♻️ قسمت کا کھیل
احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہندوستانی زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔
جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ باتیں ہوئیں لیکن ہر جگہ ان کا جبہ وعمامہ ان کی شادی کی راہ میں حائل ہوگیا۔ احمد امین نے اپنی سرگزشت ’’حیاتی‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک جگہ میرا رشتہ ہوا۔ انہوں نے مجھے پسند کرنے سے قبل مجھے دیکھنا چاہا۔ میں جب ان کے یہاں گیا تو میں نے ہاتھ میں انگریزی کی ایک کتاب لی۔ اور ان سے بات چیت کرتے وقت انگریزی کے کئی الفاظ بھی استعمال کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ میں نرا ’’مولوی‘‘ نہیں ہوں بلکہ میں ایک ’’پڑھا لکھا‘‘ انسان ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکی کے گھر والوں سے بات چیت کے بعد ان کی گفتگو سے مجھے لگا کہ وہ میرے رشتے سے راضی ہیں۔ اتنے میں لڑکی نے کھڑکی سے میرا عمامہ دیکھا تو گھبرا گئی اور مجھ سے شادی کے لیے کسی صورت تیار نہ ہوئی۔ بعد میں اس لڑکی کی ایک ایسے نوجوان سے شادی ہوئی جو کسی منسٹری میں کلرک تھا مگر نشہ باز تھا۔ دونوں کی ان بن ہوگئی۔ اس نے لڑکی کو طلاق دے دیا۔ لڑکی نے اپنے نان ونفقہ کے لیے کورٹ میں مقدمہ کر دیا۔ جس کورٹ میں وہ مقدمہ لے کر گئی اس کورٹ کا میں اس وقت جج تھا۔
سبحان اللہ۔ قسمت بھی کیسے کیسے كهیل کھیلتی اور کھلاتی ہے!!!
♻️ قسمت کا کھیل
احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہندوستانی زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔
جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ باتیں ہوئیں لیکن ہر جگہ ان کا جبہ وعمامہ ان کی شادی کی راہ میں حائل ہوگیا۔ احمد امین نے اپنی سرگزشت ’’حیاتی‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک جگہ میرا رشتہ ہوا۔ انہوں نے مجھے پسند کرنے سے قبل مجھے دیکھنا چاہا۔ میں جب ان کے یہاں گیا تو میں نے ہاتھ میں انگریزی کی ایک کتاب لی۔ اور ان سے بات چیت کرتے وقت انگریزی کے کئی الفاظ بھی استعمال کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ میں نرا ’’مولوی‘‘ نہیں ہوں بلکہ میں ایک ’’پڑھا لکھا‘‘ انسان ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکی کے گھر والوں سے بات چیت کے بعد ان کی گفتگو سے مجھے لگا کہ وہ میرے رشتے سے راضی ہیں۔ اتنے میں لڑکی نے کھڑکی سے میرا عمامہ دیکھا تو گھبرا گئی اور مجھ سے شادی کے لیے کسی صورت تیار نہ ہوئی۔ بعد میں اس لڑکی کی ایک ایسے نوجوان سے شادی ہوئی جو کسی منسٹری میں کلرک تھا مگر نشہ باز تھا۔ دونوں کی ان بن ہوگئی۔ اس نے لڑکی کو طلاق دے دیا۔ لڑکی نے اپنے نان ونفقہ کے لیے کورٹ میں مقدمہ کر دیا۔ جس کورٹ میں وہ مقدمہ لے کر گئی اس کورٹ کا میں اس وقت جج تھا۔
سبحان اللہ۔ قسمت بھی کیسے کیسے كهیل کھیلتی اور کھلاتی ہے!!!
♻️ قسمت کا کھیل
احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہندوستانی زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔
جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ باتیں ہوئیں لیکن ہر جگہ ان کا جبہ وعمامہ ان کی شادی کی راہ میں حائل ہوگیا۔ احمد امین نے اپنی سرگزشت ’’حیاتی‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک جگہ میرا رشتہ ہوا۔ انہوں نے مجھے پسند کرنے سے قبل مجھے دیکھنا چاہا۔ میں جب ان کے یہاں گیا تو میں نے ہاتھ میں انگریزی کی ایک کتاب لی۔ اور ان سے بات چیت کرتے وقت انگریزی کے کئی الفاظ بھی استعمال کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ میں نرا ’’مولوی‘‘ نہیں ہوں بلکہ میں ایک ’’پڑھا لکھا‘‘ انسان ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکی کے گھر والوں سے بات چیت کے بعد ان کی گفتگو سے مجھے لگا کہ وہ میرے رشتے سے راضی ہیں۔ اتنے میں لڑکی نے کھڑکی سے میرا عمامہ دیکھا تو گھبرا گئی اور مجھ سے شادی کے لیے کسی صورت تیار نہ ہوئی۔ بعد میں اس لڑکی کی ایک ایسے نوجوان سے شادی ہوئی جو کسی منسٹری میں کلرک تھا مگر نشہ باز تھا۔ دونوں کی ان بن ہوگئی۔ اس نے لڑکی کو طلاق دے دیا۔ لڑکی نے اپنے نان ونفقہ کے لیے کورٹ میں مقدمہ کر دیا۔ جس کورٹ میں وہ مقدمہ لے کر گئی اس کورٹ کا میں اس وقت جج تھا۔
سبحان اللہ۔ قسمت بھی کیسے کیسے كهیل کھیلتی اور کھلاتی ہے!!!
