👀 You are watching:
Jump to content
👉 Click here to explore Remote Jobs, Work From Home & Global News – USA 🇺🇸 | UK 🇬🇧 | Canada 🇨🇦 | Pakistan 🇵🇰 ×
🚫 Guest Access Notice ×

Hareem Naz

🌟 LEGACY MEMBER
  • Posts

    866
  • Joined

  • Last visited

  • Days Won

    80

Blog Entries posted by Hareem Naz

  1. Hareem Naz
    ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ
    ﺍﺏ ﺧﺴﺎﺭﮦ ﮐﯿﺴﺎ ...
    ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ
    ﺍﺗﺮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﺏ ﮐﻨﺎﺭە ﮐﯿﺴﺎ ....
    ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ
    ﺗﻮ ﺑﺲ ﺍﺳﺘﺨﺎﺭﮦ ﮐﯿﺴﺎ
  2. Hareem Naz
    ﺗﺠﮫ ﺳﮯ ﻋﺸﻖ ﮐﺮ ﻟﯿﺎ
    ﺍﺏ ﺧﺴﺎﺭﮦ ﮐﯿﺴﺎ ...
    ﺩﺭﯾﺎﺋﮯ ﻣﺤﺒﺖ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ
    ﺍﺗﺮ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺍﺏ ﮐﻨﺎﺭە ﮐﯿﺴﺎ ....
    ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺟﻮ ﺗﯿﺮﮮ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ
    ﺗﻮ ﺑﺲ ﺍﺳﺘﺨﺎﺭﮦ ﮐﯿﺴﺎ

  3. Hareem Naz
    ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡
    ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺯﺧﻢ _________ ﺳﮩﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﯿﮟ .
    ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺩﺭﺩ __________ ﮐﮩﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﭘﺎﺗﯿﮟ .
    ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺍٓﻧﮑﮫ ___________ ﮐﺎ ﺳﺘﺎﺭﺍ ﮨﯿﮟ .
    ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺩﺭﺩ _________ ﻣﯿﮟ ﺳﮩﺎﺭﺍ ﮬﯿﮟ .
    ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ♡ ﮐﻮ __________ ﮨﺮﺍﺱ ﻣﺖ ﮐﺮﻧﺎ .
    ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ♡ ﮐﻮ ﮨﺮ ﮔﺰ ______ ﺍﺩﺍﺱ ﻣﺖ ﮐﺮﻧﺎ .
    ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﻧﻮﺭ ___________ ﮨﯿﮟ ﻧﮕﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ .
    ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺑﺎﺏ __________ ﮨﯿﮟ ﭘﻨﺎﮨﻮﮞ ﮐﺎ .
    ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺩﻝ ﮐﯽ ______ ﺻﺎﻑ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ .
    ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﮔﻮﯾﺎ ﮐﮭﻠﺘﺎ _____ ﮔﻼﺏ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ .
    ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﻋﮑﺲ _________ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﻭٔﮞ ﮐﺎ .
    ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﮨﯿﮟ ___________ ﺛﻤﺮ ﺩﻋﺎﻭٔﮞ ﮐﺎ .
    ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ♡ ﮐﻮ _________ ﺳﺰﺍﺋﯿﮟ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ .
    ﺑﯿﭩﯿﻮﮞ ♡ ﮐﻮ ﻏﻢ ﮐﯽ _____ ﻗﺒﺎﺋﯿﮟ ﻣﺖ ﺩﯾﻨﺎ
    ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ _______ ﮐﯽ ﭘﯿﺎﺳﯽ ﮨﯿﮟ
    ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﯾﮧ ﭘﺮﺍﺋﮯ ﭼﻤﻦ __ ﮐﯽ ﺑﺎﺳﯽ ﮨﯿﮟ
    ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﺑﮯ ﻭﻓﺎ __________ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯿﮟ
    ﺑﯿﭩﯿﺎﮞ ♡ ﯾﮧ ﮐﺒﮭﯽ ﺑﮭﯽ ___ ﺧﻔﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﯿﮟ !

