم دنیا کا افسانہ
محبت کے حسیں قصوں میں
کھو جایا نہیں کرتے
جسے دیکھو ،
اسے سوچو ،
جسے سوچو ،
اسے پاؤ
جسے نہ پا سکو…
اسکو کبھی دیکھا نہیں کرتے
مجھے تائب ،
وفا بردار لوگوں سے شکایت ھے
بہت تنقید کرتے ھیں ،
مگر اچھا نہیں کرتے
Aankhon ki bandgi nigahain Jhuka k Chal,
Shanun se Gir gia hai Dopata Utha K Chal,
Qomun ki zindgi Teri Aaghosh Men Pali.
Qomun ki zindgi Ka Muqadar Jaga k chal,
Ankhon K Teer Tery Badan Se Paray Rahen,
Sharm_o_Haya Ko Apna Lubada Bana K Chal,
Gar Ho sakay To Serat_e_Zohra Pe Kar Amal,
Is Zindgi Ko yon Na Tamasha Bana k Chal,
Ban Ja Sheaar_e_Azamat_e_Aslaaf ka NIshan,
Har Ek Gunah Se Daman_e_Ismat Bacha K Chal,
Mana Hawa Kharab Hai Mahool Bhe Ghaleez,
Gar Ho Sakay To Sath na Us hawa K chal,
Nasir Ko Teri Hurmat_o_ifat Azeez hai,
Is Dar_e_Namurad se us ko bacha K Chal.........
🌹 ٹوٹا ہوا گلاس 🌹
عربی اخبار میں شائع ہونے والی ایک خوبصورت تحریر
" یہ ایک سعودی طالبعلم کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ ہے جو حصول تعلیم کے لیے برطانیہ میں مقیم تھا وہ طالبعلم بیان کرتا ہے کہ مجھے ایک ایسی انگریز فیملی کے ساتھ ایک کمرہ کرائے پر لے کر رہنے کا اتفاق ہوا جو ایک میاں بیوی اور ایک چھوٹے بچے پر مشتمل تھی۔ ایک دن وہ دونوں میاں بیوی کسی کام سے باہر جا رہے تھے تو انہوں نے مجھ سے پوچھا کہ اگر آپ گھر پر ہی ہیں تو ہم اپنے بچے کو کچھ وقت کے لیے آپ کے پاس چھوڑ دیں ؟ میرا باہر جانے کا کوئ ارادہ نہیں تھا اس لیے میں نے حامی بھر لی وہ بچہ مجھ سے کافی مانوس تھا کچھ دیر کھیلنے کے بعد وہ مجھ سے اجازت لے کر کچن میں گیا اور تھوڑی ہی دیر بعد مجھے کسی برتن کے ٹوٹنے کی آواز آئ اور ساتھ ہی بچے کی چیخ سنائ دی میں جلدی سے کچن میں گیا اور دیکھا کہ شیشے کے جس گلاس میں بچہ پانی پی رہا تھا وہ اس کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ چکا تھا اور بچہ ڈر کر اپنی جگہ سہما کھڑا تھا میں نے بچے کو تسلی دی اور کہا کہ تم پریشان نہ ہو اور امی واپس آئیں تو ان سے کہنا کہ گلاس انکل سے ٹوٹ گیا تھا پھر میں نے سوچا کہ اگلے دن ایک گلاس لا کر کچن میں رکھ دوں گا۔ یہ ایک معمولی واقعہ تھا اور میرے خیال میں پریشانی والی کوئ بات نہیں تھی، جلد ہی وہ دونوں میاں بیوی واپس آگئے اور میں نے بچے کو ان کے حوالے کر دیا وہ عورت جب کچن میں گئ اور گلاس ٹوٹا ہوا پایا تو بچے سے پوچھا بچے نے اس کو وہی بتایا جو کہ میں اس کو سمجھا چکا تھا، اسی شام کو وہ بچہ میرے پاس بہت افسردہ حالت میں آیا اور مجھے کہا کہ انکل میں نے امی کو سچ بتا دیا ہے کہ وہ گلاس آپ نے نہیں بلکہ میں نے توڑا ہے ،،،،،
اگلی صبح میں یونیورسٹی جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا کہ میرے کمرے کے دروازے پر دستک ہوئ میں نے دروازہ کھولا تو سامنے اس بچے کی ماں کھڑی تھی اس نے مجھے صبح بخیر کہا اور نہایت سائستگی سے میرا نام لے کر کہا کہ ہم آپ کو ایک نفیس اور شریف آدمی سمجھتے ہیں مگر آپ نے ہمارے بچے کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دے کر اپنا وقار خراب کر لیا ہے ہم نے آج تک کسی بھی معمولی یا بڑی بات پر اپنے بچے سے جھوٹ نہیں بولا نہ کبھی اس کو جھوٹ بولنے کی ترغیب دی ہے لہذا ہم آپ کو مزید اپنے ساتھ نہیں رکھ سکتے برائے مہربانی آپ چوبیس گھنٹے کے اندر اندر اپنے لیے کسی دوسری رہائش کا بندوبست کر لیجیے۔
میرے پیارے مسلمان بھائیو آئیے ہم ایک لمحہ کے توقف کے ساتھ اپنا ہلکا سا احتساب کریں کہ ہم میں سے تقریباً ہر بندہ صبح سے لے کر شام تک معمولی باتوں پر کتنی دفعہ جھوٹ بولتا ہے اور کتنی دفعہ ہمارے بچے جھوٹ بولتے ہیں جس پر ہمیں کوئ ملال نہیں ہوتا۔
الله ہمارے حال پر رحم فرمائے اور ہمیں ہر حال میں سچ بولنے کی توفیق عطا فرمائے آمین