♻️ قسمت کا کھیل
احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہندوستانی زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔
جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ باتیں ہوئیں لیکن ہر جگہ ان کا جبہ وعمامہ ان کی شادی کی راہ میں حائل ہوگیا۔ احمد امین نے اپنی سرگزشت ’’حیاتی‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک جگہ میرا رشتہ ہوا۔ انہوں نے مجھے پسند کرنے سے قبل مجھے دیکھنا چاہا۔ میں جب ان کے یہاں گیا تو میں نے ہاتھ میں انگریزی کی ایک کتاب لی۔ اور ان سے بات چیت کرتے وقت انگریزی کے کئی الفاظ بھی استعمال کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ میں نرا ’’مولوی‘‘ نہیں ہوں بلکہ میں ایک ’’پڑھا لکھا‘‘ انسان ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکی کے گھر والوں سے بات چیت کے بعد ان کی گفتگو سے مجھے لگا کہ وہ میرے رشتے سے راضی ہیں۔ اتنے میں لڑکی نے کھڑکی سے میرا عمامہ دیکھا تو گھبرا گئی اور مجھ سے شادی کے لیے کسی صورت تیار نہ ہوئی۔ بعد میں اس لڑکی کی ایک ایسے نوجوان سے شادی ہوئی جو کسی منسٹری میں کلرک تھا مگر نشہ باز تھا۔ دونوں کی ان بن ہوگئی۔ اس نے لڑکی کو طلاق دے دیا۔ لڑکی نے اپنے نان ونفقہ کے لیے کورٹ میں مقدمہ کر دیا۔ جس کورٹ میں وہ مقدمہ لے کر گئی اس کورٹ کا میں اس وقت جج تھا۔
سبحان اللہ۔ قسمت بھی کیسے کیسے كهیل کھیلتی اور کھلاتی ہے!!!
بِچھڑا ہے جو اِک بار، تو مِلتے نہیں دیکھا
اِس زخم کو ہم نے کبھی سِلتے نہیں دیکھا
اِک بار جسے چاٹ گئی دُھوپ کی خواہش
پھر شاخ پہ اُس پھول کو کِھلتے نہیں دیکھا
یک لخت گِرا ہے، تو جڑیں تک نِکل آئیں
جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا
کانٹوں میں گِھرے پُھول کو چُوم آئے گی، لیکن
تِتلی کے پَروں کو کبھی چھلتے نہیں دیکھا
کِس طرح مِری رُوح ہری کر گیا آخر
وہ زہر جسے، جسم میں کِھلتے نہیں دیکھا
گھر دل میں کیے رہتی ہے اِک یاد مسلسل
دل درد سے بوجھل بھی ہے دل شاد مسلسل
اِک ہم نے سنبھالا ہے تِری یاد کا چہرہ
اِک ہم ہی ہوئے جاتے ہیں برباد مسلسل
گِر کر یہ تمنا ہے تِری آہ میں رہتے
ہم گِرنے لگے اب یہ تِرے بعد مسلسل
گُلچیں نے کیا جو بھی، کیا شوقِ تمنا
پھر گُل نے کیا نالئہ فریاد مسلسل
اِس شہرِ خموشاں کا تقاضا بھی یہی تھا
پھر نکلے مِری خاک سے فرہاد مسلسل
کل مجھ سے خفا تھے وہ مِری بات سے عاری
وہ مجھ کو دیے جاتے ہیں اب داد مسلسل
اِک درد سے بہلے ہوئے، اِک درد کے طابع
یوں فرط سے ملتے نہیں صیاد مسلسل
نہ ستاتی، نہ رُلاتی، نہ تڑپاتی، نہ جلاتی
زندگی یونہی گزر جاتی تو کتنا اچھا تھا
فراق کے لبادے اوڑھاتی
نہ جدائیوں کے رستے دکھاتی
تمنائیں سر نہ اٹھاتیں
جذبات ہلچل نہ مچاتے
یونہی ندی شور مچاتی
کوئل کوکتی تو کتنا اچھا تھا
نہ وقت کا ضیاع ہوتا
نہ کچھ کھونے کا گماں ہوتا
یہ زمانہ اور سماج ہوتا
نہ رسمیں ہوتیں نہ رواج ہوتا
پھول بگھیا میں کھلتے
بھنورے گنگناتے تو کتنا اچھا تھا
یہ زندگی اپنے ہی نام ہوتی
من بھی اپنا پاسدار ہوتا
وفا کی چاہت ہوتی
نہ بےوفائی کا ڈر ہوتا
یونہی پرندے شور کرتے
اڑان بھرتےتو کتنا اچھا تھا
زندگی یونہی گزر جاتی تو کتنا اچھا تھا
یہ دل،
دل ہی رہتا تو کتنا اچھا تھا
میں کسے سنا رہا ہوں یہ غزل محبتوں کی
کہیں آگ سازشوں کی ، کہیں آنچ نفرتوں کی
-
کوئی باغ جل رہا ہے ، یہ مگر مری دعا ہے
مرے پھول تک نہ پہنچے یہ ہوا تمازتوں کی
-
مرا کون سا ہے موسم مرے موسموں کے والی!