  4. Hareem Naz
    ﻣُﺴﮑﺮﺍﺗﮯ ﺗﯿﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﮨﻢ ﺑﮭﯽ۔
    ﮐَﺎﺵ ..... ﺍﺣﺴﺎَﺱ ﻣَﺮ ﮔﯿﺎَ ﮨﻮﺗﺎ۔

  5. Hareem Naz
    ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﮨﮯ ﻣﯿﺮﯼ
    ﺍﮔﺮ ﮐﺒﮭﯽ ﻣﯿﮟ ،
    ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﺗﻨﮓ ﺁ ﮐﺮ ﺭﻭ ﭘﮍﻭﮞ
    ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺭﻭﻧﮯ ﻧﮧ ﺩﯾﻨﺎ !...
    ﻣﯿﺮﮮ ﺁﻧﺴﻮﻭﮞ ﭘﺮ ﺗﮍﭖ ﺟﺎﻧﺎ
    ﺍﻭﺭ ﺑﺲ ... ﻣﺴﮑﺮﺍ ﮐﺮ ﮐﮩﮧ ﺩﯾﻨﺎ ﺗﻢ ،
    ﻣﯿﮟ ﮨﻮﮞ ﻧﺎ

  6. Hareem Naz
    ♻️ قسمت کا کھیل
    احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہندوستانی زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔
    جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ باتیں ہوئیں لیکن ہر جگہ ان کا جبہ وعمامہ ان کی شادی کی راہ میں حائل ہوگیا۔ احمد امین نے اپنی سرگزشت ’’حیاتی‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک جگہ میرا رشتہ ہوا۔ انہوں نے مجھے پسند کرنے سے قبل مجھے دیکھنا چاہا۔ میں جب ان کے یہاں گیا تو میں نے ہاتھ میں انگریزی کی ایک کتاب لی۔ اور ان سے بات چیت کرتے وقت انگریزی کے کئی الفاظ بھی استعمال کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ میں نرا ’’مولوی‘‘ نہیں ہوں بلکہ میں ایک ’’پڑھا لکھا‘‘ انسان ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکی کے گھر والوں سے بات چیت کے بعد ان کی گفتگو سے مجھے لگا کہ وہ میرے رشتے سے راضی ہیں۔ اتنے میں لڑکی نے کھڑکی سے میرا عمامہ دیکھا تو گھبرا گئی اور مجھ سے شادی کے لیے کسی صورت تیار نہ ہوئی۔ بعد میں اس لڑکی کی ایک ایسے نوجوان سے شادی ہوئی جو کسی منسٹری میں کلرک تھا مگر نشہ باز تھا۔ دونوں کی ان بن ہوگئی۔ اس نے لڑکی کو طلاق دے دیا۔ لڑکی نے اپنے نان ونفقہ کے لیے کورٹ میں مقدمہ کر دیا۔ جس کورٹ میں وہ مقدمہ لے کر گئی اس کورٹ کا میں اس وقت جج تھا۔ 
    سبحان اللہ۔ قسمت بھی کیسے کیسے كهیل کھیلتی اور کھلاتی ہے!!!
  7. Hareem Naz
    ♻️ قسمت کا کھیل
    احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہندوستانی زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔
    جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ باتیں ہوئیں لیکن ہر جگہ ان کا جبہ وعمامہ ان کی شادی کی راہ میں حائل ہوگیا۔ احمد امین نے اپنی سرگزشت ’’حیاتی‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک جگہ میرا رشتہ ہوا۔ انہوں نے مجھے پسند کرنے سے قبل مجھے دیکھنا چاہا۔ میں جب ان کے یہاں گیا تو میں نے ہاتھ میں انگریزی کی ایک کتاب لی۔ اور ان سے بات چیت کرتے وقت انگریزی کے کئی الفاظ بھی استعمال کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ میں نرا ’’مولوی‘‘ نہیں ہوں بلکہ میں ایک ’’پڑھا لکھا‘‘ انسان ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکی کے گھر والوں سے بات چیت کے بعد ان کی گفتگو سے مجھے لگا کہ وہ میرے رشتے سے راضی ہیں۔ اتنے میں لڑکی نے کھڑکی سے میرا عمامہ دیکھا تو گھبرا گئی اور مجھ سے شادی کے لیے کسی صورت تیار نہ ہوئی۔ بعد میں اس لڑکی کی ایک ایسے نوجوان سے شادی ہوئی جو کسی منسٹری میں کلرک تھا مگر نشہ باز تھا۔ دونوں کی ان بن ہوگئی۔ اس نے لڑکی کو طلاق دے دیا۔ لڑکی نے اپنے نان ونفقہ کے لیے کورٹ میں مقدمہ کر دیا۔ جس کورٹ میں وہ مقدمہ لے کر گئی اس کورٹ کا میں اس وقت جج تھا۔ 
    سبحان اللہ۔ قسمت بھی کیسے کیسے كهیل کھیلتی اور کھلاتی ہے!!!
  8. Hareem Naz
    ♻️ قسمت کا کھیل
    احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہندوستانی زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔
    جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ باتیں ہوئیں لیکن ہر جگہ ان کا جبہ وعمامہ ان کی شادی کی راہ میں حائل ہوگیا۔ احمد امین نے اپنی سرگزشت ’’حیاتی‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک جگہ میرا رشتہ ہوا۔ انہوں نے مجھے پسند کرنے سے قبل مجھے دیکھنا چاہا۔ میں جب ان کے یہاں گیا تو میں نے ہاتھ میں انگریزی کی ایک کتاب لی۔ اور ان سے بات چیت کرتے وقت انگریزی کے کئی الفاظ بھی استعمال کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ میں نرا ’’مولوی‘‘ نہیں ہوں بلکہ میں ایک ’’پڑھا لکھا‘‘ انسان ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکی کے گھر والوں سے بات چیت کے بعد ان کی گفتگو سے مجھے لگا کہ وہ میرے رشتے سے راضی ہیں۔ اتنے میں لڑکی نے کھڑکی سے میرا عمامہ دیکھا تو گھبرا گئی اور مجھ سے شادی کے لیے کسی صورت تیار نہ ہوئی۔ بعد میں اس لڑکی کی ایک ایسے نوجوان سے شادی ہوئی جو کسی منسٹری میں کلرک تھا مگر نشہ باز تھا۔ دونوں کی ان بن ہوگئی۔ اس نے لڑکی کو طلاق دے دیا۔ لڑکی نے اپنے نان ونفقہ کے لیے کورٹ میں مقدمہ کر دیا۔ جس کورٹ میں وہ مقدمہ لے کر گئی اس کورٹ کا میں اس وقت جج تھا۔ 
    سبحان اللہ۔ قسمت بھی کیسے کیسے كهیل کھیلتی اور کھلاتی ہے!!!
  9. Hareem Naz
    ♻️ قسمت کا کھیل
    احمد امین عربی کے بہت بڑے ادیب تھے۔ میڈل کلاس گھرانے سے ان کا تعلق تھا اور دینی مزاج کے حامل تھے۔ جبہ وعمامہ کا استعمال کرتے تھے۔ گویا ہندوستانی زبان میں ’’مولویانہ‘‘ لباس زیب تن کرتے تھے۔ اس وقت مصر کی طرز معاشرت مائل بہ انقلاب تھی۔ انگریزی تہذیب سے لوگ متاثر ہورہے تھے۔ عربیت میں غربیت کا امتزاج ہورہا تھا۔
    جس طرح ہمارے معاشرے میں انگریزی تہذیب وتمدن سے متاثر گھرانے اس’’ مولویانہ لباس‘‘ کے نوجوانوں سے شادی بیاہ پسند نہیں کرتے۔ اسی طرح احمد امین کے رشتے کے لیے کئی جگہ باتیں ہوئیں لیکن ہر جگہ ان کا جبہ وعمامہ ان کی شادی کی راہ میں حائل ہوگیا۔ احمد امین نے اپنی سرگزشت ’’حیاتی‘‘ میں لکھا ہے کہ ایک جگہ میرا رشتہ ہوا۔ انہوں نے مجھے پسند کرنے سے قبل مجھے دیکھنا چاہا۔ میں جب ان کے یہاں گیا تو میں نے ہاتھ میں انگریزی کی ایک کتاب لی۔ اور ان سے بات چیت کرتے وقت انگریزی کے کئی الفاظ بھی استعمال کیے۔ جس سے معلوم ہوا کہ میں نرا ’’مولوی‘‘ نہیں ہوں بلکہ میں ایک ’’پڑھا لکھا‘‘ انسان ہوں۔ وہ کہتے ہیں کہ لڑکی کے گھر والوں سے بات چیت کے بعد ان کی گفتگو سے مجھے لگا کہ وہ میرے رشتے سے راضی ہیں۔ اتنے میں لڑکی نے کھڑکی سے میرا عمامہ دیکھا تو گھبرا گئی اور مجھ سے شادی کے لیے کسی صورت تیار نہ ہوئی۔ بعد میں اس لڑکی کی ایک ایسے نوجوان سے شادی ہوئی جو کسی منسٹری میں کلرک تھا مگر نشہ باز تھا۔ دونوں کی ان بن ہوگئی۔ اس نے لڑکی کو طلاق دے دیا۔ لڑکی نے اپنے نان ونفقہ کے لیے کورٹ میں مقدمہ کر دیا۔ جس کورٹ میں وہ مقدمہ لے کر گئی اس کورٹ کا میں اس وقت جج تھا۔ 
    سبحان اللہ۔ قسمت بھی کیسے کیسے كهیل کھیلتی اور کھلاتی ہے!!!
  10. Hareem Naz
    میں تیرے لب پہ چھا جاؤں گا مسکراہٹ کی طرح
    تو اپنے ہونٹوں سے میرا نام پکار کر تو دیکھ