یہ بہار بے دلی کی ، یہ خزاں مروتوں کی
-
میں قدم بام و در میں انہیں جا کے ڈھونڈتا ہوں
وہ دیار نکہتوں کے ، وہ فضائیں چاہتوں کی
-
کہیں چاند یا ستارے ہوئے ہم کلام مجھ سے
کہیں پھول سیڑھیوں کے ، کہیں جھاڑیاں پتوں کی
-
مرے کاغذوں میں شاید کہیں اب بھی سو رہی ہو
کوئی صبح گلستاں کی ، کوئی شام پربتوں کی
-
کہیں دشت دل میں شاید مری راہ تک رہی ہو
وہ قطار جگنوں کی ، وہ مہک ہری راتوں کی
-
یہ نہیں کہ دب گئی ہے کہیں گرد روز و شب میں
وہ خلش محبتوں کی ، وہ کسک رفاقتوں کی
آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دلراکھ ہوجائیں، کوئی اور تقاضا نہ کریںچاک وعدہ نہ سِلے، زخمِ تمنّا نہ کِھلےسانس ہموار رہے شمع کی لَو تک نہ ہِلےباتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آکر گِن جائیںآنکھ اٹھائے کوئی اُمید تو آنکھیں چھن جائیںاس ملاقات کا اس بار کوئی وہم نہیںجس سے اِک اور ملاقات کی صورت نکلےاب نہ ہیجان و جنوں کا، نہ حکایات کا وقتاب نہ تجدید وفا کا، نہ شکایات کا وقتلُٹ گئی شہرِ حوادث میں متاعِ الفاظاب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نوح کہیےآج تک تم سے رگِ جاں کے کئی رشتے تھےکل سے جو ہو گا اُسے کون سا رشتہ کہیےپھر نہ دہکیں گے کبھی عارض و رخسار، مِلوماتمی ہیں دِم رخصت درو دیوار، ملوپھر نہ ہم ہوں گے، نہ اقرار، نہ انکار، مِلوآخری بار مِلو
اسے میں کیوں بتاؤں !!
میں نے اس کو کتنا چاہا ہے؟
بتایا جھوٹ جاتا ہے !!!
کہ سچی بات کی خوشبو!!
تو خود محسوس ہوتی ہے!!!
میری باتیں، میری سوچیں
اسےخود جان جانے دو!!!
ابھی کچھ دن مجھے میری محبّت آزمانےدو!!!!
اگر وہ عشق کےاحساس کو پہچان نہ پاۓ!!
مجھے بھی جان نہ پاۓ !!!!
تو پھر ایسا کرو اے دل......!!
خود گمنام ہو جاؤ !!!!
مگر اس بے خبر کو مسکرانے دو...!
ابھی کچھ دن .....!!
مجھے میری محبّت آزمانے دو..
بڑے انجان موسم میں
بہت بے رنگ لمحوں میں
بنا آہٹ ، بنا دستک
بہت معصوم سا سپنا
اُتر آیا ہے آنکھوں میں
...بنا سوچے ، بنا سمجھے
کہا ہے دل نے چُپکے سے
ہاں اس ننھے سے سپنے کو
آنکھوں میں جگہ دے دو
بنا روکے ، بنا ٹوکے
رگوں کا خون بننے دو
سانسوں میں مہکنے دو
ہمیشہ کی طرح اب بھی
بنا اُلجھے ، بنا بولے
جُھکا دیا ہے سر ہم نے
مگر تعبیر کیا ہو گی؟
یہ ہم جانیں نہ دل جانے
بس معلوم ہے اتنا
کہ دل کے فیصلے اکثر
ہمیں کم راس آتے ہیں