  11. Hareem Naz
    ان سنی ہے ان کہی ہے زندگی
    ہے مری پر اجنبی ہے زندگی
     
    حادثے پہ حادثہ پھر حادثہ
    زندگی، کیا زندگی ہے زندگی 
     
    ریزے چن کے جوڑنا پھر ٹوٹنا
    مفلسی ہے ، بے کسی ہے زندگی
     
    دعوے سارے جان دینے کے مگر
    بے رخی ہے، دل لگی ہے زندگی
     
    روز کر کے وعدے خود سے بھولنا
    سرکشی ہے, دھاندلی ہے زندگی
     
    خواب ہیں کچھ،پر ہیں تعبیریں الٹ 
    ظاہری ہے، کاغذی ہے زندگی
     
    اس کے پیچھے ہم سے کتنے مر مٹے
    مبتلائے بندگی ہے زندگی
     
    موت کی مانند یہ پیچھے لگی
    بھا  گئی جو دشمنی ہے زندگی
     
    جانے کس دنیا سے ہیں جو یہ کہیں
    نغمگی ہے، شاعری ہے زندگی
     
    تو نہ مانے پھر بھی سچ ابرک یہی
    عاجزی ہے، عارضی ہے زندگی
     
     

  12. Hareem Naz
    IK BHEEGI SHAAM K SAYE ME,
    CHUPKE SE AGAR TUM AAJAO..
     
     
     
    Ye Sham Suhani Ho Jaye
    Rangeen Kahani Ho Jaye
     
    Wo Bat Jo Hm Na Keh Paye
    Ankhon Ki Zubani Ho Jaye
     
     
     
    Koi Pyar Ki Batain Tm Chero
    Koi Pyar Ki Bat Sunain Hm
     
    Phir Pyar Krain Yun Hm Dono
    Yeh Rat Suhani Ho Jaye
     
     
     
    Main Bethon Tere Pehlu Me
    Kuch Dil Ki Batain Ho Jain
     
    Tm Ungliyan Phairo Balon Me
    Hm Meethi Neendain So Jain
     
     
     
    AIK BHEEGI SHAAM K SAYE ME,
    CHUPKE SE AGAR TUM AA JAO

  13. Hareem Naz
    بِچھڑا ہے جو اِک بار، تو مِلتے نہیں دیکھا
    اِس زخم کو ہم نے کبھی سِلتے نہیں دیکھا
    اِک بار جسے چاٹ گئی دُھوپ کی خواہش
    پھر شاخ پہ اُس پھول کو کِھلتے نہیں دیکھا
    یک لخت گِرا ہے، تو جڑیں تک نِکل آئیں
    جس پیڑ کو آندھی میں بھی ہلتے نہیں دیکھا
    کانٹوں میں گِھرے پُھول کو چُوم آئے گی، لیکن
    تِتلی کے پَروں کو کبھی چھلتے نہیں دیکھا
    کِس طرح مِری رُوح ہری کر گیا آخر
    وہ زہر جسے، جسم میں کِھلتے نہیں دیکھا
     
    پروین شاکر

  14. Hareem Naz
    گھر دل میں کیے رہتی ہے اِک یاد مسلسل
    دل درد سے بوجھل بھی ہے دل شاد مسلسل
    اِک ہم نے سنبھالا ہے تِری یاد کا چہرہ
    اِک ہم ہی ہوئے جاتے ہیں برباد مسلسل
    گِر کر یہ تمنا ہے تِری آہ میں رہتے
    ہم گِرنے لگے اب یہ تِرے بعد مسلسل
    گُلچیں نے کیا جو بھی، کیا شوقِ تمنا
    پھر گُل نے کیا نالئہ فریاد مسلسل
    اِس شہرِ خموشاں کا تقاضا بھی یہی تھا
    پھر نکلے مِری خاک سے فرہاد مسلسل
    کل مجھ سے خفا تھے وہ مِری بات سے عاری
    وہ مجھ کو دیے جاتے ہیں اب داد مسلسل
    اِک درد سے بہلے ہوئے، اِک درد کے طابع
    یوں فرط سے ملتے نہیں صیاد مسلسل
  15. Hareem Naz
    ﺩﻋﺎ ﮐﺎ ﺭﻧﮓ ﻧﻬﯿﮟ ﻫﻮﺗﺎ
    ﻣﮕﺮ ﺟﺐ ﺭﻧﮓ ﻻﺗﯽ ﻫﯿﮟ
    ﺗﻮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻨﮏ ﮐﮯ
    ﺭﻧﮓ ﺑﮭﺮ ﺟﺎﺗﮯ ﻫﯿﮟ

  16. Hareem Naz
    ﺠﺐ ﺗﻘﺎﺿﮯ ﮨﯿﮟ ........... ﭼﺎﮨﺘﻮﮞ ﮐﮯ ....
    ﺑﮍﯼ ﮐﭩﮭﻦ ﯾﮧ ................ ﻣﺴﺎﻓﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ....
    ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﮐﯽ ﺭﺍﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ .... ﺑِﭽﮫ ﮔﺊ ﮨﻮﮞ ....
    ﺍُﺳﯽ ﮐﻮ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ........... ﺷﮑﺎﯾﺘﯿﮟ ﮨﯿﮟ ...
    ﺷﮑﺎﯾﺘﯿﮟ ﺳﺐ ................... ﺑﺠﺎ ﮨﯿﮟ ﻟﯿﮑﻦ
    ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﺍُﺱ ﮐﻮ ............ ﯾﻘﯿﮟ ﺩﻻﺅﮞ ...
    ﺟﻮ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ ﺟﺎﮞ ﺳﮯ ........... ﻋﺰﯾﺰ ﺗﺮ ﮨﮯ ...
    ﺍُﺳﮯ ﺑﮭﻼﺅﮞ ﺗﻮ .................. ﻣﺮ ﻧﮧ ﺟﺎﺅﮞ ......
    ﻣﯿﮟ ﺧﺎﻣﻮﺷﯽ ﮐﯽ ............... ﺍﻧﺘﮩﺎ ﻣﯿﮟ ....
    ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ................... ﮔﺰﺭ ﮔﺊ ﮨﻮﮞ ....
    ﺍُﺳﮯ ﺧﺒﺮ ﺑﮭﯽ .................... ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ ﺷﺎﯾﺪ ....
    ﻣﯿﮟ ﺩﮬﯿﺮﮮ ﺩﮬﯿﺮﮮ ............. ﺑﮑﮭﺮ ﮔﺊ ﮨﻮﮞ۔ !!!.....

  17. Hareem Naz
    ﺍﺭﺍﺩﮦ ﺭﻭﺯ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ،
    ﻣﮕﺮ ﮐﭽﮫ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰
    ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺸﮧ ﻭﺭ ﻓﺮﯾﺒﯽ ﮨﻮﮞ ، ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟﺳﮑﺘﺎ۰۰۰
    ﺑُﺮﮮ ﮨﻮ ﯾﺎ ﮐﮧ ﺍﭼﮭﮯ ﮨﻮ ،
    ﻣﺠﮭﮯ ﺍِﺱ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﻣﻄﻠﺏ
    ﻣﺠﮭﮯ ﻣﻄﻠﺐ ﺳﮯ ﻣﻄﻠﺐ ﮨﮯ ،
    ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻟﮍ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰
    ﯾﮩﺎﮞ ﮨﺮ ﺩﻭﺳﺮﺍ ﺍﻧﺴﺎﮞ ﺧُﺪﺍ ﺧﻮﺩ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﺘﺎ ہے
    ﺧُﺪﺍ ﺑﮭﯽ ﻭﮦ ﮐﮧ ﺟﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﯽ
    ﺟﮭﻮﻟﯽ ﺑﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰.
    ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﺳﮯ ﺻﺎﻑ ﮐﮩﺘﺎ ﮨﻮﮞ
    ﻣﺠﮭﮯ ﺗﻢ ﺳﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺍُﻟﻔﺖ
    ﻓﻘﻂ ﻟﻔﻈﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮨﮯ
    ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﭘﮧ ﻣﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰
    ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﻣﺴﺎﻓﺖ ﻧﮯ ﺑﮩﺖ ﺯﺧﻤﯽ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﮫﮐﻮ۰۰۰
    ﺍﺑﮭﯽ ﯾﮧ ﺯﺧﻢ ﺑﮭﺮﻧﮯ ﮨﯿﮟ،
    میں ﺁﮨﯿﮟ ﺑﮭﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰
    ﺑﮭﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺎ،
    ﻣﮕﺮ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺗﻮ ﭼﺎﮨﺎ ﮨﮯ
    ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﯾﺎﺩ ﮐﻮ ﺩﻝ ﺳﮯ ﺗﻮ ﺑﺎﮨﺮ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰
    ﻧﺠﺎﻧﮯ ﺁﺩﻣﯽ ﮐﯿﻮﮞ ﺁﺩﻣﯽ
    ﺳﮯ ﺧﻮﻑ ﮐﮭﺎﺗﺎ ﮨﮯ 
    ﺟﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ ﮈﺭﺗﺎ ﮨﻮ
    ﮐﺴﯽ ﺳﮯ ﮈﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰
    ﺍﺭﮮ ﺍﻭ ﻋﺸﻖ ! ﭼﻞ ﺟﺎ ﮐﺎﻡ ﮐﺮ ﮐﺲ ﮐﻮ ﺑﻼﺗﺎ ﮨﮯ۰۰۰
    ﺣُﺴﻦ ﺑﺎﺯﺍﺭ ﻣﯿﮟ ﺑِﮑﺘﺎ ﮨﮯ
    ﺳُﻮﻟﯽ ﭼﮍ ﮪ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰
    ﯾﮩﺎﮞ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﭼﮩﺮﮮ ﭘﺮ ﺍﻟﮓ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﻟﮑﮭﯽ ﮨﮯ
    ﻣﺮﯼ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﮨﯿﮟ۰۰۰
    ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﭘﮍﮪ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰
    ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﺍﺕ ﮐﯽ ﺯُﻟﻔﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺩ ﭼﺎﻧﺪﯼ ﺳﺠﺎﺗﺎ
    ﮨﻭﮞ۰۰۰
    ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺎﻧﮓ ﻣﯿﮟ
    ﻭﻋﺪﻭﮞ ﮐﮯ ﮨﯿﺮﮮ ﺟﮍ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰
    ﺑﮭﻠﮯ ﺟﮭﻮﭨﺎ، ﻣﻨﺎﻓﻖ ﮨﻮﮞ،
    ﺑﮩﺖ ﺩﮬﻮﮐﮯ ﺩﯾﮯ ﻟﯿﮑﻦ
    ﻣﺤﺒﺖ ﮐﯽ ﺻﺪﺍ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ ،
    ﻣﯿﮟ ﺩﮬﻮﮐﮧ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰
    ﻣﯿﮟ ﺍُﺱ ﮔﮭﺮ ﮐﺎ ﻣﻘﯿﻤﯽ ﮨﻮﮞ
    ﺟﺴﮯ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ۰۰۰
    ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽﺣﺪ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ
    ﺳﻮ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ۰۰۰
    ﺍﺑﮭﯽ ﮐﭽﮫ ﺷﻌﺮ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ
    ﻣﮕﺮ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﺮ ﮔﺰ
    ﮐﺴﯽ ﮐﯽ ﻻﺝ ﺭﮐﮭﻨﯽ ﮨﮯ، ﺳﻮ ﻇﺎﮨﺮ ﮐﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺳﮑﺘﺎ!!!..
  18. Hareem Naz
    نہ ستاتی، نہ رُلاتی، نہ تڑپاتی، نہ جلاتی
    زندگی یونہی گزر جاتی تو کتنا اچھا تھا
    فراق کے لبادے اوڑھاتی
    نہ جدائیوں کے رستے دکھاتی
    تمنائیں سر نہ اٹھاتیں
    جذبات ہلچل نہ مچاتے
    یونہی ندی شور مچاتی
    کوئل کوکتی تو کتنا اچھا تھا
    نہ وقت کا ضیاع ہوتا
    نہ کچھ کھونے کا گماں ہوتا
    یہ زمانہ اور سماج ہوتا
    نہ رسمیں ہوتیں نہ رواج ہوتا
    پھول بگھیا میں کھلتے
    بھنورے گنگناتے تو کتنا اچھا تھا
    یہ زندگی اپنے ہی نام ہوتی
    من بھی اپنا پاسدار ہوتا
    وفا کی چاہت ہوتی
    نہ بےوفائی کا ڈر ہوتا
    یونہی پرندے شور کرتے
    اڑان بھرتےتو کتنا اچھا تھا
    زندگی یونہی گزر جاتی تو کتنا اچھا تھا
    یہ دل،
    دل ہی رہتا تو کتنا اچھا تھا

  19. Hareem Naz
    میں کسے سنا رہا ہوں یہ غزل محبتوں کی
    کہیں آگ سازشوں کی ، کہیں آنچ نفرتوں کی
    -
    کوئی باغ جل رہا ہے ، یہ مگر مری دعا ہے
    مرے پھول تک نہ پہنچے یہ ہوا تمازتوں کی
    -
    مرا کون سا ہے موسم مرے موسموں کے والی!
    یہ بہار بے دلی کی ، یہ خزاں مروتوں کی
    -
    میں قدم بام و در میں انہیں جا کے ڈھونڈتا ہوں
    وہ دیار نکہتوں کے ، وہ فضائیں چاہتوں کی
    -
    کہیں چاند یا ستارے ہوئے ہم کلام مجھ سے
    کہیں پھول سیڑھیوں کے ، کہیں جھاڑیاں پتوں کی
    -
    مرے کاغذوں میں شاید کہیں اب بھی سو رہی ہو
    کوئی صبح گلستاں کی ، کوئی شام پربتوں کی
    -
    کہیں دشت دل میں شاید مری راہ تک رہی ہو
    وہ قطار جگنوں کی ، وہ مہک ہری راتوں کی
    -
    یہ نہیں کہ دب گئی ہے کہیں گرد روز و شب میں
    وہ خلش محبتوں کی ، وہ کسک رفاقتوں کی

  20. Hareem Naz
    آخری بار ملو ایسے کہ جلتے ہوئے دلراکھ ہوجائیں، کوئی اور تقاضا نہ کریںچاک وعدہ نہ سِلے، زخمِ تمنّا نہ کِھلےسانس ہموار رہے شمع کی لَو تک نہ ہِلےباتیں بس اتنی کہ لمحے انہیں آکر گِن جائیںآنکھ اٹھائے کوئی اُمید تو آنکھیں چھن جائیںاس ملاقات کا اس بار کوئی وہم نہیںجس سے اِک اور ملاقات کی صورت نکلےاب نہ ہیجان و جنوں کا، نہ حکایات کا وقتاب نہ تجدید وفا کا، نہ شکایات کا وقتلُٹ گئی شہرِ حوادث میں متاعِ الفاظاب جو کہنا ہے تو کیسے کوئی نوح کہیےآج تک تم سے رگِ جاں کے کئی رشتے تھےکل سے جو ہو گا اُسے کون سا رشتہ کہیےپھر نہ دہکیں گے کبھی عارض و رخسار، مِلوماتمی ہیں دِم رخصت درو دیوار، ملوپھر نہ ہم ہوں گے، نہ اقرار، نہ انکار، مِلوآخری بار مِلو

  21. Hareem Naz
    اسے میں کیوں بتاؤں !!
    میں نے اس کو کتنا چاہا ہے؟
    بتایا جھوٹ جاتا ہے !!!
    کہ سچی بات کی خوشبو!!
    تو خود محسوس ہوتی ہے!!!
    میری باتیں، میری سوچیں
    اسےخود جان جانے دو!!!
    ابھی کچھ دن مجھے میری محبّت آزمانےدو!!!!
    اگر وہ عشق کےاحساس کو پہچان نہ پاۓ!!
    مجھے بھی جان نہ پاۓ !!!!
    تو پھر ایسا کرو اے دل......!!
    خود گمنام ہو جاؤ !!!!
    مگر اس بے خبر کو مسکرانے دو...!
    ابھی کچھ دن .....!!
    مجھے میری محبّت آزمانے دو..

  22. Hareem Naz
    بڑے انجان موسم میں
    بہت بے رنگ لمحوں میں
    بنا آہٹ ، بنا دستک
    بہت معصوم سا سپنا
    اُتر آیا ہے آنکھوں میں
    ...بنا سوچے ، بنا سمجھے
    کہا ہے دل نے چُپکے سے
    ہاں اس ننھے سے سپنے کو
    آنکھوں‌ میں جگہ دے دو
    بنا روکے ، بنا ٹوکے
    رگوں کا خون بننے دو
    سانسوں میں مہکنے دو
    ہمیشہ کی طرح‌ اب بھی
    بنا اُلجھے ، بنا بولے
    جُھکا دیا ہے سر ہم نے
    مگر تعبیر کیا ہو گی؟
    یہ ہم جانیں نہ دل جانے
    بس معلوم ہے اتنا
    کہ دل کے فیصلے اکثر
    ہمیں کم راس آتے ہیں

  23. Hareem Naz
    دل یوں دھڑکا  کہ پریشاں ھوا ھو جیسے
    کوئی بے دھیانی میں نقصان ھوا ھو جیسے
     
    رخ بدلتا ھوں تو شہ رگ میں چبھن ھے
    عشق بھی جنگ کا میدان، ھوا ھو جیسے
    ...
    جسم یوں لمس رفاقت کے اثر سے نکلا
    دوسرے دور کا ساماں ۔۔۔۔ھوا ھو جیسے
     
    دل نے یوں پھر میرے سینے میں فقیری رکھ دی
    ٹُوٹ کرخود ہی پشیماں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ھوا ھو جیسے
     
    تھام کر ہاتھ میرا ایسا وہ رویا ۔۔۔۔ محسن
    کوئی کافر سے مسلماں ھوا ھو جیسے

  • Recently Browsing   0 members

    • No registered users viewing this page.
×
×
  • Create New...